گریسی مینشن ملاقات: مفاہمت کی ایک نئی علامت؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی گریسی مینشن میں ملاقات امریکی سیاست کے موجودہ ماحول میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان 2025 کی انتخابی مہم کے دوران سخت اختلافات سامنے آئے تھے۔ ٹرمپ نے ممدانی کی پالیسیوں اور سیاسی نظریات پر شدید تنقید کی تھی جبکہ ممدانی بھی ٹرمپ کی متعدد پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں ایک ہی میز پر نسبتاً خوشگوار ماحول میں گفتگو ایک قابلِ توجہ سیاسی تبدیلی ہے۔گریسی مینشن نیویارک سٹی کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ ہے اور شہر کی سیاسی و تاریخی شناخت کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ جونیویارک سٹی کی مین ہٹن میں واقع ایک تاریخی عمارت ہے۔ اسے نیویارک کے ایک تاجر نے 1799 میں دریائے ایسٹ کے کنارے تعمیر کروایا تھا۔ یہ عمارت امریکی انقلاب سے پہلے اور بعد کے نیویارک کی تاریخ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ 1896 میں یہ عمارت نیویارک سٹی کی ملکیت میں آگئی تھی۔ اس کے بعد اسے عام عوام کےاستعمال کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ 1942 میں میئر Fiorello La Guardia اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہوئے اور تب سے یہ نیویارک کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ قرار پائی ہے۔ اسی وجہ سے گریسی مینشن محض ایک رہائشی عمارت نہیں بلکہ نیویارک کی سیاسی اور شہری تاریخ کی علامت بھی ہے۔ اسے نیویارک کا’’People’s House‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
21 ستمبر 2026 کوصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے میئرظہران ممدانی سے اسی گریسی مینشن میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات ٹرمپ کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک آنے کے موقع پر ہوئی جبکہ دونوں سیاسی لیڈرران کے سیاسی نظریات اور متعدد پالیسی معاملات پر نمایاں اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں نے گزشتہ عرصے میں رابطہ اور ملاقاتیں جاری رکھی ہیں تھیں۔ موجودہ ملاقات ان کی تیسری ملاقات تھی۔ یہ ملاقات اس بات کی مثال بھی ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود عملی حکومتی معاملات پر رابطہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات نہیں تھی، لیکن یہ ان کی نیویارک میں پہلی بالمشافہ نشست ضرور تھی ۔اس دورے کو محض ایک رسمی ملاقات کے بجائے وفاقی حکومت اور نیویارک سٹی انتظامیہ کے درمیان عملی تعاون کی کوشش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ممدانی کے سیاسی اختلافات کے باوجود دونوں نے شہر سے متعلق عملی مسائل پر گفتگو کی۔ اس ملاقات کا ایک وسیع تر پہلو یہ یہ بھی تھا کہ میئر کو وفاقی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اور نیویارک کی موجودہ شہری انتظامیہ کئی معاملات میں مختلف سیاسی مؤقف رکھتی ہیں۔میئر ممدانی کے مطابق گفتگو کا مرکزی محور نیویارک میں رہائش، زندگی کے اخراجات اور شہر کی معاشی مشکلات تھا۔ اس منصوبے کے لئے وفاقی منظوری اور ممکنہ وفاقی مالی تعاون درکار تھا۔ خاص طور پر رہائش، شہری ترقی اور وفاقی فنڈنگ جیسے معاملات اس ملاقات کے نمایاں موضوعات تھے۔ صدرٹرمپ کا نیویارک سے طویل تعلق رہاہے اور وہ گریسی مینشن سے پہلے بھی واقف تھے۔ ملاقات میں انہوں نے عمارت کو نیویارک کی نمائندہ جگہ قرار دیا اور ماضی کے میئروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا۔
ماضی میںصدر ٹرمپ اورظہران ممدانی کے تعلقات کافی کشیدہ اور سخت بیانات پر مبنی تھے،جولائی 2025 میں ممدانی نے کہا تھا کہ وہ نیویارک میں ICE کے ذریعے تارکینِ وطن کی گرفتاری اور ملک بدری کی مخالفت کریں گے۔ اس پرصدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر ممدانی وفاقی امیگریشن کارروائی میں رکاوٹ بنیں تو کیا ہوگا۔ ٹرمپ نے جوا ب دیا تھا
