عوامی مسائل سیاسی مداخلت نہیں، اسلام آباد میں تشدد سیاسی حق نہیں: ملک محمد احمد خاں

لاہور (آصف اقبال) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے لیسکو کے بعض اہلکاروں کے خلاف مبینہ رشوت ستانی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، غلط بلنگ اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی شکایات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیسکو سے متعلق شکایات اور دستیاب شواہد وزیراعظم کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جبکہ کرپشن میں ملوث اہلکاروں سے قانون کے مطابق جواب طلب کیا جائے گا۔پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اپنے حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنا منتخب نمائندے کی ذمہ داری ہے، اس لیے کرپشن یا انتظامی غفلت کی نشاندہی کو سیاسی مداخلت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لیسکو کے زیرانتظام علاقوں میں شہری طویل لوڈشیڈنگ، غلط بلنگ، خراب ٹرانسفارمرز اور بجلی کی فراہمی سے متعلق دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔سپیکر نے کہا کہ بعض شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ ایس ڈی او اور ایکس ای این سطح کے بعض اہلکار مبینہ طور پر ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے رشوت طلب کرتے ہیں، جبکہ خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے بھی غریب شہریوں سے لاکھوں روپے جمع کرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ان شکایات کی قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، تاہم ایک فرد کی مبینہ بجلی چوری کی سزا پورے گاؤں یا علاقے کو نہیں دی جا سکتی۔ شہریوں کے گھروں میں کارروائی کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کا احترام بھی لازم ہے۔ انہوں نے بعض علاقوں میں طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور لائن لاسز کا بوجھ عام صارفین پر ڈالنے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔سپیکر نے کہا کہ لیسکو افسران کو دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے فیلڈ میں جا کر زمینی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔ قصور کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی، ننگی تاروں اور شہریوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وہ وفاقی وزیر توانائی سے بھی اس معاملے پر بات کر چکے ہیں اور مکمل معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اپنے جائز کاموں کے لیے سیاسی نمائندوں کے دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہئیں، متعلقہ افسران کو اپنی ذمہ داریاں خود پوری کرنا ہوں گی۔ رشوت لے کر شہریوں کے مسائل حل نہ کرنا ناقابل قبول ہے اور ایسے معاملات پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔سیاسی احتجاج کے حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاسی اختلاف اور احتجاج آئینی حق ہے، تاہم تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور ریاستی اداروں پر حملہ سیاسی حق کے دائرے میں نہیں آتا۔ 2014 کے احتجاج اور بعد کے واقعات سمیت 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کا بار بار رونما ہونا سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اسلام آباد میں جتھہ بندی کے ذریعے ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش قابل قبول نہیں۔ کسی شہری کے گھر کو جلانا یا سرکاری و حساس تنصیبات کو نقصان پہنچانا سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ جرم ہے۔ ملک میں سیاسی اختلاف کا اظہار آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔



