پاکستان بحران سے استحکام تک کا سفر

زندگی کے فرصت کے اوقات میں کبھی کوئی ایسی کتاب دوبارہ ہاتھ لگ جاتی ہے جو محض کتاب نہیں رہتی بلکہ اپنے گردوپیش کے حالات کو سمجھنے کا ایک آئینہ بن جاتی ہے۔ چند روز قبل باربرا ایف والٹر کی کتاب How Civil Wars Start And How to Stop Them دوبارہ یاد آئی۔ یہ کتاب بنیادی طور پر اس سوال کا جائزہ لیتی ہے کہ جدید ریاستوں میں خانہ جنگی یا بڑے پیمانے کی سیاسی تشدد کی نوبت کیسے آتی ہے اور اس سے پہلے کون سی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ والٹر نے مختلف ممالک کے تجربات اور سیاسی عدم استحکام پر تحقیق کی بنیاد پر چار بڑے خطرے کے عوامل نمایاں کیے ہیں اناکری، فیکشنل ازم، اقتدار یا حیثیت کھونے کا خوف اور امید کا خاتمہ یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو براہِ راست خانہ جنگی قرار دینا نہ اس کتاب کا درست اطلاق ہے اور نہ ہی دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایسا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن والٹر کا تحقیقی فریم ورک ہمیں یہ ضرور سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کسی ریاست میں سیاسی کشیدگی اگر مسلسل بڑھتی رہے، اداروں پر اعتماد کم ہو، سیاسی مخالفین کو مستقل طور پر ایک دوسرے کا دشمن سمجھا جانے لگے اور آئینی و سیاسی راستے کمزور پڑ جائیں تو ریاستی استحکام کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں والٹر کی تحقیق میں سب سے اہم تصور Anocracy ہے۔ اس سے مراد ایسی سیاسی کیفیت ہے جو مکمل جمہوریت اور مکمل آمریت کے درمیان واقع ہو، یعنی جہاں جمہوری ادارے اور انتخابات موجود ہوں مگر سیاسی نظام میں غیر جمہوری یا کمزور جمہوری عناصر بھی نمایاں ہوں۔ والٹر کے مطابق سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے تحقیق میں یہی درمیانی سیاسی کیفیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان کے لیے اس تصور کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ صادر کر دیا جائے، بلکہ یہ سوال اٹھانا ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں آئینی اداروں، پارلیمنٹ، انتخابات، عدلیہ، انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختیار اور اعتماد کا توازن کس حد تک مستحکم ہے۔ اگر ہر سیاسی بحران کا حل سیاسی مکالمے کے بجائے طاقت کے استعمال، انتظامی اقدامات یا سیاسی اخراج میں تلاش کیا جائے تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے اگلے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔دوسرا اہم تصور Factionalism ہے۔ والٹر کے مطابق خطرہ صرف اختلاف رائے سے پیدا نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں اختلاف لازمی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرہ ایسے سیاسی دھڑوں میں تقسیم ہونے لگے جو ایک دوسرے کو محض سیاسی حریف نہیں بلکہ اپنے وجود، شناخت یا مفادات کے لیے خطرہ سمجھنے لگیں۔ والٹر کی گفتگو میں یہ تصور نسلی، مذہبی یا شناختی بنیادوں پر بننے والے ایسے سیاسی گروہوں سے متعلق ہے جو اقتدار حاصل کرنے کے ساتھ مخالف گروہوں کو سیاسی طور پر خارج کرنے کی کوشش کریں۔پاکستان میں سیاسی تقسیم کی موجودہ شدت کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات، سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید کشمکش، مرکز اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تحفظات، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل اور سندھ کے سیاسی و انتظامی معاملات یہ سب الگ الگ موضوعات ہیں، مگر اگر ان سب کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف مستقل بداعتمادی اور نفرت بھی شامل ہو جائے تو وفاقی نظام کے لیے یہ ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے یہاں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ جمہوریت میں اقتدار صرف حکومت بنانے کا نام نہیں؛ اقتدار کی اصل آزمائش اختلاف رکھنے والوں کو سیاسی نظام کے اندر جگہ دینے سے ہوتی ہے۔ جس جماعت یا طبقے کو انتخابات میں حمایت حاصل ہو، اس کے ووٹرز کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی سیاسی آواز آئینی نظام میں موجود ہے۔ اسی طرح حکومت مخالف جماعتوں کو بھی یہ یقین ہونا چاہیے کہ اقتدار میں آنے کا راستہ احتجاج، تصادم یا غیر آئینی طریقوں سے نہیں بلکہ انتخابات اور پارلیمانی عمل سے کھلتا ہے۔والٹر کے فریم ورک کا تیسرا پہلو Loss of Power ہے۔ یعنی کسی بااثر گروہ کو یہ احساس پیدا ہونا کہ اس کی سیاسی حیثیت، اختیار یا وسائل پر گرفت کم ہو رہی ہے۔ یہ احساس بعض حالات میں سیاسی ردعمل کو سخت بنا سکتا ہے۔یہ پہلو پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ ہماری سیاست میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات، مرکز اور اکائیوں کے درمیان وسائل کی تقسیم، سیاسی جماعتوں کی انتخابی قوت، ادارہ جاتی اختیارات اور آئینی ترامیم جیسے معاملات محض قانونی موضوعات نہیں رہے ان کے ساتھ طاقت اور اختیار کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ چنانچہ اگر کسی فریق کو یہ محسوس ہو کہ اس کا سیاسی یا آئینی حصہ مستقل طور پر کم کیا جا رہا ہے تو بداعتمادی بڑھ سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ وفاق کو طاقت کے ارتکاز کے بجائے آئینی شراکت داری کے اصول پر مضبوط ہونا چاہیے۔ پاکستان کا وفاق مختلف زبانوں، ثقافتوں، صوبائی شناختوں اور سیاسی ترجیحات کا مجموعہ ہے۔ وفاق اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کے اندر موجود اکائیوں کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ ان کے آئینی حقوق، سیاسی نمائندگی اور وسائل کا احترام کیا جا رہا ہے والٹر کے فریم ورک کا چوتھا اور نہایت اہم پہلو Loss of Hope ہے۔ یعنی جب عوام یا سیاسی گروہوں کو یہ یقین کم ہونے لگے کہ پرامن سیاسی راستوں سے تبدیلی ممکن ہے۔ والٹر کی تحقیق میں یہ کیفیت خاص طور پر اہم اس لیے ہے کہ انتخابات، احتجاج اور سیاسی عمل کے ذریعے تبدیلی کی امید ختم ہونے کے بعد سیاسی تشدد کے لیے ماحول زیادہ سازگار ہو سکتا ہے یہاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، احتجاج اپنی جگہ، حکومت اور اپوزیشن کی کشمکش اپنی جگہ؛ لیکن اگر معاشرے کے بڑے حصے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ مذاکرات کا دروازہ بند ہے، پارلیمنٹ مؤثر نہیں، انتخابات پر اعتماد کم ہے اور سیاسی اختلاف کا حل طاقت کے سوا کوئی نہیں، تو یہ کیفیت جمہوری نظام کے لیے صحت مند نہیں رہتی اسی لیے سیاسی مذاکرات کو کمزوری نہیں بلکہ جمہوری نظام کا بنیادی آلہ سمجھنا چاہیے۔ پارلیمنٹ کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بھی ایک میز پر بٹھاتی ہے جو ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ سیاسی نظام کا حسن اتفاق رائے نہیں بلکہ اختلاف کو آئینی دائرے میں رکھنے کی صلاحیت ہے اس پوری بحث میں سوشل میڈیا کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ والٹر اسے ان عوامل کو تیز کرنے والے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتی ہیں۔ غلط معلومات، اشتعال انگیز مواد، الگورتھم کے ذریعے ایک جیسے خیالات رکھنے والے گروہوں کا مسلسل ایک دوسرے سے جڑتے رہنا اور مخالف فریق کو غیر انسانی یا دشمن تصور کرنے کا رجحان سیاسی تقسیم کو مزید شدید بنا سکتا ہے پاکستان میں بھی سیاسی زبان کے بدلتے ہوئے مزاج پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ اختلاف رائے اگر تنقید تک رہے تو جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن جب سیاسی زبان دشمنی، انتقام اور مکمل اخراج کے تصور میں بدل جائے تو اس کے اثرات پارلیمنٹ سے نکل کر معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں، میڈیا، ریاستی