Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

ایک اور لانگ مارچ!

کوئی بچہ مجھ سے پوچھ رہا تھا۔یہ شادمانی۔ کیا ہوتی ہے،یہ بچہ تھوڑی بہت اُردو جانتا ہے تو آسان الفاظ میں سمجھا دیا کہ شادمانی خوش ہونے کو کہتے ہیں،کہنے لگا ۔کیا ہم ہنس لینے کو شادمانی کہہ سکتے ہیں،میں بوکھلا سا گیا میں نے کہا کہ ہنسنے کی کوئی وجہ تو ہوگی،اس نے فوراً جواب دیا ۔کوئی لطیفہ بھی ہنسا سکتا ہے ،میں نے کہا یہ ٹھیک ہے لطیفہ ہنسا سکتا ہے مگر ہنسنا شادمانی نہیں ہے۔تو پھر شادمانی کیا ہے ۔وہ بولا ۔میں نے کہا یہ اندر کی خوشی ہوتی ہے،بچہ بولا یہ اندر کی خوشی بیس بال کھیلنے یا مووی دیکھنے سے شادمانی ہو سکتی ہے؟میں نے جان چھڑاتے ہوئے کہا کہ ہاں بیس بال کھیلنے اور کوئی مووی دیکھنے سے شادمانی ہو سکتی ہے،وہ بچے جو امریکہ میں پیدا ہوئے ہوں ان کو کیسے سمجھایا جائے کہ شادمانی ایک اندرونی کیفیت ہے،یہ سمجھاتا مشکل ہے یا میری کم علمی کہ میں سمجھا نہیں پایا ،ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا لندن میں ہواجب ہم ایک گانا سن رہے تھے اس گانے میں لفظ روگ آیا اور بچے نے پوچھ لیا کہ روگ کیا ہوتا ہے ،اور ہم آپ کو کیا بتلائیں کہ ہزار کوشش کے باوجود ہم بچے کو نہ سمجھا سکے کہ روگ کیا ہوتا ہے،کسی محفل میں بھی بیٹھے ہوں تو یہ بات کہہ کر بات کو ٹالا جا سکتا ہے کہ شادمانی خوشی کی ا ندرونی کیفیت ہے جس کا سرور تا دیر قائم رہتا ہے،اور یہی بات روگ کے حوالے سے کہی جا سکتی ہے کہ آپ نے کبھی محبت کی ہو تو پتہ چلے روگ کیا ہوتا ہے،یہ دونوں الفاظ abstract nounsہیں ،جن کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے مگر یہی الفاظ جب ہماری روز مرہ کی بول چال میں آتے ہیں تو ان کے معانی نہیں پوچھے جاتے،اور بات سمجھ لی جاتی ہے،مگر اس کا کیا کیا جائے کہ کچھ الفاط ہم دہائیوںسے استعمال کر رہے ہیں مگر ان کا مطلب سمجھ نہیں پائے اس کے باوجود کہ وہ بھی abstract nounsہیں ایک کتاب پڑھ رہا تھا مصنف کا کہنا تھا کہ طلباء کو جب abstract nounsپڑھائے جاتے ہیں تو ان کا ذہن کھلتا ہے،مثلاً اعتبار،محبت، درد،شفقت،حسد،یہ دکھانے کی چیزیں نہیں،ان کو مثالوں سے سمجھایا جا سکتا ہے،مثال کے طور پر بابائے اُردومولوی عبدالحق نے ایک بار کہا تھا کہ محبت کا مفہوم ہندوستان کو لتا منگیشکر نے سمجھایا،یہ مفہوم لغت میں موجود نہیںکیونکہ محبت کی بہت سی کیفیات ہیں ،بہر حال بات یہ ہے کہ ہمیںجمہوریت کا لفظ اس وقت ملا جب ہمارے ہندوستان میں جمہوریت نہیں تھی،شوکت تھانوی لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں جب جمہوریت کا لفظ بولا گیا تو شائد ہندوستان کی آدھی آبادی رات کو سو نہ سکی ہوگی کہ جمہوریت کیا بلا ہے آج سے پہلے تو اس کا نام نہیں سناکچھ تو یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو رہے تھے کہ انگریز یہ کوئی چیز بنا کر لے آئے ہیں جس کو بیچ کر وہ ہندوستان کو لوٹیںگے کسی کسی نے تو جمہوریت کو انگریزی چڑیل سمجھ لیااور کچھ نے جمہوریت کو غیبت، مصیبت،ہزیمت،قسم کی چیز سمجھ لیاشوکت تھانوی نے جو آج سے ساٹھ سال پہلے لکھا وہ سب سچ تھا ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پہنچا ہوا فقیر مستقبل کو اپنے کاسہ میں دیکھ رہا ہے اور لکھ رہا ہے یہ سچ ہے کہ جمہوریت ہندوستانیوں کے لئے ریڈیو ، کیمرہ اور ٹیلی فون جیسی چیز تھی جو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھے جب گاندھی ،جناح، پٹیل اور نہرو کی