Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اندھیر نگری کا کھیل !

ستمبر کا مہینہ میری کتاب میں بابائے قوم سے منسوب ہے اور اسلئے خاص طور پر ہے کہ اسی مہینے کی گیارہ تاریخ کو اس محسنِ قوم نے اس جہانِ فانی سے اپنی ابدی دنیا کی طرف رخ کیا تھا!میں سوچتا ہوں بابائے قوم کی روح عالمِ بالا میں کیسےتڑپتی ہوگی اپنے پاکستان کی حالتِ زار دیکھ کر جسے ان بازی گروں کے کرتوت کے ہاتھوں وہ دن دیکھنے پڑرہے ہیں جو ہند کے مسلمانوں کیلئے ان کا علیحدہ وطن بنانے والے کے خواب و خیال میں بھی نہیں رہا ہوگا!بابائے قوم کی تمام تر زندگی قانون کی بالا دستی اور احترام سے عبارت رہی تھی۔ خود ان کے بقول وہ مسلمانانِ ہند کے قائد نہیں بلکہ ان کے وکیل تھے اور ان کی آزادی کیلئے انہوں نے فرنگی راج کے خلاف اس راج کے تمام تر قوانین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا مقدمہ لڑا تھا!لیکن قائد کے مخالفین میں صرف فرنگی راج ہی نہیں تھا بلکہ فرنگی سے کہیں زیادہ شد و مد سے ان کے دو اور بڑے مخالف تھے۔ ایک انڈین نیشنل کانگریس اور دوسرے وہ انتہا پسند مسلم علماء جن کی لغت میں ریاست کا تصور ہی ناپید تھا!کانگریس کی مخالفت قائدِ اعظم سے سمجھ میں آتی ہے کیونکہ کانگریس کا زعم یہ تھا کہ وہ ہندوستان کے تمام باشندوں کی بلا تفریق مذہب و فرقہ نمائندہ جماعت تھی جبکہ قائدِ اعظم کی نظرِ بینا نے دیکھ لیا تھا کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت تھی اور مسلمانوں کی حیثیت کانگریس کے رہنماؤں کی نظر میں کمتر انسانوں کی تھی!لیکن انتہا پسند مسلمان علماء کی قائد سے مخالفت اور ان کے مشنِ آزادی اور پاکستان کے حصول کیلئے جد و جہد کانگریس سے زیادہ بے اصولی تھی اور اس سے قائدِ اعظم کے مشن سے ان کی دشمنی کی بو آتی تھی!پاکستان کے حصول کی جد و جہد جتنی تیز ہوتی گئی، جتنی عوامی ہوتی گئی اور عام مسلمانوں کے دلوں میں جتنی جتنی قائد کیلئے محبت بڑھتی گئی، خلوص و احترام بڑھتا گیا اسی تناسب سے مسلمان علماء کے قائد مخالف نعروں میں شدت آتی گئی اور دشمنی میں اضافہ ہوتا چلا گیا!ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قائد کے خلاف علمائے کذب و افترا نے تھوک کے حساب سے انہیں دائرہء اسلام سے خارج کرنے کے فتویٰ دینے کا کاروبار شروع کیا اور قائد کی مخافت اور دشمنی اس حد تک بڑھی کہ انہیں کافرِ اعظم کے تضحیک آمیز لقب سے علماء نے ان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کیا اور تضحیک کا یہ سلسلہ پاکستان کے قیام تک جاری رہا!قائد کے جید مخالف علماء میں مولانا مودودی بھی شامل تھے بلکہ مولانا کے کچھ معترضین تو قائد کو کافرِ اعظم کہنے کا سہرا بھی مودودی صاحب کے سر باندھتے ہیں۔ واللہ اعلم کہ اس بیان میں کتنی حقیقت اور کتنا جھوٹ ہے لیکن نظریہء پاکستان اور قائد کی صبر آزما سیاسی جد و جہد کے مخالفین کی صفوں میں مولانا مودودی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے!لیکن پاکستان جب ایک حقیقت بن گیا تو مولانا مودودی نے اپنا قبلہ درست کرلیا اور پاکستان کیلئے انہوں نے نہ صرف ہجرت کی بلکہ اپنی سیاسی جماعت کی بھی بنیاد رکھی!جماعتِ اسلامی مولانا مودودی کی بنائی ہوئی اور ان کی یادگار جماعت ہے۔ جماعتِ اسلامی کے قیام اور تاسیس کی تاریخ یہ ہے کہ مولانا اس پر یقین رکھتے تھے کہ اسلامی ریاست کے قیام کیلئے یہ ناگزیر ہے کہ سیاست میں مذہبی جماعت ہونی چاہئے تاکہ وہ ریاست کو اسلام کے اصولوں کی روشنی میں ڈھال سکے!