بے معنی جنگیں:بارود سے بازار تک!

دنیا ایک بار پھر توانائی کے ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں تیل کی قیمتیں محض گیس اسٹیشنوں تک محدود مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ پوری عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لےلیتی ہیں۔تیل کو جدید معیشت کا بنیادی ایندھن کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنی صنعتی سرگرمیوں، تجارت اور نقل و حمل کے لیے کسی نہ کسی صورت میں تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرکسی ملک میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں، تجارت کے اخراجات اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر بھی پڑتے ہیں۔ دُنیا بھرمیں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ گیس کی قیمت بڑھتی ہے تو حکمرانوں کے دفاتر میں شاید صرف چند اعداد تبدیل ہوتے ہیں، مگر عام آدمی کے گھر میں اس ایک فیصلے سے پورا بجٹ اُلٹ جاتا ہے۔ بازار کا رخ بدل جاتا ہے، دسترخوان سکڑ جاتے ہیں اور بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں بھی حساب کتاب کی نذر ہو جاتی ہیں۔ ان فیصلوں کی قیمت آخر کون ادا کرتا ہے؟جواب بہت سادہ ساہے’’ عام آدمی‘‘۔عام آدمی کے لیے یہ بحث اعداد و شمار سے زیادہ روزمرہ زندگی کا مسئلہ ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کیوں بڑھی، اس کی پہلی فکر یہ ہوتی ہے کہ اگلے ماہ گھر کا بجٹ کیسے چلے گا، سفر کے اخراجات کہاں تک پہنچیں گے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اور مزید کتنی بڑھیں گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی اقتصادی فیصلوں کا براہِ راست تعلق عوام کی زندگی سے جڑ جاتا ہے۔
تیل کی بڑھتی قیمتیں دراصل عالمی معیشت کے لیے ایک آئینہ ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ ہماری معیشتیں توانائی کے ایک محدود ذریعے پر کس قدر انحصار کرتی ہیں اور عالمی سیاسی حالات سے کتنامتاثر ہوتی ہیں۔ اگر دنیا نے اس امتحان سے سبق سیکھا اور توانائی کے زیادہ متنوع اور پائیدار نظام کی طرف پیش قدمی کی تو موجودہ بحران ایک نئے معاشی راستے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پرانے انحصار کو ہی مستقبل سمجھ لیا گیا تو تیل کی ہر نئی قیمت عالمی معیشت کے لیے ایک نیا امتحان بن کر سامنے آئے گی۔تیل نے دنیا کو چلایا بھی ہے اور کئی مرتبہ الجھایا بھی ہے۔ اس نے صنعتی ترقی کو رفتار دی، تجارت کو وسعت دی اور جدید معیشت کی بنیاد مضبوط کی، مگر اسی تیل نے عالمی طاقتوں کے مفادات کو بھی ایک دوسرے کے قریب اور بعض اوقات ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا۔آج دنیا کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں کہ تیل کہاں سے حاصل کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ توانائی کا ایسا مستقبل کیسے بنایا جائے جو زیادہ محفوظ، سستا اور پائیدار ہو۔ اگر دنیا نے اس سوال کا بروقت جواب تلاش نہ کیا تو تیل کی ہر نئی قیمت، ہر نئی جنگ اور ہر نئی سپلائی کی رکاوٹ عالمی معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔
دنیا نے دو عظیم جنگوں کی تباہی دیکھی ہے۔ تاریخ نے ہمیں بارہا بتایا کہ جنگ کا اختتام کسی ایک فریق کی فتح سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ شہر دوبارہ تعمیر ہو سکتے ہیں، سڑکیں دوبارہ بن سکتی ہیں، معیشتیں کسی نہ کسی طرح سنبھل سکتی ہیں، مگر جو جانیں چلی جائیں، جو خاندان بکھر جائیں اور جو نسلیں خوف کے سائے میں پروان چڑھیں، انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا۔پھر بھی نہ جانے کیوں انسان جنگ سے سبق نہیں سیکھتا؟طاقت کے نشے میں یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ ہر بم کے نیچے کوئی گھر ہے، ہر دھماکے کے پیچھے کسی کی زندگی ہے اور ہر جنگ کے آخر میں فاتح بھی ایک زخمی دنیا کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے؟جنگ کبھی صرف سرحد پر نہیں لڑی جاتی۔ اس کے شعلے توپوں کی گھن گرج سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔جنگ کے نعرے بلند کرنے والوں کے بچے شاید محفوظ گھروں میں رہتے ہوں، مگر بمباری کے نیچے وہی ماں ہوتی ہے جو اپنے بچے کو سینے سے لگا کر زندگی کی دعا مانگتی ہے۔جنگ کے فیصلے کرنے والے شاید اعداد و شمار دیکھتے ہوں، مگر عام آدمی صرف اتنا دیکھتا ہے کہ آج گھر کی گروسری میں کیا کم کرنا ہے۔ دنیا کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ طاقت کے کھیل میں انسان اکثر صرف ایک عدد بن کر رہ جاتا ہے۔ کہیں ہلاکتوں کے اعداد گنے جاتے ہیں، کہیں بے گھر ہونے والوں کی تعداد، کہیں تباہ شدہ عمارتوں کا حساب،مگر اِن اعداد کے پیچھے موجود انسان کی تکلیف کو کون گنتا ہے؟اقتدار کی میزوں پر بیٹھے لوگ جنگ کے فیصلے کرتے ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، نقشوں پر لکیریں کھینچی جاتی ہیں اور فتح و شکست کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ مگر ان فیصلوں کا اصل بوجھ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جن کو جنگ کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔آج دنیا کو مزید جنگوں کی نہیں، مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ مزید اسلحے کی نہیں، مزید انسانیت کی ضرورت ہے۔ مزید نفرت کی نہیں، مزید دانش مندی کی ضرورت ہے۔اور ہمارے جیسے ممالک کے لیے تو امن کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ عالمی بحران کا ایک جھٹکا ہماری کمزور معیشتوں میں کئی گنا شدت سے محسوس ہوتا ہے۔جنگ کا ایک محاذ سرحد پر ہوتا ہے اور دوسرا بازار میں۔کتنی عجیب بات ہے کہ جنگ کا فیصلہ طاقتور کرتے ہیں اور کفارہ کمزور ادا کرتے ہیں۔جنگ کسی ملک کو شاید وقتی طور پر طاقتور دکھا دے، مگر مسلسل جنگیں پوری دنیا کو کمزور کر دیتی ہیں۔
دنیا نے ترقی کی دوڑ میں بہت کچھ حاصل کر لیا، مگر اس دوڑ کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ آج بھی جدید تہذیب کا پہیہ تیل کے سہارے گھوم رہا ہے۔ انسان نے چاند تک رسائی حاصل کر لی، مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی دنیائیں دریافت کرنے لگا، الیکٹریکل گاڑیوں اور متبادل توانائی کے خواب دیکھنے لگا، لیکن تیل کی ضرورت اب بھی عالمی معیشت کی سب سے بڑی حقیقتوں میں شامل ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا تیل کے پیچھے بھاگ رہی ہے اور تیل دنیا کو اپنے پیچھے دوڑا رہا ہے۔ موجودہ بحران ایک نئے معاشی راستے کی بنیاد بن سکتا ہےیہ صورتحال دنیا کو ایک بنیادی سوال کی طرف بھی لے جاتی ہے،کیا عالمی معیشت ہمیشہ تیل پر اسی شدت سے انحصار کرتی رہے گی؟ شاید اس سوال کا جواب اب توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان میں پوشیدہ ہے۔ شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی، الیکٹرک سے چلنے والی گاڑیاں اور دیگر متبادل ذرائع آنے والے برسوں میں عالمی توانائی کے منظرنامے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس تبدیلی کے لیے وقت، سرمایہ کاری اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ تیل ہوا سے باتیں کر رہا ہے، مہنگائی آسمان چھونے لگی ہے اور عام آدمی زمین پر کھڑا اپنی جیب ٹٹول رہا ہے۔حکمران اپنے اعداد و شمار سنبھال رہے ہیںمگر ،یہ عام آدمی کہاں جائے؟ایسی جنگ، جس کا فیصلہ دنیا کے طاقتور ایوانوں میں ہوتا ہے، اس کا اثر ایک غریب گھر کے باورچی خانے میں سنائی دیتا ہے۔چولہے کی مدھم آنچ میں۔حکمران شاید جنگ کے اخراجات کو اربوں اور کھربوں میں گنتے ہیں، مگر ایک غریب آدمی کے لیے جنگ کا مطلب کبھی صرف چند سو ڈالر کی گروسری ہوتا ہے، کبھی مہنگا سفر، کبھی بجلی کا بھاری بل اور کبھی وہ دوا اور علاج جو اس کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔اور جب جنگ لمبی ہو جائے تو مہنگائی بھی بے لگام ہونے لگتی ہے ، پٹرول کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی، بازار مہنگے ہوتے رہیں گے اور حکومتی بیانات میں معیشت کے استحکام کی خبریں آتی رہیں گی!!!!!۔



