پنجاب میں انسدادِ سموگ حکمت عملی، 10 ہزار سپر سیڈرز کسانوں کو 60 فیصد سبسڈی پر فراہم : مریم اورنگزیب

لاہور ( آصف اقبال ) سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا پر مبنی نگرانی اور مؤثر ماحولیاتی اقدامات پر مشتمل جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ پنجاب میں 10 ہزار سپر سیڈرز کسانوں کو 60 فیصد سبسڈی پر فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً آٹھ ہزار اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا چکا ہے۔انسدادِ سموگ کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا عزم لاہور کو سموگ کی پہچان سے نکال کر صاف ہوا والا شہر بنانا ہے۔ ماضی میں لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بلند ہو جاتا تھا، تاہم اب آلودگی کے اسباب کی نشاندہی، مسلسل نگرانی اور ان کے تدارک کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ کلائمیٹ سیف سٹی ڈیش بورڈ، کلائمیٹ واچ اور جدید ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کے ذریعے فضائی آلودگی کے مختلف عوامل کی نگرانی کا نظام مؤثر بنایا ہے۔ بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی ڈیٹا کی مدد سے ہوا کی سمت، رفتار، درجہ حرارت اور آلودگی کے ذرائع کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ فضائی آلودگی میں صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار اہم عوامل ہیں۔ سرحد پار سے آنے والی آلودہ ہوا بھی ایئر کوالٹی انڈیکس پر اثرانداز ہو سکتی ہے، تاہم حکومت کی اولین ترجیح مقامی سطح پر آلودگی کے ذرائع کو کنٹرول کرنا ہے۔سینئر صوبائی وزیر کے مطابق پنجاب میں تقریباً آٹھ ہزار اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا ہے اور ان کی کیو آر کوڈنگ بھی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ 709 بھٹوں کو میکانائز کیا گیا ہے۔ صنعتی آلودگی کی نگرانی کے لیے فیکٹریوں کی چمنیوں پر کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور آلودگی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لو ایمیشن زونز قائم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل فراہم کرنے کے لیے کسانوں کو 10 ہزار سپر سیڈرز 60 فیصد سبسڈی پر دیے گئے ہیں۔ جدید زرعی مشینری اور کبوٹا ہارویسٹرز کے ذریعے پرالی کو جلانے کے بجائے قابلِ استعمال وسائل میں تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کم ہونے کے ساتھ کسانوں کو معاشی فائدہ بھی پہنچے۔مریم اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ سال فضائی آلودگی کے بعض اشاریوں میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب میں آلودگی پھیلانے والے عناصر میں 33 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس تشکیل دی گئی ہے، جبکہ ڈرون سرویلنس، جدید کیمروں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کی روک تھام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ لاکھ گاڑیوں کو ایمیشن سرٹیفکیشن فراہم کی گئی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 نومبر تک اپنی گاڑیوں کی ایمیشن ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن مکمل کرائیں۔ لاہور کے نو مقامات پر محکمہ تحفظِ ماحولیات کی موبائل ٹیسٹنگ سہولت فعال ہے، جبکہ نجی ورکشاپس کو بھی سرٹیفائیڈ ٹیسٹنگ نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ دھواں چھوڑنے والی سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور پرانی گاڑیوں کے لیے بائی بیک پالیسی پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے ایک لاکھ طلبہ کو الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا اقدام ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ حکومت اگلے سال جون تک پنجاب میں تین ہزار الیکٹرک بسیں متعارف کرانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی لانا ہے۔سینئر صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کم کرنے کے لیے سپرنکلرز نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ کوڑا کرکٹ، ٹائر اور پلاسٹک جلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ رہائشی علاقوں سے پائرولیسس پلانٹس ختم کیے گئے ہیں۔ اس وقت 15 سموگ گنز فعال ہیں اور دیگر اضلاع کے لیے مزید 15 سموگ گنز لائی جا رہی ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ سموگ پر قابو پانے کے لیے 12 محکمے باہمی رابطے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ شہری ماحولیاتی خلاف ورزیوں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے متعلق شکایات ہیلپ لائن 1373 پر درج کرائیں تاکہ متعلقہ عملہ فوری کارروائی کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ دستیاب حکومتی اعدادوشمار کے مطابق رواں سال سانس اور پھیپھڑوں کے مریضوں کی تعداد میں 25 فیصد کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سموگ کے دوران تعلیمی ادارے بند نہیں کیے گئے، تاہم سکولوں کے بارے میں فیصلے آلودگی کی سطح، درجہ حرارت اور متعلقہ حالات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ماحولیاتی تحفظ کے دیگر منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام پر کام جاری ہے۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات کی ریفرنس لیبارٹری اور محکمہ جنگلات کی جی آئی ایس لیبارٹری کے ذریعے ماحولیاتی نگرانی اور شجرکاری کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں پانچ کروڑ درخت لگانے کے منصوبے کے تحت شجرکاری کی جغرافیائی نقشہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جبکہ پانی کے تحفظ کے لیے اسمال ڈیمز اور ریچارج ڈیمز کی تعمیر پر کام جاری ہے۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سموگ کا مستقل حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے کسانوں، صنعت کاروں، بھٹہ مالکان، ٹرانسپورٹرز، ریسٹورنٹس اور عام شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ شہری گاڑیوں کی بروقت ٹیسٹنگ کرائیں، فصلوں کی باقیات اور کوڑا کرکٹ نہ جلائیں اور ماحولیاتی قوانین کی پابندی یقینی بنائیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت صاف ہوا، صحت مند ماحول اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق انسدادِ سموگ مہم مستقل بنیادوں پر جاری رہے گی اور اس کی کامیابی کے لیے ہر شہری کا کردار اہم ہے۔