کہ’’est him then we’ll have to arr‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ممدانی کو کمیونسٹ قرار دیا اور ان کی امریکی شہریت پر بھی سوال اٹھایا تھا، حالانکہ ممدانی 2018 میں امریکی شہریت حاصل کرچکے تھے۔ لیکن نومبر 2025 کے بعد ان کے باہمی روئیے میں نمایاں تبدیلی آئی۔2025 کی نیویارک میئر کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ممدانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مختلف مواقعوں پر انھیں’’ کمیونسٹ ‘‘جیسے الفاظ سے مخاطب کیا، اور یہ بھی کہا کہ اگر ممدانی میئر بنے تو نیویارک کو وفاقی حکومت کے ساتھ سنگین مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف ممدانی نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو سختی سے مسترد کیا اور انہیں اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کو بھی نمایاں کیا۔انتخاب سے پہلے ٹرمپ نے نومبر 2025 میں کھل کر کہا تھا کہ اگر ممدانی میئر منتخب ہوئے تو وفاقی حکومت نیویارک کو دی جانے والی رقم روک سکتی ہے، سوائے اس رقم کے جو قانوناً دینا ضروری ہو۔ ممدانی کے جیتنے کے فوراً بعد بھی یہ خدشہ محض بیان تک محدود نہیں رہا۔ بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ کے معاونین نے نیویارک کے لیے وفاقی فنڈز کا جائزہ لینا شروع کردیا تھا ، لیکن 21 نومبر 2025 کی وائٹ ہاؤس ملاقات کے بعد ٹرمپ کا لہجہ تیزی سے نرم ہوا۔ ٹرمپ نے ممدانی کے ساتھ ملاقات کے بعد مثبت باتیں کیں،ملا قات کے دوران خود صحافی نے ٹرمپ سے کہا کہ یہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی موجودہ امریکی صدر گریسی مینشن آیا ہے۔ پھر جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ماضی کی سخت تنقید کے باوجود اب وہ ممدانی کو ’’گریٹ میئر‘‘بننے کی نویدکیوں دے رہے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ نیویارک اور ملک کے لیے اچھا نتیجہ چاہتے ہیں،اسی لیے وہ ممدانی کے کامیاب میئر بننے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ مثبت لہجہ سیاسی اتفاق نہیں۔ ممدانی نے خود کہا کہ صدر اور ان کے درمیان متعدد بنیادی اختلافات موجود ہیں۔
اس لیے اس تبدیلی کو یوں سمجھنا چاہیےکہ 2025 کی انتخابی مہم میں ذاتی اور نظریاتی حملوں سے 2026 میں عملی حکومتی رابطے کی طرف منتقلی۔صدر ٹرمپ کو نیویارک میں اپنی ترجیحات اور وفاقی اختیارات استعمال کرنے کے لیے شہر کی انتظامیہ سے معاملہ کرنا تھا، جبکہ ممدانی کو رہائش، وفاقی منظوری، امیگریشن اور شہری وسائل جیسے معاملات میں وفاقی حکومت سے تعاون درکار تھی۔ گریسی مینشن کی ملاقات نے اسی عملی تعلق کو نمایاں کیا۔ یہ ملاقات خاصی دوستانہ رہی، جو ان کے سابقہ سخت بیانات کے مقابلے میں واضح تبدیلی تھی۔ ملاقات کے بعد سوالات کے دوران صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے بعض میڈیا اداروں کی رسائی محدود کرنے کے معاملے پر بھی بات کی، جبکہ ممدانی نے پریس کی آزادی اور مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ رابطے کی حمایت کا اظہار کیا، یہ ملاقات خاصی دوستانہ رہی ۔
ٹرمپ نے ملاقات کے بعد ممدانی کے بارے میں کہا کہ ان کے خیال میں دونوں کے درمیان توقع سے زیادہ امور پر اتفاق ہوسکتا ہے۔جمہوری نظام میں اختلاف کے ساتھ مکالمہ اور مشترکہ مفاد کے معاملات میں تعاون ایک اہم سیاسی روایت ہے۔ تاہم اصل مثبت نتیجہ اس وقت سامنے آئے گا جب خوشگوار الفاظ عملی پالیسی اور شہریوں کے لیے قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل ہوں گے۔ 2025 کا ٹرمپ ممدانی کو وفاقی امیگریشن پالیسی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر گرفتاری کی بات کر رہا تھا اور اب 2026 کا ٹرمپ اسی شخص کے ساتھ نیویارک کے ہاؤسنگ اور شہری مسائل پر بیٹھ کر کام کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی بنیادی نظریاتی اتفاق کی بجائے ممدانی کے میئر بننے کے بعد تعلق کی عملی نوعیت بدلنے سے
د کھائی دےرہی ہے ۔ گریسی مینشن میں ممدانی نے بھی واضح کیا کہ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود ایسے معاملات پر ٹرمپ کے ساتھ کام کریں گے جن سے نیویارک کے شہریوں کو فائدہ ہو ۔ مجموعی طور پر ملاقات کو مفاہمت یا عملی تعاون کی ایک امید افزا علامت کہا جا سکتا ہے۔



