کیا امریکی شہر واقعی ’’چھوٹی قیمت‘‘ ہیں؟

5 اکتوبر 2026 کو نیبراسکا میں ایک ریلی کے دوران صدرٹرمپ نے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کے بارے میں کہا کہ ایران انہیں’’take out‘‘کر سکتا ہے اور جنگ کی معاشی قیمت کو ایک ’’چھوٹی قیمت‘‘قرار دیا۔اگرچہ ان کا یہ جملہ مبہم اور گمراہ کن انداز میں سمجھا جا سکتا تھا۔لیکن سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے مسئلہ اپنی جگہ سنگین ہے۔ اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نےایران جنگ کے باعث تیل کی بلندقیمتوں کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ یہ دنیا اور امریکہ کو محفوظ رکھنے کی قیمت ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ یہ قیمت تھوڑی زیادہ ہے لیکن دنیا کو اور اپنے ملک کے جان و مال کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بہت معمولی قیمت ہے۔انھوں نے اپنے مؤقف کے دفاع میں یہاں تک بھی کہا کہ وہ ایران کے ایک شہر کو ختم کرسکتے ہیں۔ اُنھیں لاس اینجلس کو ختم کرنے دیں، انھیں سان ڈیاگو کو ختم کرنے دیں۔ یہ بہت معمولی قیمت ہے اور یہ جنگ کا سلسلہ بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔صدر ٹرمپ کی تقریر کے ان الفاظ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ۔پھراپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ہاتھوں امریکی شہروں کو تباہ کئے جانے کی بات کررہے ہیں۔کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا کہ صدر ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ غیر ملکی دشمن لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ختم کردیں جبکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ کسی امریکی شہر کی جوہری تباہی مذاق کا موضوع نہیں۔
کسی بھی امریکی صدر کا یہ انداز اختیار کرنا کہ دو کروڑکی آبادی والے شہر ممکنہ جنگی نقصان کے طور پر ’’قابلِ قبول قیمت‘‘ہیں، عوام کے تحفظ کے بنیادی تصور سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کیلیفورنیا کے رہنماؤں اور بعض ریپبلکنز نے بھی اس بیان پر سخت اعتراض کیا۔ بعد میں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ’’ ٹرمپ نے حملہ کرنے کی اپیل نہیں کی تھی ،اِ سے ایران کو امریکی شہروں پر حملے کی باقاعدہ دعوت کہنا درست نہیں، ان کا مقصد ایران کو حملے کی دعوت دینا نہیں بلکہ امریکہ کا ایران کو ایسی صلاحیت حاصل کرنے سے روکناتھا‘‘مزید وضاحت کی اورکہا’’صدر ٹرمپ کامطلب یہ تھا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جنگ کررہا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایران ان شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتا تھا‘‘۔
ٹرمپ کے الفاظ بہرحال انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور تشویش ناک تھے۔اپنے ہی ملک کےشہروں کی تباہی کو معمولی قیمت قرار دینا کسی بھی صورت اچھی صدارتی زبان نہیں۔ جنگ میں طاقت کا مظاہرہ ضروری سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ذمہ دار قیادت کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان اور مال کی حفاظت کرے۔سوال ریاستی طاقت، جنگی بیانیے اور شہریوں کی جان کی قدر کا ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی ایک بڑی طاقت کے صدر کو اپنے ہی شہروں کی تباہی کو ’’چھوٹی قیمت‘‘ کے انداز میں بیان کرنا چاہیے؟۔ایک صدر کے الفاظ کبھی صرف الفاظ نہیں ہوتے، ان کے پیچھے ریاست کی طاقت، جنگ کی سمت اور کروڑوں انسانوں کی سلامتی کا سوال چھپا ہوتا ہے۔ اسی لیےنیبراسکا کے شہر گرینڈ آئی لینڈ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ریلی میں ایران اور امریکی شہروں کے بارے میں کہے گئے چند جملوں نے امریکہ میں ایک نیا سیاسی اور اخلاقی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ کسی امریکی شہر کو نشانہ بنا سکتا ہے اور پھر لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کے نام لیے، ساتھ ہی اسے ’’بہت چھوٹی قیمت‘‘ قرار دیا۔مگر یہاں ایک بنیادی مسئلہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا ایک امریکی صدر کو یہ زبان استعمال کرنی چاہیے تھی؟جواب صاف اورواضح طور پر ’’نہیں‘‘ ہوگا۔لاس اینجلس اور سان ڈیاگو محض نقشے پر بنے دو نقطے نہیں ہیں۔ یہ امریکہ کے بڑے شہری مراکز، لاکھوں لوگوں کے گھر، معیشت، تعلیم، تجارت اور ثقافت کے مراکز ہیں۔ کسی بھی قومی رہنما کی زبان میں ایسے شہروں کا ممکنہ تباہی کے ساتھ تذکرہ اور اسے ’’چھوٹی قیمت‘‘ کہنا عوام کے احساسِ تحفظ کو مجروح کرتا ہے۔ لاس اینجلس کی میئر کیرن باس اور سان ڈیاگو کے میئر ٹوڈ گلوریا سمیت کیلیفورنیا کے رہنماؤں نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیا۔
جنگی سیاست کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ رفتہ رفتہ انسانی جانیں اعداد و شمار میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ پہلے کہا جاتا ہے کہ قیمت چند ارب ڈالر ہے، پھر چند فیصد مہنگائی، پھر چند جانیں، اور آخرکار پورے شہر بھی ’’قیمت‘‘ بن جاتے ہیں۔ لیکن ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنی تباہی برداشت کر سکتی ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ کتنی تباہی کو روک سکتی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی امریکی پالیسی پر اختلاف ہو سکتا ہے۔ کوئی اسے قومی سلامتی کی ضرورت قرار دے سکتا ہے اور کوئی اسے جنگ کے دروازے کھولنے والی حکمتِ عملی سمجھ سکتا ہے۔ خود ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وائٹ ہاؤس نے بھی حالیہ بیانیے میں اسی نکتے کو مرکزی دلیل بنایا ہے۔لیکن قومی سلامتی کا دفاع اور شہریوں کی ممکنہ ہلاکت کو معمولی سمجھنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ایک ذمہ دار صدر جنگ کی ضرورت پر دلیل دے سکتا ہے، دشمن کو روکنے کی طاقت دکھا سکتا ہے، حتیٰ کہ سخت ترین زبان بھی اختیار کر سکتا ہے، مگر اسے یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ اس کے اپنے شہری ’’قابلِ قربانی‘‘ ہیں۔ صدر کا اولین فرض جنگ جیتنا ہی نہیں، جنگ کے خطرے کو اپنے عوام سے دور رکھنا بھی ہے۔اس واقعے کا دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ریلی میں موجود بعض حامیوں نے ان الفاظ پر خوشی کا اظہار کیا، اور یہی منظر امریکی سیاست کے بدلتے ہوئے مزاج پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر سیاسی وابستگی انسان کو اپنے ہی ملک کے کسی شہر کی ممکنہ تباہی پر تالیاں بجانے تک لے جائے تو مسئلہ صرف ایک سیاست دان کے بیان کا نہیں رہتابلکہ مسئلہ معاشرے کے اندر جنگ کی زبان کے معمول بن جانے کا ہوتا ہے۔ٹرمپ شاید ایک مختلف بات سمجھانا چاہتے تھے، لیکن صدارتی منصب میں نیت سے زیادہ الفاظ کی ذمہ داری اہم ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ پہلے ہی شدید کشیدگی پیدا کر چکی ہو، ہر لفظ عالمی منڈی، عوامی خوف اور سفارتی ماحول پر اثر ڈال سکتا ہے۔لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ نے قانونی معنوں میں ایران کو امریکی شہروں پر حملے کی دعوت دی یا نہیں۔ تاریخ نے یہی بتایا ہے کہ جنگیں اکثر نعروں سے شروع ہوتی ہیں، مگر ان کا حساب انسان دیتے ہیں۔ قیادت وہ نہیں جو خطرے کو معمولی بنا دے بلکہ قیادت وہ ہے جو خطرے کو سمجھتے ہوئے بھی اپنے عوام کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ امریکی شہروں کی سلامتی کوئی ’’قیمت‘‘ نہیںیہی تو وہ مقصد ہے جس کے لیے ہر جنگ کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔



