اک نئی بحث

شاید جب کسی نے کہا ہوگا کہ۔میں نہیں مانتا۔ توبحث کی ابتدا ہوئی ہوگی،جب اختلاف رائے ہوتا ہے تب بحث ہوتی ہے اختلاف رائے لوگوں کے درمیان ہزاروں سالوں سے ہے افلاطون ارسطو سقراط کے زمانے میں بھی بحث و تمحیث،سوال و جواب،جواب الجواب ،غالب کی ایک کتاب تھی ۔قاطع برہان۔ اس پر درجنوں کتابیں لکھی گئی اور ہر دوسری کتاب پہلی کتاب سے مختلف، در اور رد کی رد، ،یہ ہمیشہ سے ہوتا رہا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،اسی اختلاف اور سوال و جواب کو فلسفے کا نام دیا گیا افلاطوں، ارسطو، سقراط، سے لے کر ڈی کارڈ تک ، دی کارڈ سے لے کر ہیگل تک، سوال و جواب کا ایک لا متناہی سلسلہ،یہ سوچ کا سفر ہے، یہ سوچ کہیں سائنس میں بھی کنورٹ ہو جاتی ہے، نیوٹن کے سامنے ایک سیب درخت سے گرا اس نے سوچا کہ سیب درخت سے گر کر نیچے کیوں آیا،اگر کوئی عام شخص ہوتا تو وہ گرے ہوئے سیب کو زمین سے اٹھاتا ، اس کو دریا کے پانی میں دھوتا اور کھا لیتا، اور چل پڑتا ،یہ سوال نیوٹن اگر عام آدمی کے سامنے رکھتا تو وہ نیوٹن کا شاید مذاق اڑاتا اور کہتا کہ سیب نیچے نہ آتا تو کیا اوپر چلا جاتا مگرنیوٹن کی سوچ نے اس کو ایک اصول کی اور سائنسی قانون کی شکل دے دی،اور وہ ہے کششِ ثقل کا قانون ،اگر یہ قانون نہ بنتا تو ہم کبھی نہ جانتے کہ کہیں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں کشش ثقل کا قانون لاگو نہیں ہوتا، اور ایک خاص طاقت کے ذریعے کشش ثقل کو توڑا بھی جا سکتا ہے اسی اصول پر ہوئی جہاز اڑتے ہیں اور محفوظ رہتے ہیں، ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے مگر اس کی کچھ شرائط ہیں وہ شرائط پوری ہونگی تو یہ قانون لاگو ہوگا ،انگلینڈ میں پارلیمنٹ اور چرچ کے درمیان تین سو سال تک جنگیں رہیں اسی دوران چھاپہ خانے کا بہت مثبت استعمال ہوا،اخبارات نکلے، مسائل
پر بات ہوئی،اختلاف ہوا راستے نکالے گئے پھر کہیں جا کر جمہوریت کا سورج طلوع ہوا،اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور بنا کسی تعصب ہندوستانی نژاد شخص وزیر اعظم بن جاتا ہے اور پاکستانی نژاد خاتون وزیر داخلہ ،یہ جمہوریت کا ہی ثمر ہے ایک وزیر اعظم کو جھوٹ بولنے پر فارغ کر دیا تو دوسرے کو اس بات پر کہ اس نے ایک بدکردار شخص کی سنگت اختیار کی، کچھ دیسی کالم نگاروں نے پھبتی کسی کہ انگلینڈ کا حال بھی پاکستان جیسا ہو گیا مگر وزیر اعظم ہر ماہ بھی تبدیل کرنا پڑے مگر برطانیہ کی پارلیمنٹ اپنے اصول نہیں چھوڑے گی،جب کہ ہمارے ہاں تو اصول ہیں ہی نہیں،تو اصولوں کی پاسداری کیسی،ہمارے ہاں بحث و تمحیث کی روائیت ہی نہیں ،مسلم معاشرے میں یا تو قرآن و سنت کی بات کرکے خاموش کرا دیا جاتا ہے یا پھر فتوے دے کر،یوں بھی ماضی میں خلیفہ کے منہ سے نکلا ہوا لفظ حکم بن گیا اور بادشاہ کے ماتھے کی شکن قانون بن گئی کسی کا شعر ہے
میں دلائل کی بات کرتا ہوں ۔۔آپ آیات پر اتر آئے
