Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اسلام آباد سے مکہ تک پاکستان کی سفارت کاری کا نیا باب

تحریر آصف اقبال

پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت کو اگر ایک تسلسل میں دیکھا جائے تو اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دو ایسے اہم سنگِ میل ہیں جنہوں نے پاکستان کی علاقائی سفارتی اور تزویراتی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد نے امریکہ اور ایران جیسے متحارب فریقوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی گنجائش پیدا کی، دوسری طرف مکہ میں پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اجتماعی دفاع کے ایک نئے فریم ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا یہ محض دو الگ الگ واقعات نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے دو مختلف مگر باہم جڑے ہوئے رخ ہیں۔ ایک رخ مفاہمت، رابطہ کاری اور کشیدگی کم کرنے کا ہے، جبکہ دوسرا علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور اجتماعی باز رکھنے کی صلاحیت کا اس پورے سفارتی عمل میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی اسی وسیع تر قومی کوشش کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ سیاسی قیادت نے سفارتی سمت متعین کی، وزارتِ خارجہ اور دیگر حکومتی اداروں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا، جبکہ عسکری قیادت نے پاکستان کے دفاعی وزن اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں اس پالیسی کو تقویت دی 17 جون کا اسلام آباد ایم او یو اسی سفارتی سوچ کی ایک نمایاں مثال تھا۔ اس کی اہمیت صرف دستخطوں میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں تھی کہ پاکستان نے ایسے دو فریقوں کے درمیان رابطے کا راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی جن کے درمیان اعتماد کا بحران گہرا تھا۔ بعد ازاں اس مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مزید اعلیٰ سطحی رابطے بھی ہوئے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اسلام آباد کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق تھا یہاں وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی قیادت اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی رابطہ کاری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ محسن نقوی نے مختلف فریقوں کے ساتھ رابطوں میں پاکستان کے سفارتی کردار کو اجاگر کیا، جبکہ حکومت کی مجموعی کوشش یہ رہی کہ اسلام آباد کو محض کسی ایک فریق کے قریب کھڑے ملک کے طور پر نہیں بلکہ رابطے اور مفاہمت کے ایک ممکنہ مرکز کے طور پر پیش کیا جائے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اس عمل میں ایک دوسرے زاویے سے اہم دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے اور بعد ازاں تہران کے دورے نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان نے سفارت کاری کو صرف روایتی سیاسی چینلز تک محدود نہیں رکھا۔ اگست میں ایرانی حکام کے مطابق عاصم منیر کا دورۂ تہران بھی خطے میں امن و سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سے منسلک تھا یہ پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی صورتحال ہے کہ ایک طرف وہ سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کے سفارتی روابط برقرار ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک مشکل مگر اہم سفارتی کردار فراہم کرتا ہے دوسری بڑی پیش رفت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کے بعد تینوں ممالک نے اس کے تحت سیاسی و دفاعی تعاون کے ادارہ جاتی میکنزم کی طرف بھی قدم بڑھایا، جبکہ مشترکہ سیکریٹریٹ کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا مکہ معاہدے میں پاکستان کی شرکت محض رسمی شمولیت نہیں پاکستان کے پاس ایک بڑی دفاعی قوت اور طویل عسکری تجربہ ہے، ترکیہ دفاعی صنعت اور فوجی ٹیکنالوجی میں اہم صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب خطے کی ایک بڑی معاشی اور توانائی کی طاقت ہے۔ تینوں کے درمیان تعاون کا یہ امتزاج علاقائی سلامتی کے منظرنامے پر اثرانداز ہو سکتا ہے اس معاہدے کی ایک بنیادی جہت جنگ کا آغاز نہیں بلکہ deterrence یعنی ممکنہ جارحیت کو روکنے کی صلاحیت ہے۔ معاہدے کا تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف مسلح کارروائی کو اجتماعی معاملہ سمجھا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جارح کو کارروائی کے وسیع تر نتائج کا اندازہ ہو اس مرحلے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی بھی اہم ہے۔ مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان اس انتظام کو صرف سیاسی اعلان نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی دفاعی تعاون کے طور پر آگے بڑھانے میں شریک ہے۔تاہم اصل امتحان اب شروع ہوا ہے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے معاہدے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے، لیکن 10 ستمبر کو وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس وقت کسی فوری فوجی ردعمل پر بات نہیں ہو رہی۔ پاکستان نے حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ایران سے رابطے کا راستہ بھی برقرار رکھا ہے یہ صورتحال پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک نہایت حساس توازن پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی عزم اپنی جگہ موجود ہے، مگر ایران کے ساتھ رابطے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی جاری رکھنا پاکستان کے وسیع تر مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ رائٹرز کی حالیہ رپورٹنگ کے مطابق پاکستان بیک وقت سعودی دفاعی شراکت داری اور ایران کے ساتھ ثالثی کے کردار کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے یہاں وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ ذمہ داری کا دائرہ بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم کے لیے چیلنج سیاسی اور سفارتی سمت کو برقرار رکھنا ہے، محسن نقوی کے لیے رابطہ کاری اور سفارتی رسائی کو مؤثر بنانا اہم ہے، جبکہ عسکری قیادت کے لیے دفاعی وعدوں، علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے پاکستان کی سفارتی طاقت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے مختلف تعلقات کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے بچائے۔ امریکہ سے رابطہ بھی برقرار رہے، ایران سے بات چیت بھی ممکن ہو، سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بھی مضبوط ہو اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون بھی آگے بڑھے اسلام آباد ایم او یو نے پاکستان کو مذاکرات اور رابطہ کاری کے میدان میں جگہ دی، جبکہ مکہ معاہدے نے اسے علاقائی اجتماعی سلامتی کے ایک نئے انتظام کا حصہ بنایا۔ دونوں پیش رفتوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک ایسا ماڈل ابھرتا ہے جس میں سفارت کاری اور دفاع ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کسی بھی معاہدے کی اصل اہمیت اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے عملی نتائج میں ہوتی ہے اسلام آباد ایم او یو کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل مذاکراتی راستہ پیدا ہو پاتا ہے۔ اسی طرح مکہ معاہدے کی پائیداری اس بات سے جڑی ہے کہ کیا تینوں ممالک دفاعی تعاون کو مؤثر رکھتے ہوئے علاقائی کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روک سکتے ہیں پاکستان کے لیے یمن کا معاملہ اسی بڑے امتحان کا حصہ ہے۔ اگر اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی عزم کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطے کا دروازہ بھی کھلا رکھتا ہے اور سیاسی حل کے لیے کوشش کرتا ہے تو اس کا سفارتی کردار مزید واضح ہو سکتا ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کسی ایک فرد یا ایک ملاقات سے نہیں بلکہ مسلسل سفارت کاری، ادارہ جاتی تعاون اور تمام متعلقہ فریقوں کے رویے پر منحصر ہوگی یہاں محسن نقوی کا فعال رابطہ کاری کا کردار، وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دفاعی و علاقائی سفارت کاری ایک ہی تصویر کے مختلف پہلو دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان نے بیک وقت یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ساتھ ہی جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بات چیت کے دروازے بھی بند نہیں کرتا آج پاکستان کے پاس ایک ایسا سفارتی سرمایہ موجود ہے جسے احتیاط اور دوراندیشی سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کا رابطہ، ریاض کے ساتھ اعتماد، تہران تک رسائی، انقرہ کے ساتھ تعاون اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی چینل یہ سب مل کر پاکستان کو خطے کے پیچیدہ بحران میں ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں لیکن سفارتی کامیابی کا اگلا مرحلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو اہم سمجھا جائے؛ اصل مرحلہ یہ ہے کہ پاکستان اس اہمیت کو امن، استحکام، معاشی تعاون اور علاقائی مفاہمت کے مستقل عمل میں کس طرح تبدیل کرتا ہے اسلام آباد ایم او یو پاکستان کی سفارتی رسائی کی علامت ہے، مکہ معاہدہ اس کی علاقائی سلامتی کی ذمہ داری کا اظہار، اور ان دونوں کے درمیان موجود راستہ پاکستان کی آئندہ خارجہ پالیسی کا اصل امتحان ہے وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی قیادت، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی رابطہ کاری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دفاعی و علاقائی سطح پر سرگرمیوں کو اگر ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے تو پاکستان کے لیے موجودہ بحران محض خطرہ نہیں رہتا بلکہ سفارت کاری کے ایک نئے باب کا موقع بھی بن سکتا ہے دنیا کو اس وقت محض ایک اور طاقت کے مرکز کی نہیں، ایسے ممالک کی بھی ضرورت ہے جو متحارب فریقوں کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھ سکیں۔ پاکستان نے اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اسلام آباد اس سفارتی سرمائے کو کس حد تک مستقل، متوازن اور نتیجہ خیز خارجہ پالیسی میں تبدیل کرتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button