سمجھ میں آگئی تو ہندوستانیوں نے چین کی سانس لی، چین کا سانس تو لے لیا مگر جمہوریت آج تک سمجھ نہیں آئی تو یہ بات بھی سچ ہو گئی کہ جمہوریت کوئی انگریزی چڑیل ہے جو ہندوستان کو چمٹ گئی ہے ،ہندوستان نے تو جیسے تیسے گزارا کر لیا مگر پاکستان میں یہ انگریزی چڑیل مولوی کی شکل میں پاکستان کو چمٹ گئی، اور پاکستان کا وڈیرہ کلف کی شلوار پہن کر ماشا اللہ،الحمد اللہ،کا رود کرتے ہوئے عوام کو یقین دلا رہا ہے کہ یہ چڑیل بہت مقدس ہے اور اس کی وجہ سے ملک پر خدا کی رحمتیں نازل ہونگی اندازہ لگائیے کہ 78سالوں سے پاکستانی قوم کو نہ جمہوریت کا مطلب سمجھ آیا ہے نہ یہ اسلام کی الف ب جانتے ہیں اور جن چیزوں کے بارے میں جانتے نہیں ان کے لئے مرے جا رہے ہیں،حیرت یہ ہے کہ ایلیٹ کلاس نے عوام کو سمجھا دیا ہے کہ اس ملک کا ایک آئین ہے ،عوام میں 95%نے آئین نہیں پڑھا، نابالغ میڈیا سات بجے کے بعد جن وکیلوں کو ماہرِ آئین و قانون پکارتا ہے وہ آئین کی تشریح نہیں کر پاتے ،اور ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان پڑھ عوام بیچاروںکی طرح ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہیں وہ کچھ نہ سمجھ پائیںگے،اور میڈیا کا یہ سرکس جاری رہے گا،جیسے سیلاب میں آج تک کبھی کوئی وڈیرہ یا جاگیر دار نہیں ڈوبا اسی طرح پاکستان میں آج تک کسی جج، اور جرنلسٹ کا احتساب نہیں ہواجنرل کتنے ہی بڑےکیوں نہ ہوں ان کا احتساب ہوا کئی جنرلز کو sack کیا گیا، جج اور جرنلسٹ وہ مخلوق ہیں جو untouchablesہیں،چند دن پہلے کی ویڈیو میں جیو کے حیدر شیرازی مبینہ طور پرایک پولیس آئی جی سے پوچھ رہے ہیں کہ کسی حادثے میں سو آدمی مارے گئے ہیں اور حیدر شیرازی کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیںہے اور اگر ثبوت مانگا جائے تو کہا جائے گا کہ صحافی اپنا سورس discloseنہیں کرتا ،اب سوال یہ ہے کہ وہ عوام جو جمہوریت ،آئین اور اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اسے پاکستان کا ایلیٹ کلاس مستقل بے وقوف بنا رہا ہے،جس میں جج، جنرل اور جرنلسٹ شامل ہے جیو کے مظہر عباس اپنے تبصرے میں ہر کڑوی بات کہہ جاتے ہیں مگر واویلا میڈیا پر پابندی کا ہے،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ سندھ میںبلدیاتی ادارے کتنا کام کر رہے ہیں مظہر عباس کے پی کے بلدیاتی اداروں کی بات بھی نہیں کرتے،رہی بات بلوچستان کی تو وہاں پر کوئی صحافی جاتا ہی نہیں، اگست میں پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا،اور کہا تھا کہ 27ستمبر کو لانگ مارچ کریں گے مطالبے وہی تھے عمران سے ملاقات، عمران کی صحت، کبھی رسائی سے رہائی اور کبھی رہائی سے رسائی تک،کے پی کے صوبائی اسمبلی کے نمائندگان کہتے ہیں کہ ہمیں ووٹ عمران کی رہائی کا ملا ہے،ہم بتا چکے ہیں کہ الیکشن لڑتے وقت کسی کے منشور میںعمران کی رہائی شامل نہیں تھا جب ان نمائیندگان نے حلف اٹھایا تب بھی یہ نہیں کہا کہ حلف میں عمران کی رہائی کا جملہ بڑھایا جائے حلف آئین کے تحت ہوا،حکومت نے سخت وارننگ دی کہ پرُتشدد مارچ کو ہر صورت روکا جائے گا،ہوایہ کہ مارچ مؤخرہوا اور اپوزیشن و حکومت کے درمیان مذاکرات کا ڈول ڈال دیا گیا، مذاکرات ہوئے اتوار کی صبح میڈیا نے خوش خبری سنا دی کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے مگر شام کو پتہ چلا کہ ڈیڈ لاک ہے اور پھر خبر دی گئی کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں،دو پراگراموں میں جیو کے سلیم صافی نے کہا کہ کے پی میں دو صوبے ہیں ایک پر سہیل آفریدی کی حکمت ہے اور دوسرے صوبے پر طالبان کی حکومت ہے،چند دن پہلے سلیم صافی نے پھر کہا کہ گیارہ اضلاع میں طالبان (ٹی ٹی پی )کی حکومت ہے اور 37 اضلاع پر سہیل آفریدی کی،مذاکرات کی کامیابی کی خبر ملی تو یہ بھی خبر ملی کہ پانچ اضلاع میں جہاں ٹی ٹی پی کی عمل داری ہے وہاں ایمرجنسی لگے گی اور آپریشن ہوگا،ٹی ٹی پی کو یہ منظور نہ تھا اور سہیل آفریدی نے کچھ اضافی مطالبات سامنے رکھ کر مذاکرات کو زبوتاژ کر دیا اور لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کر دی گئی،دو سال پہلے ہم نے لکھا تھا عمران کی کوئی سیاسی پالیسی افغانستان کی مرضی کے خلاف نہیں بنے گی ہم نے وا شگاف الفاظ میں یہ بھی لکھا تھا کہ عمران کی طاقت پختون، پاکستانی طالبان،وہ افغانی جو اب پاکستانی شہری بن گئے ہیں،افغانی حکومت اور مبینہ طور پر ٹی ٹی پی اور داعش ہیں،اور اب سہیل آفریدی کے طرزِ عمل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے،شیر افضل مروت بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بارہ اضلاع ٹی ٹی پی کے زیر اثر ہیں،پی ٹی پی کے سکریٹری اطلاعات شوکت زئی جنہوں نے لانگ مارچ کی مخالفت کی تھی اب کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کا معاملہ مل بیٹھ کر حل کر لیا جائے مگر کھل کر نہیں کہہ رہے کہ حکومت پاکستان کو ٹی ٹی پی سے بات لینی چاہیئے،ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں ،مذاکرات کی ناکامی کے بعد سلمان اکرم راجہ،اسد قیصر،عامر ڈوگر،اور راجہ ناصر عباس نے مولانا سے بات چیت کی ہے مجھے کہنے دیجیئے کہ مولانا کو بھی ٹی ٹی پی سے خوف آتا ہے وہ پی ٹی آئی کا ساتھ تو نہیں دینگے مگریہی کہیں گے کہ آپریشن نہ کیا جائے، اگر مولانا آپریشن پر تیار ہو جاتے ہیں تو ٹی ٹی پی ان کو نہیں بخشے گی،اگر آپریشن ہوتا ہے تو ٹی ٹی پی کو افغانستان کی مدد حاصل ہوگی اور حا لتِ حال خراب ہو سکتی ہے حال میں ہی افغانستان نے پاکستان پر ڈرون حملے بھی کئے ہیںاور یہی کہا جا رہا ہے کہ ان حملوں کی پشت پر بھارت کھڑا ہے،یہ صورتِ حال بہت پیچیدہ ہے آج عالمی عدالت نے چار افغانی عہدیداروں کے خلاف وارنٹ جاری کر دئے جن پر خواتین کے ساتھ دل خراش سلوک کرنے کا الزام ہے مگر میرا خیال ہے کہ افغان حکومت اس دباؤ میں نہیں آئے گی اور اپنا رویہ تبدیل نہیں کرے گی حکومت کی جانب سے کے پی میں گورنر راج لگانے یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں،لگتا یہی ہے کہ صوابی میں آخری پڑاؤ کے بعد سہیل آفریدی اسلام آباد کا رخ کرینگے اور تصادم ہوگا ادھر کور کمانڈر کانفرنس میں واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ نو مئی والی صورتِ حال اگر ہوئی تو اس کو کچل دیا جایئگا،حکومت نے پوری تیاری کرلی ہے،مجھے افسوس ہے کہ سلمان اکرم راجہ سب کچھ جانتے ہوئے حالات کو بگڑتا ہوا دیکھ رہے ہیں ،اگر تصادم ہوا تو خون ریزی کا خطرہ ہے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیئے،تصادم میں قیادت ہمیشہ محفوظ رہتی ہے عام کارکن مارا جاتا ہے جس کی قربانی کو جلد ہی بھلا دیا جاتا ہے پی ٹی آئی کو ہوش کے ناخن لینا چاہیئے ،لانگ مارچ کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے ختم ہونا چاہیئے،لانگ مارچ ہرگز ملک میں جمہوریت نہیں لا سکتی اور نہ ہی لانگ مارچ آئین کی عمل داری کو یقینی بنا سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button