ایسے میں کیا بحث اور کیا تمحیث ،جب تک پاکستان میں کتاب کلچر رہا کتابیں رسالے شائع ہوتے رہے ان میں ادبی اور علمی مباحث بھی رہے مگر یہ مباحث صرف ان افراد تک محدود رہے جو کتابیں خریدتے اور پڑھتے تھے،بحث و تکرار رسائل میں رہی، عام لوگوں کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ، بہت ہوا تو اخبارات تک رسائی، ایک صاحب صبح سویرے پورے اسٹاف کو بہت سی خبریں سنایا کرتے تھے ہم نے پوچھا کیا صبح اخبار پڑھ کر گھر سے نکلتے ہیں ہنس کے کہنے لگے نہیں بھئی،ریگل چوک ذرا وقت سے پہلے پہنچ جاتا ہوں اور اسٹالز پر اور زمین پر رکھے ہوئے تازہ اخباروں پر ایک گہری نظر ڈال لیتا ہوں ،یہ بات مذاق نہیں سچی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اخبار خریدنا عام انسان کی دسترس سےباہر ہے،یہ تو بھلا ہو الیکٹرانک میڈیا کا کہ اس نے خبریں گھر گھر پہنچا دیں،اور ٹاک شوز بھی ،اور پھر سوشل میڈیا جوہر موبائل فون سے بندھا ہوا ہے،بحث و تمحیث ہماری روئیت نہیں،ہمیں سوال کرنا نہیں سکھایا گیا ،کہا گیا ہے کہ سوال کرنا گناہ ہے،سو ہمیں وہی قبول کرنا ہے جو ہے اور جیسا ہے۔پاکستان نو سال سر زمینِ بے آئین رہا،ہم نے سوال ہی نہیںکیا کہ ملک بے آئین کیوں ہے؟1956 میں آئین بنا ،جیسا بھی تھا جس دستور ساز اسمبلی نے بنایا وہ منتخب کردہ تھی ہی نہیں ہم نے کب سوال کیا کہ پہلے الیکشن کراؤ،پھر آئین بناؤ، وہ آئین بھی ٹوٹا،ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا، ہمیں کیا،مارشل لاء لگا ،دس سال ایوب خان کی حکومت رہی، دس سال بعد ہمیں بتایا گیا کہ ہمیں جمہوریت کی ضرورت ہے،اور جن کی آواز پر جمہوریت خریدنے نکلے تھے وہ ایوب کی حکمت جانے کے بعد غائب ہو گئے ،پی پی پی نے پاکستان کا آئین بنایا،بھٹو سوشلزم، کے نعرے پر اقتدار میں آئے تھے روٹی کپڑا اور مکان مگر قوم کو اسلامی آئین پکڑا گئے،ہم نے پوچھا ۔کامریڈ یہ ہمارے ساتھ کر دیا، آئین بن گیا مبارک سلامت مگر ہم نے نہیں پوچھا کہ کامریڈ اس آئین میں غریب عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان ہے؟یا یہ بتا دو ہمارے واسطے کیا ہے؟ کیا عزت سے روٹی مل جائے گی؟ہم سوال کیوں کرتے، ہم تو اس قوم سے ہیں جو ہر حال میں صبر کرتی ہے،خدا جس حال میں رکھے ہم شکر بجا لاتے ہیں،راضی بہ رضا، ہم تو مارنے والے بھی نہیں پوچھتےہمارا کیا قصور، ہمیں کیوں مار رہے ہو،ہم مار کھا لیتے ہیں، کل تک حکومت کی جان کبھی اس خبر سے جاتی تھی جو اس کی پالیسی کا بھانڈا پھوڑ دیتی یا کوئی کوئی کالم نگار جو واپڈا جیسے محکمے کے بخئیے ادھیڑ دیتا، جنرل مشرف نے کہا تھا کہ الیکٹرانک چینلز کے لائسنس جاری کرو ،تنقید سے کچھ نہیں ہوگا وہی ہوا اب حامد میر ہوں یا کامران خان کس کو پرواہ مگر سوشل میڈیا جان کو اٹک گیا ہے جس کو regulateکرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکیں،اب حکومت سوشل میڈیا سے ہی خائف ہے،مگر یہاں بھی سوشل میڈیا لوگوںکے لئے تفریح کا سامان زیادہ ہے اور جب سے سوشل میڈیا monitizeہوا ہے mis informationاور disinformation کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے سارا ہی جھوٹ ، پچانوے فی صد ،مگر viewership لاکھوں میں ،تو کیا ہم جھوٹ کو سچ مان رہے ہیں ،یا جھوٹ ہمیں اچھا لگنے لگا ہے ہمیں سکون دیتا ہے یا ہم denialمیں ہیں ،یہ کوئی اجتماعی قومی نفسیاتی مسئلہ ہےمحسن نقوی نے جب نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی تو کچھ مخالفت