جماعتِ اسلامی کی تاریخ پاکستان کی تاریخ کے نشیب و فراز سے الگ نہیں ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستانی تاریخ ہر اہم سنگِ میل سے جماعت کو جدا کرنا شاید ناممکن ہوگا!پاکستان کا پہلا مارشل لاء عام پاکستانی کے نزدیک وہ مارشل لاء تھا جو جنرل ایوب نے اس دور کے صدر اسکندر مرزا کے ساتھ مل کر 7 اکتوبر (پاکستانی تاریخ کے اس سیاہ دن کی برسی اب زیادہ دور نہیں ہے بلکہ چند دن بعد ہی آنے والی ہے) 1958ء کو نافذ کیا تھا۔ لیکن پاکستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس سے پانچ برس پہلے، 1953ء میں لاہور شہر پر ایک محدود عرصہ کیلئے مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا جب اس شہر میں جماعتِ اسلامی کی تحریک پر قادیانیوں کے خلاف فساد ہوا تھا اور شہر کو فوج کے حوالے کردیا گیا تھا!جماعتِ اسلامی کا سب سے نمایاں اور متنازعہ کردار تو مشرقی پاکستان کے سانحہ میں دیکھنے کو ملا تھا جب پاکستان کے طالع آزما جرنیلوں نے اسے اور اس کے جوشیلے اور قوم پرست کارکنوں کو مشرقی پاکستان کی بنگالی اکثریت کے خلاف اپنے گندے کھیل کیلئے استعمال کیا اور جس کے نتیجہ میں بنگالیوں کے دلوں میں جماعت ِ اسلامی کیلئے دشمنی کا بیج بویا گیا جس کی فصل بنگلہ دیش میں محصور وہ پاکستانی ادا کر رہے ہیں، آج بھی ادا کر رہے ہیں اور خدا جانے کب تک ادا کرتے رہینگے جنہیں ہمارے ملک دشمن عسکری طالع آزماؤں نےبہاری کہہ کر راندہء درگاہ قرار دے دیا !لیکن قائد کے بچے ماندہ پاکستان میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سے جماعتِ اسلامی پر جرنیلوں کی بی- ٹیم ہونے کی جو چھاپ لگی ہے وہ آج تک زائل نہیں ہوسکی بلکہ مولانا مودودی کی وفات کے بعد سے جماعتِ اسلامی کے قائدین کے رویہ نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے!جماعتِ اسلامی پاکستان کو اپنی موروثی جاگیر سمجھنے والے یزیدی جرنیلوں کی بی- ٹیم ہے اس کا تازہ ترین ثبوت جماعت کے موجودہ قائد حافظ ( اللہ ملک و قوم کو ان نام نہاد حافظوں کے شر سے اپنی امان میں رکھے ) نعیم الرحمان نے ابھی چند دن پہلے دیا ہے جب انہوں نے اسلام آباد کی طرف اپنے لانگ مارچ کو، جس کیلئے انہوں نے بذاتِ خود بڑے طمطراق سے 20 ستمبر کی تاریخ دی تھی، یہ کہکر منسوخ کردیا کہ چور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ نیویارک یاترا سے واپس آکر جماعت کے احتجاج پر سنجیدگی سے توجہ دینگے اور حافظ صاحب کے خدشات دور کردینگے!حافظ نعیم الرحمان کی سادگی یا بے بسی پر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ہنسی یوں آتی ہے کہ بقولِ شاعر:
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
اور رونا حافظ نعیم کی منافقت پہ آتا ہے کہ کس صفائی اور چابکدستی سے انہوں نے اپنے سرپرست جرنیلوں کو خوش کردیا، مطمئن کردیا اور کس بیدردی سے ان سادہ لوح کارکنوں کو بیوقوف بنادیا جو اپنی سادگی میں ان کی شعلہ بیانی پر ایمان لا چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ حافظ نعیم ان کی قیادت دانشمندی سے کر رہے ہیں لیکن حافظ صاحب تو اپنے یزیدی جرنیلی آقاؤں کے ادنیٰ غلام ہیں وہ ان کی چالوں اور فریب کاریوں سے کیسے انحراف کرسکتے ہیں!انہوں نے شہباز شریف جیسے نامی چور کی یقین دہانی کا اعتبار کرلیا جبکہ شہباز کی اپنی حیثیت کیا ہے؟وہ بھی یزید عاصم منیر کا اتنا ہی بے دام غلام اور مہرہ ہے جتنے حافظ نعیم۔چور شہباز کے گھناؤنے کردارکیلئے توہمارے یہ چار مصرعہ پوری طرح اس کم ذات کو آئینہ دکھانے کیلئے کافی ہیں:
