ممدانی کا حوالہ اور عوامی سیاست کا نیا سوال

سیاست کا بنیادی مقصد اقتدار کا حصول ہی نہیں بلکہ عوام کے مسائل کو سمجھنا، انہیں پالیسی کا حصہ بنانا اور ریاستی اداروں کو شہریوں کے لیے جواب دہ بنانا بھی ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے زہران ممدانی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اب ممدانی اور صادق خان آئیں گے ایک وسیع تر سیاسی بحث کی طرف اشارہ کرتا ہے ممدانی کی سیاست کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بڑے نظریاتی مباحث کو عام شہری کی روزمرہ زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ کرایہ، ٹرانسپورٹ، رہائش، بچوں کی نگہداشت، اجرت اور خوراک جیسے مسائل ان کی سیاسی گفتگو میں نمایاں رہے۔ اس طرزِ سیاست میں بنیادی توجہ اس سوال پر مرکوز ہے کہ حکومتی فیصلوں کا عام شہری کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے یہ رجحان صرف نیویارک تک محدود نہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں شہری اپنے نمائندوں سے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ سستی رہائش، بہتر ٹرانسپورٹ، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی بھی چاہتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں شہری سیاست کا پیمانہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ سیاسی مقبولیت کے ساتھ ساتھ انتظامی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔ممدانی کی سیاسی پیش رفت اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ ان کی انتخابی مہم نے نوجوانوں، رضاکاروں، گھر گھر رابطے، سوشل میڈیا اور چھوٹے عطیات کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔ اس تجربے نے یہ سوال بھی اہم بنا دیا ہے کہ مستقبل کی سیاست میں براہِ راست عوامی رابطہ اور ڈیجیٹل تنظیم سازی روایتی انتخابی طریقوں کے مقابلے میں کس حد تک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے پاکستانی سیاست میں بھی اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں عوام کے بنیادی مسائل میں مہنگائی، روزگار، رہائش، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، صاف پانی اور بلدیاتی سہولتیں شامل ہیں۔ عام شہری کے لیے سیاسی نمائندگی کی اہمیت اس وقت بڑھتی ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کا مسئلہ سنا جا رہا ہے اور متعلقہ ادارے اس کے حل کے لیے جواب دہ ہیں یہی وجہ ہے کہ ممدانی کا حوالہ پاکستان میں مقامی حکومتوں، انتظامی اختیارات اور نچلی سطح تک اختیار کی منتقلی کے بارے میں موجود بحث سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ نئے صوبے بنیں یا انتظامی یونٹس تشکیل پائیں، بلدیاتی نظام کو اختیارات ملیں یا موجودہ نظام میں اصلاحات کی جائیں، بنیادی سوال یہی رہتا ہے کہ عام شہری کو فیصلہ سازی اور حکومتی خدمات تک کتنی آسان اور مؤثر رسائی حاصل ہے البتہ ممدانی کے سیاسی تجربے کو پاکستانی حالات پر براہِ راست منطبق کرنا درست نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے آئینی، سیاسی، معاشی اور انتظامی ڈھانچے مختلف ہیں۔ البتہ ایک اصول مشترک طور پر قابلِ غور ہے کہ عوام کے روزمرہ مسائل کو سیاسی ایجنڈے میں محض انتخابی وعدے کے طور پر نہیں بلکہ حکمرانی کی ترجیح کے طور پر شامل کیا جائے۔اس حوالے سے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عوامی مقبولیت اور حکمرانی کی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔ انتخابی وعدہ کرنا نسبتاً آسان مرحلہ ہے، لیکن اسے قانون، بجٹ، ادارہ جاتی صلاحیت اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے عملی شکل دینا اصل امتحان ہوتا ہے۔ سستی رہائش، بہتر ٹرانسپورٹ، شہری سہولتیں یا کم آمدنی والے طبقات کے لیے ریلیف جیسے اہداف اسی وقت پائیدار نتائج دے سکتے ہیں جب ان کے لیے مالی اور انتظامی بنیاد موجود ہو پاکستان میں بھی سیاسی بحث کو اسی حقیقت کے پیش نظر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ عوامی جذبات اور سیاسی مقبولیت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن دیرپا سیاسی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وعدوں کو قابلِ عمل پالیسی، پالیسی کو بجٹ اور بجٹ کو عملی منصوبوں میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے محسن نقوی کا ممدانی اور صادق خان کا حوالہ اسی لیے ایک بڑے سوال کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے کیا پاکستان میں شہری حکومت، مقامی اختیار، براہِ راست عوامی رابطہ اور روزمرہ مسائل کا مؤثر حل مستقبل کی سیاست کے اہم پیمانے بن سکتے ہیں؟جمہوریت کی مضبوطی کا تعلق صرف انتخابات اور نمائندگی سے نہیں بلکہ جواب دہی، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی سے بھی ہے۔ اگر شہری کو اپنے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر ادارہ، قابلِ رسائی نمائندہ اور واضح طریقۂ کار میسر ہو تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے ممدانی کے تجربے سے حتمی نتائج اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا، لیکن ان کی سیاست نے ایک اہم بحث ضرور چھیڑی ہے: بڑی سیاست کا تعلق ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں ہوتا۔ کبھی کرایہ، بس کا سفر، گھر، روزگار، خوراک اور گلی کی بنیادی سہولت بھی سیاسی ترجیح بن سکتے ہیں بالآخر سیاسی نظام کی کامیابی کا پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ وہ عام شہری کی زندگی میں کتنی بہتری لاتا ہے۔ اقتدار کے ایوان اپنی جگہ، لیکن جمہوریت کی اصل معنویت وہاں نمایاں ہوتی ہے جہاں ریاستی فیصلوں کا اثر عام آدمی کی روزمرہ زندگی تک پہنچتا ہے۔



