Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ!

سعودی عرب اور یمن کی حکومت نے پیر کے روز ایک مشترکہ حملے میں حوثیوں سے باب المندب واپس لینے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ البتہ فضائی برتری کی وجہ سے اتحادی افواج کو کچھ کھوئے ہوے علاقے واپس مل گئے۔سعودی حکام کی مہیا کردہ اطلاعات کے مطابق انکی افواج نے ساحلی شہر دھباب پر قبضہ کر لیا ہے اور حوثیوں کے اس علاقے سے زمینی رابطے ختم کر دیئے ہیں۔
باب المندب عالمی تجارت میں اس لیے کلیدی حیثیت اختیار کر گیاہے کہ مارچ میںایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدو رفت پر پابندی لگانے کے بعد سعودی عرب نے اس آبی راستے کے ذریعے اپنا تیل ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس اعتبار سے اس بحری راستے کو سعودی عرب کی معیشت میں خاصی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ حوثی جنگجو جو یمن کے دارلخلافے ثنا اور بیشتر شمالی علاقوں پر قابض ہیںنے جولائی میں باب المندب پر حملے شروع کئے اور سعودی عرب کے جہازوں کی آمدورفت پر پابندی لگا دی۔ حوثیوں کے اعلان کے مطابق دیگر تمام ممالک کے جہاز اس آبی راستے سے گذر سکتے ہیں مگرسعودی عرب کو اسے استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔ باب المندب کا آبی راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔اس راستے سے عالمی تجارت کا دس فیصد حصہ ہر روز گذرتا تھا۔گذشتہ مہینے حوثیوں نے ایک برق رفتار حملہ کر کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس حملے میں یمن اور سعودی عرب کی افواج کو جو ہزیمت اٹھانا پڑی اسکی خبریں مغربی ذرائع ابلاغ میںاور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔سات اکتوبر کے نیو یارک ٹائمز کے مطابق حوثیوں کے مذکورہ بالا حملے سے پہلے یمنی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق صالح نے سعودی عر ب اور امریکی حکام کو اطلاع دی تھی کہ حوثی باب المندب پر حملے کی تیاری کر رہے ہیںلیکن ان میں سے کسی نے بھی اس پر توجہ نہ دی۔ حوثیوں کے باب المندب پرقبضے کے نتیجے میںایسے واقعات نے جنم لیا ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ فروری کے مہینے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جو حملہ کیا تھا اس کے پیدا کردہ بحران نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
رواں ہفتے میں سعودی عرب اور یمن حکومت کی افواج نے ملکر باب المندب کے مضافات میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئی فضائی حملے کئے۔اسکے نتیجے میں یمن حکومت نے اپنے کھوئے ہوے بیشتر علاقوں کو واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ان حملوں میں امریکہ نے یمن حکومت کو انٹیلی جنس معلومات مہیا کی تھیں۔ گذشتہ ماہ سعودی حکمران محمدبن سلیمان نے دو مرتبہ فون پر صدر ٹرمپ سے حوثیوں پر براہ راست حملے کا مطالبہ کیا لیکن امریکی صدر نے انکارکر دیاتھا۔ امریکہ ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ میں الجھنے کے بعد اب کسی بھی نئے محاذ پر مہم جوئی کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ سعودی عرب اور یمن کی افواج واضح فضائی برتری کے باوجود حوثیوںکوشکست نہیں دے سکتیں۔ پاکستان میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر صحافی اور تجزیہ نگار اعجاز حیدر نے پانچ اکتوبر کے فرائیڈے ٹائمز میں Four Military Options in Yemen—None Worksکے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے۔ اسکا لب لباب یہ ہے کہ سعودی عرب‘ ترکی اور پاکستان کے ساتھ ملکر بھی حوثی ملیشیا کو شکست نہیں دے سکتا اس لیے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایران کی مدد سے کوئی سفارتی حل تلاش کیا جاناچاہئیے۔پاکستان کو یمن کی جنگ سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوے اعجاز حیدر نے لکھا ہے” Getting dragged into a Saudi war in Yemen would be an egregious folly” یعنی یمن میں سعودی عرب کی جنگ میں گھسیٹے جانا پاکستان کی شدید حماقت ہو گی۔ حوثی یا انصاراللہ کے ناقابل شکست ہونے کی وجوہات گنواتے ہوے اعجاز حیدر نے لکھاہے کہ جن علاقوں میں یہ جنگ لڑی جائے گی وہ اونچے پہاڑوں اور گہری کھائیوں سے اَٹے ہوے ہیں۔ انصاراللہ کے جنگجو برسوں سے ان علاقوں میں آمدو رفت رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف ان سے واقف ہیں بلکہ انہیں مہارت سے استعمال کر کے دشمن کو بھاری جانی نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ اس قسم کے دشوار گذار راستوں میں حملہ آور فوج کو خوراک‘ پانی‘ اسلحہ اور ادویات پہنچانا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ انصاراللہ ڈرونز اور بیلسٹک میزائل بنانے اور استعمال کرنے میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔ اعجاز حیدر کی رائے میں ایران نے اگر ان ہتھیاروں کو استعمال کرکے ایک عالمی طاقت کو دیوار سے لگا دیا ہے تو مکہ دفاعی معاہدے کے اتحادی ممالک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ حوثیوںکو انکی پسند کے میدان جنگ میں شکست دیں گے ایک بڑی تزویراتی حماقت ہو گی۔ پاکستان میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنزکے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چو ہدری نے چھ اکتوبر کو سی این این نیوز چینل کو انٹر ویو دیتے ہوے کہا ہے کہ ’’ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی دہائیوں سے دفاعی تعلقات قائم ہیں اور پاکستانی فوجی دستے بھی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں۔‘‘ یہ ایک جچا تلا ذو معنی سفارتی بیان ہے۔ اسکا ایک مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے اگرکئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود اپنے فوجی دستوں کو حوثیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا تو آئندہ بھی نہیں کرے گا۔ اسکا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئی دہائیوں سے وہاں موجود پاکستان کی فوج کسی بھی وقت سعودی عرب کی مدد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس جملے سے ہر کوئی اپنی پسند کے معانی اخذ کر سکتا ہے۔ اسکے اصل مفہوم کا پتہ وقت آنے پر ہی چلے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button