نام شہباز کام سے ہے زاغ
قوم کے ماتھے پہ کلنک کا داغ
ہے غلامِ یزیدِ وقت، لعین
اس سے ملتا ہے ظلمتوں کا سراغ
لیکن شہباز حافظ نعیم سے کہیں زیادہ شاطر ہے لہٰذا وہ اس گنگا میں خوب خوب ڈبکیاں لگا رہا ہے جو یزید عاصم منیر نے اپنے غلاموں کیلئے اپنے مقبوضہ پاکستان میں بہائی ہوئی ہے۔لہٰذا یہ چور اپنا پورا ٹبر لیکے، اور ٹبر بھی اتنا بڑا کہ اس پہ لشکر کا گمان ہو، نیویارک جیسے شہر میں پانچ چھہ دن کیلئے وارد ہوگیا۔چور کی تقریر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں جمعہ 25 ستمبر کو تھی لیکن پاکستان کا وفد اس سے پانچ دن پہلے ہی نیویارک پہنچ گیا جس شہر میں ہوٹلوں کے نرخ اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے دنوں میں آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔لیکن فقیر اور نادار ملکِ پاکستان کے چور وزیر اعظم کو اس قوم سے ہمدردی ہے نہ ملک سے جس کے نمائندہ کے طور پر شہباز جیسا جاہل اور کم اوقات نام نہاد وزیرِ اعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کا اعزاز اپنے نام کرنا چاہ رہا تھا!تو خوب خوب دادِ عیش دی چور شہباز اور اس کے اتنے ہی چور ہمراہیوں نے۔ خوب جم کے کھل کھیلے اور کیوں نہ کھیلیں کہ ان کے سروں پر یزیدِ وقت عاصم منیر کا دستِ شفقت ہے۔ سو وہ جو کہاوت ہے کہ وہی سدا سہاگن جسے پیا چاہیں وہ آج کے پاکستان پر من و عن صادق آتی ہے، بقول شخصے سولہ آنے فٹ بیٹھتی ہے:
چوروں کے سرپرست ہیں جرنیل ہمارے
بس ان کے محافظ ہیں یہ سرخیل ہمارے
ملت کو کیا خوار اور ملک کو برباد
ہاں، برسوں سے جاری ہیں یہی کھیل ہمارے
لیکن کہاوتوں کی بات ہے تو ایک اور کہاوت بھی یاد رکھنی چاہئے جو ہمارے بد نصیب ملک کیلئے بہت کھرا لیکن کڑوا سچ ہے۔وہ کہاوت ہے کہ چور کو نہ پکڑو بلکہ چور کی ماں کو پکڑو جس نے ایک چور بیٹے کو اپنی غلط تربیت سے چور بننے کا موقع دیا۔تو یہ جو ہمارا پاکستان ہے اس پر نام نہاد اشرافیہ کے بدطینت چور اور ڈکیت جو گنگا اشنان کر رہے ہیں تو اسلئے کر رہے ہیں کہ بد نصیب پاکستان جس کا بنانے والا قائد قانون اور انصاف کا پرستار ہے آج ان یزیدی جرنیلوں کے حصار میں کراہ رہا ہے جو قائد کے پاکستان کو اپنی جدی پشتی جاگیر سمجھتے ہیں اور خود بھی لوٹ رہے ہیں اور اپنے غلام چوروں اور ڈکیتوں کو بھی پاکستان کو کنگال بنانے کے کام کی سرپرستی کر رہے ہیں!ہمیں اسی لئے بابائے قوم حضرت قائد اعظم ان دنوں بہت یاد آتے ہیں کہ وہ عالمِ بالا میں اپنے بنائے ملک کی یہ حالتِ زار دیکھ کر کتنا کڑھتے ہونگے، کتنے آنسو بہاتے ہونگے!ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کا یہ المناک انجام دیکھ کر بابائے قوم کے دکھ کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے خوابِ پاکستان کی ان یزیدی جرنیلوں کے ہاتھوں کیا بھیانک تعبیر ملی ہے۔ہر طرف تاریکی دکھائی دیتی ہے۔ ہر طرف، ہر سمت ظلمت کا دور دورہ ہے، کہیں روشنی کی کوئی کرن نظر آنے کے آثار بھی ناپید ہیں۔ اندھیر نگری میں جرنیلوں اور ان کی چور کٹھ پتلیوں اور مہروں کا چوپٹ راج اپنے عروج پر ہے، اپنے شباب پر ہے۔ اسے کب زوال آئے گا اس سوال کا جواب ہم اپنے قارئین پہ چھوڑتے ہیں:
یہ سامراج کے بے دام عسکری ہیں غلام
جنہیں ہے زعم کہ یہ ملک ان کی ہے جاگیر
ہے جن کو خبط رہے قوم ان کی تابعدار
انہیں بتاؤ غلاموں کی ہے یہی تاثیر !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button