Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

ہٹ دھرمی تکبر کی پیداوار ہے !

اپنے ابنِ زیاد اور بیغیرت گماشتہء اول کی سربراہی میں یزید عاصم منیر نے عمران خان کی تحریکِ انصاف کے ساتھ مذاکرات کا جو ڈرامہ، اصل میں ڈھونگ رچایا تھا وہ ناکام ہوگیا۔ ایسے ڈھونگ کو ناکام تو ہونا ہی تھا اسلئے کہ تحریکِ انصاف نہ صرف اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے، ایک یزیدی نظام کے خلاف، بلکہ وہ پاکستان کے مستقبل اور جمہوریت کی جنگ بھی لڑ رہی ہے !عاصم منیر بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور یوں ہے کہ اول تو وہ بزدل اور بلا کا کائر ہے۔ دوسرے وہ جس فسطائیت کو ملک و قوم پر مسلط رکھنا چاہتا ہے تحریکِ انصاف کو، عمران خان کی رہنمائی میں، اس کی ہولناکی کا بخوبی احساس ہے کہ یہ فسطائیت ملک کے مستقبل کو معرضِ خطر میں ڈال رہی ہے اور پاکستان کے بقاء کی جڑیں کھود رہی ہے !
عاصم منیر نے اپنا یہ ناٹک یوں رچایا تھا تاکہ اس لانگ مارچ کو سبوتاژ کرسکے جس کا اعلان خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کر چکے ہیں۔ یہ لانگ مارچ 7 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا اور اس کا آغاز اتوار 4 اکتوبر سے ہوچکا ہے اور خیبر پختونخواہ کے کونے کونے سے عوامی قافلے جوق در جوق اس میں شریک ہونے کیلئے نکل پڑے ہیں!ظلم ہمیشہ بزدلوں کا شیوہ اور طریق ہوتا ہے اور یہ وطیرہ وہی بزدل اختیار کرتے ہیں جو ناجائز اقتدار پہ قابض ہوجاتے ہیں اور آج کا پاکستان اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ویسے تو پاکستان کی بدنصیبی کی تاریخ یہی ہے کہ پاکستان بنانے والے مشاہیر کا کانٹا نکالنے کے بعد ( اور یہ قبیح کام پاکستان بننے کے چار برسوں میں ہوچکا تھا) عسکری طالع آزما اس ملک پر مسلط ہوگئے۔ ستر برس سے ملت فروش جرنیلوں کا ٹولہ ملک پر قابض ہے اور جان نہیں چھوڑ رہا۔ ایک کے بعد ایک طالع آزما آتا رہا اور قوم کے صبر کو آزماتا رہا لیکن یہ موجودہ یزید اپنے شر اور فتنہ میں اپنے ہر پیشرو کو مات دے چکا ہے، اس کی نحوست کے سائے پاکستان پر دن بہ دن اور لمبے اور گہرے ہوتے جارہے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ خطرہ کی گھنٹیاں ایک بےحس قوم کو سنائی ہی نہیں دے رہیں۔ لگتا ہے کہ پاکستان کے باسیوں نے اپنے کانوں میں اتنی روئی ٹھونس رکھی ہے کہ وہ ان کی نیند کو ٹوٹنے نہیں دے رہی ۔غفلت سے بیدار ہی نہیں ہونے دے رہی!پتہ نہیں سہیل آفریدی نے پاکستانی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں اپنے لانگ مارچ کی آمد کی تاریخ 7 اکتوبر رکھی تھی یا انہیں لاعلمی میں دور کی کوڑی ہاتھ لگ گئی۔ بہر حال سات (7) اکتوبر پاکستان کے تاریخی کیلنڈر میں وہ تاریک تاریخ اور دن ہے جب پاکستان کے پہلے عسکری طالع آزما جنرل ایوب خان، جو بعد میں ویسے ہی خود ساختہ فیلڈ مارشل ہوگئے تھے جیسے یہ چھٹ بھیاء عاصم منیر ہوگیا ہے، نے پاکستان پر پہلا مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ سال تھا 1958ء۔ اس جرم میں اس وقت کا صدرِ مملکت اسکندر مرزا برابر کا شریک تھا لیکن ایوب خان کے فسطائیت کے ایجنڈا میں اسکندر مرزا کیلئے جگہ نہیں تھی۔ لہٰذا بیس دن بعد ہی اسکندر مرزا کو ایوب نے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا!ایوب نے جو روایت قائم کی تھی اس کی پیروی اس کے بعد ہر طالع آزما نے کی۔ فریقہ یہ رہا ہے کہ کٹھ پتلی سیاستدانوں کو فرنٹ مین کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ وہی کٹھ پتلیاں آج بھی عاصم منیر کیلئے ناچ رہی ہیں!ایوب نے بھٹو نام کے وڈیروں کو قوم پر مسلط کیا اور وہی وڈیرہ شاہی آج بھی ڈکیت آصف زرداری کی سربراہی میں سندھ پر مسلط ہے اور مرکز میں کٹھ پتلی حکومت میں برابر کی شریک ہے!ضیا الحق نے لاہورکے کم ذات لوہاروں کو، جو نام کے شریف ہیں، گمنامی سے نکال کر مسندِ اقتدار پہ بٹھایا تھا اور وہ دن اور آج کا دن یہ چور خاندان پاکستان کو ہر طرح سے نوچتا آیا ہے۔ کھاگئے یہ بھٹو اور نام کے شریف پاکستان کو۔ دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے انہوں نے قوم کو اسلئے کہ ان کے آقاء عسکری طالع آزماؤں کو انہیں کے جیسے بے ضمیر اور بے غیرت سیاستدان بہت بھاتے ہیں جن کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کیا جاسکے!عمران خان کا یہی تو سب سے بڑا جرم تھا، یزیدی جرنیلوں کی نظر میں، کہ اس نےان کی کٹھ پتلی بننے سے انکار کیا اور اس کی یہ جسارت یزیدیوں کے نزدیک ناقابلِ معافی گناہ ہےجس کیلئے وہ اسے اپنی عقوبت کا نشانہ بنا رہے ہیں!عمران کے ساتھ یزید عاصم منیر وہی کرنا چاہ رہا ہے جو اسکے ہم قبیلہ مصر کے صدر سیسی نے مصر کے پہلے عوامی تائید سے منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی کے ساتھ کیا تھا۔ صدر مرسی کے ساتھ جیل میں ایسا سلوک کیا گیا، انہیں ایسی ایذائیں پہنچائی گئیں کہ وہ ایک سال کے اندر اندر جیل میں ہی ہلاک ہوگئے۔ اور ظالم سیسی نے انہیں ایک گمنام قبر میں دفن کردیا تاکہ ان کی کوئی نشانی باقی نہ رہے!عمران خان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ قیدِ تنہائی میں پاکستانی عوام کے مقبول ترین لیڈر کو رکھا جارہا ہے۔ عمران کی صحت کو تباہ کرنے کی باقاعدہ کوششیں ہورہی ہیں۔ اس کی ایک آنکھ کی بینائی زائل ہوچکی ہے۔ دوسری آنکھ بھی مسائل کا شکار ہے۔یزیدی نظام اس طرح سے ملک کو جکڑ چکا ہے کہ عدالتیں یزید عاصم منیر کی غلام اور تابعدار ہوگئی ہیں اور ان کا ہر فیصلہ جی ایچ کیو میں لکھا جاتا ہے۔ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ ویسے ہی ابتدا سے داغدار رہ چکی ہے لیکن اب تو ججوں نے اخلاقی گراوٹ کی وہ مثالیں قائم کی ہیں کہ سبحان اللہ!نہ یزید کو عاقبت کا کوئی خوف ہے نہ اس کے تابع فرمان ججوں کو۔ حیرت ہوتی ہے یہ پڑھے لکھے ہونے کے دعویدار ہیں لیکن ان کی آنکھوں پر ایسی چربی چھائی ہوئی ہے کہ یہ اس دنیا کی شان و شوکت کو ابدی اور دائمی سمجھ بیٹھے ہیں اور اپنی قبریں بھر رہے ہیں!
تحریکِ انصاف کے ساتھ مذاکرات اسی بات پر تو ناکام ہوئے کہ گماشتہ محسن نقوی اپنے آقا کی پیروی میں عمران خان تک نہ اس کے ساتھیوں کو رسائی دینے کیلئے آمادہ تھا نہ ہی عمران کو پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی کوئی سہولت دینے کیلئے رضامند تھا۔یہ پاکستان کا احوال ہے کہ ایک چھٹ بھئیا جس کے سیاق و سباق کا کوئی مستند حوالہ نہیں پاکستان کی تقدیر کے فیصلے کر رہا ہے۔تو یزیدی ٹولہ کو جو امید تھی کہ وہ تحریکِ انصاف کی لانگ مارچ کو منسوخ کروانے میں کامیاب رہے گی وہ تو ناکام ہوگئی لیکن محسن نقوی اور نواز لیگ کی سیاسی کٹھ پتلیوں کی دھمکیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔وہ سیاسی بونے جو وزیر بنے ہوئے ہیں آنکھیں دکھا رہے ہیں کہ اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکیاں بھی اپنی جگہ قائم ہیں بلکہ ان کی شد و مد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ کوتاہ نظر گماشتے مصر ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت دہشت گردی کے خاتمہ میں ناکام ہوچکی ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ گورنر راج ہوتے ہی دہشت گردی کا عفریت قابو میں آجائےگا۔ جبکہ حقیقت یہی ہے کہ دہشت گرد جرنیلوں کی گود کے پالے ہیں اور رسوائے زمانہ آئی ایس آئی دہشت گردی کی کار روائیوں میں پوری طرح سے ملوث ہے۔ دہشت گردی کے پردہ میں اسمگلنگ کا کاروبار عسکری سرپرستی میں ہوتا ہے۔ یہ فوج اور اس کے طالع آزماء ملت فروشی کا کاروبار دھڑلے سے کرتے ہیں اور اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ ملک کیلئے یہ ناسور بن چکے ہیں لیکن قوم ہے کہ جاگ کے نہیں دیتی اور اسی عوامی بے حسی سے طالع آزماء فائدہ اٹھاتے آئے ہیں اور اٹھا رہے ہیں!قوم کے زیادہ تر افراد کو، بلکہ غالب اکثریت کو کوئی اندازہ نہیں ہے کہ یزیدی جرنیلی ٹولہ کی ہوس اقتدار ملک کو کس دوراہے پر لیکر آگئی ہے جہاں ایک غلط قدم ملک کو تباہی کے اس غار میں دھکیل سکتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہوگا۔یہ سارا کھیل اسلئے رچایا جارہا ہے کہ یزید عاصم منیرملک کی صدارت کے منصب پر قبضہ کرنا چاہ رہا ہے۔ ملک کو نام نہاد انتظامی یونٹس میں بانٹنے کی اختراع بھی اسی ناٹک کی ایجاد ہے اور خیبر ُپختونخواہ میں گورنر راج نافذ کرنا بھی اسی زنجیر کی کڑی ہے۔ اس یزید کی ہوسِ اقتدار کیا کیا گل کھلائے گی یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔ لیکن قومی بے حسی اس کیلئے راستہ صاف کرنے میں عاصم منیر کیلئے ترپ کا پتہ ثابت ہوسکتی ہے اور اسی آسرے پر یزید کا حوصلہ بڑھ رہا ہے!تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ ہمارے اگلے ہفتہ کا اصل موضوع ہوگا لیکن ملک پر مسلط عسکری ٹولہ کی بدحواسی اور بزدلی اچھے نتیجہ کے حق میں نہیں ہے۔ اسلام آباد کو کنٹینرستان تو پہلے ہی بنا دیا گیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اس جگہ سے جہاں صوبہ خیبرپختونخواہ کی حد ختم ہوتی ہے اور پنجاب کی حد شروع ہوتی ہے شاہراہوں کو کھودنے اور ہر قسم کی روکاوٹیں کھڑی کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ آثاراچھے نہیں ہیں!
ملت فروشی ایک گناہِ عظیم ہے
اور اس کی مرتکب وہ سپاہِ زعیم ہے
ملکی مفاد ہیچ ہے جس کی نگاہ میں
اور سامراجی بندگی عزمِ صمیم ہے !

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button