کچھ تائید،یہ مخالفت یا تائید قوم کی طرف سے نہیں آئی ،مخالفت بھی سیاست دانوں کی جانب سے اور تائید بھی سیاست دانوں کی طرف سے،قوم تو خاموش ،ناہنجار میڈیا تو قوم کی آواز نہیں،الیکٹرانک چینلز پر جتنے صحافی بات کر رہے ہیں ان کو دو چار لاکھ میں خریدا جا سکتا ہے ان کی اپنی کوئی رائے نہیں آدھے نئے صوبوں کی مخالفت میں آدھے حق میں ،زیادہ تر سیاست دانوں کی تائید کر رہے ہیں،سہیل وڑائچ ہوں یا اعزاز سید ،دونوں دبے دبے لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ نئے صوبے نہیں بننے چاہیئے ،یہ دونوں صحافی کہہ رہے ہیں کہ سندھ اور پنجاب کی ایک تاریخی حیثیت ہے،سہیل وڑایچ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہندوستان کی بھی ایک تاریخ تھی، اور تاریخی حیثیت بھی پھر ہندوستان کیسے تقسیم ہو گیا؟ اعزاز سید کہہ رہے تھے کہ کہ سندھ میں ایک زبان ہے ایک تہذیب،ایک لباس ہے اور سندھی اپنی زمین، اپنا پانی اور اپنی زبان ،کے معاملےپر بہت حساس ہیں، اس لئے سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہیئے،ایسا لگتا ہے کہ اعزاز سید نے تاریخ پڑھی ہی نہیں،اعزازسید پی پی پی کی زبان بول رہے ہیں،بلاول کہہ رہے ہیں کہ تاجروں کے فورم اس بحث کے لئے مناسب فورم نہیں یہ بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیئے،بھئی آپ نے آئین، پارلیمنٹ ،قانون،عدلیہ، پولیس، سب کو اپنی جاگیر بنا رکھا ہے کامران خان کے پروگرام میں سابق اٹارنی جنرل منصور نے بتایا کہ نئے صوبوں کے لئے آئین میں تبدیلی کرنی ہوگی،پارلیمنٹ میں وہی لوگ بیٹھے ہیں جن کی وجہ سے نئے صوبے بننے کی تجویز آئی ہے اور رہی آئین کی بات تو آئین نے اب تک غریب کو کون سا تحفظ دیا ہے جو اب دے گا ،آئین ایلیٹ کلاس کا پاسبان ہے ،اس پٹاری سے ایلیٹ کلاس اپنے لئے ہر قسم کا مفاد نکال سکتا ہے بس غریب کا مفاد آئے تو موت پڑتی ہے، جب دباؤ آیا تو کہا جا رہا ہے چلو بلدیاتی نظام لے آتے ہیں، devolution ہوجائیگا decentralization کر دینگے ،اختیارات دے دینگے وسائل نچلی سطح تک پہنچا دینگے تو سوال یہ ہے کہ آئین بننے کے بعد یہ اب تک کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ میں پی پی پی اور مسلم لیگ چالیس سال سے بیٹھے ہیں اب تک اختیارات نچلی سطح تک کیوں نہیں پہنچائے، اب تک وسائل کی تقسیم مناسب طور پر کیوں نہ ہو سکی،جماعت اسلامی آج کل ملک بھر میں دھرنے دے رہی ہے مگر آج کل اسلام کا نام نہیں لے رہی، خبریں یہ ہیں کہ کراچی جماعتِ اسلامی کو دیا جائیگا،ہم نے ایم کیو ایم کا تیس سالہ دور دیکھا پی پی پی کا بھی اٹھارہ سالہ دور دیکھ لیا ،جماعت اسلامی کو بھی دیکھ لیا جائے،کوئی مضائقہ نہیں،شائد کراچی بہتر ہو جائے مگر وہ جو کراچی کے چار ٹھگ ہیں ان کے پر کاٹنے ہونگے،کراچی سے لسانیت ختم کرنی ہوگی،نئے صوبوں کے لئے اگر آئین میں تبدیلی کرنی ہے تو یقین جانئے کہ یہ منتخب نمائندے جن میں زیادہ تر انگوٹھا چھاپ ہیں ترمیم کبھی نہیں ہونے دینگے ،اور سچ تو یہ کہ آئین کسی کام کا رہا نہیں ،جو آئین کسی کام کا نہیں تو اُسے بھاڑ میں ڈالیں اور اللہ کا نام لے کے کمیونزم لے آئیں ایک سوشلسٹ نظام ہی اب اس ملک کو بچا سکتا ہے ۔