ادارے اور سوشل میڈیا کے صارفین سب اس ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں اسی تناظر میں حالیہ دنوں کے لاک ڈاؤن، سکیورٹی اقدامات اور معمول کی شہری زندگی میں رکاوٹوں کو بھی صرف انتظامی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔ ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا حق اور ذمہ داری حاصل ہے، لیکن ایک جمہوری ریاست کے لیے اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم رہتا ہے کہ سیاسی بحران بار بار اس مقام تک کیوں پہنچ رہے ہیں جہاں معمول کی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کا عنوان How Civil Wars سٹارٹ And How to Stop Them اپنی اصل معنویت اختیار کرتا ہے۔ کتاب صرف یہ نہیں پوچھتی کہ تصادم کیسے شروع ہوتا ہے اس کا دوسرا حصہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اسے شروع ہونے سے پہلے کیسے روکا جائے۔ والٹر کے تحقیقی فریم ورک میں روک تھام کا بنیادی تصور یہی ہے کہ خطرناک سیاسی حالات کو اس مقام تک پہنچنے سے پہلے سمجھا جائے جہاں تشدد معمول بن جائے پاکستان کے لیے اس کا مطلب کسی خوفناک پیش گوئی کو دہرانا نہیں بلکہ بروقت سیاسی اصلاحات پر توجہ دینا ہے۔ ملک میں سیاسی اختلاف کو دشمنی بننے سے روکنا، وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد بڑھانا، آئینی اداروں کو مضبوط کرنا، سیاسی جماعتوں کو برابر کے سیاسی میدان کی ضمانت دینا، انتخابات پر اعتماد بحال کرنا، مذاکرات کے راستے کھلے رکھنا اور ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا یہ سب داخلی استحکام کے بنیادی تقاضے ہیں پاکستان کو اس وقت بیرونی سطح پر بھی کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ علاقائی صورتحال، معاشی دباؤ، سلامتی کے مسائل اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے مفادات ایسے معاملات ہیں جن کے مقابلے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے۔ بیرونی محاذ پر کوئی بھی سفارتی یا دفاعی کامیابی اسی وقت زیادہ دیرپا فائدہ دے سکتی ہے جب اندرونِ ملک سیاسی استحکام موجود ہو اس لیے مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت، کسی ایک لیڈر یا کسی ایک ادارے کا نہیں۔ مسئلہ پورے نظام کا ہے۔ اگر ہر فریق یہ سمجھتا رہے کہ مسئلے کا حل صرف دوسرے فریق کو شکست دینے میں ہے تو کشمکش ختم نہیں ہوگی؛ صرف فریق بدلتے رہیں گے۔ لیکن اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ پاکستان کسی ایک جماعت، صوبے یا ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ آئینی وفاق ہے تو پھر سیاسی شراکت داری کی ضرورت خود بخود واضح ہو جاتی ہے پارلیمانی جمہوریت میں اقتدار کا اصل حسن یہ نہیں کہ کون کتنے عرصے تک اقتدار میں رہتا ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی آئینی طریقے سے ہوتی رہے، اختلاف کرنے والے سیاسی عمل میں موجود رہیں، صوبوں کو اپنے حقوق کا اعتماد ہو، عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت محسوس ہو اور ریاستی اداروں پر شہریوں کا بنیادی اعتماد برقرار رہے باربرا ایف والٹر کی کتاب پاکستان کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرتی۔ لیکن اس کا تحقیقی سوال ہمارے لیے ضرور اہم ہے: کیا ہم سیاسی بحرانوں کو اس وقت حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب وہ ابھی بحران ہیں، یا اس وقت جب وہ تصادم بن چکے ہوں؟یہ سوال آج کی سیاست سے کہیں بڑا سوال ہے۔ یہ ریاست، وفاق، جمہوریت اور معاشرے کے مستقبل کا سوال ہے۔ داخلی بحران کو کم کرنا کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مفاد کی بات ہے۔ اور شاید اس کتاب کا سب سے اہم سبق بھی یہی ہے کہ ریاستیں اچانک نہیں ٹوٹتیں بعض اوقات ان کے اندر پیدا ہونے والی دراڑیں بہت پہلے دکھائی دینے لگتی ہیں، ضرورت صرف انہیں دیکھنے اور وقت پر مرمت کرنے کی ہوتی ہے۔



