Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

دشمن تو آپ ہیں حضور اس ملک و قوم کے !

پنجاب کی رانی مریم نواز کے والدِ بزرگوار کی شہرت یہ ہے کہ وہ عقل و خرد سے پیدل اور فارغ ہیں۔ آسان لفظوں میں انہیں گھامڑ کہا جاسکتا ہے لیکن یہ گھامڑ تین بار پاکستان کا وزیرِ اعظم رہا ہے اور چوتھی بار ہونے کا منصوبہ لندن میں بنایا گیا تھا جس کے تحت عاصم منیر فوج سے ریٹائر ہونے کے باوجود ملک کی بری فوج کا سربراہ ہوگیا اور پاکستان پر اپنے پنجے گاڑنے کا اسے موقع مل گیا، جو پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے!لیکن مریم نواز کی اپنی شہرت یہ ہے کہ وہ بلا کی شاطر اور چالباز ہے، لومڑی کی طرح، اور اپنے مخالفین کے خلاف زہر اگلنے کا تو پنجاب کی رانی کو بطورِ خاص ملکہ حاصل ہے!مریم نواز کا حالیہ بیان جو ابھی ایک روز پہلے داغا گیا ہے ان کی اس زہر افشانی کا منہ بولتا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے!انہوں نے اپنی حبِ الوطنی جتاتے ہوئے اور ان کے سرپرست کے سرپرست ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح اپنی مدح سرائی کرتے ہوئے یہ زہر اُگلا کہ ان کی بےمثال قیادت میں پنجاب تو سرپٹ بھاگ رہا ہے لیکن اس میں دہشت گردی دوسرے صوبوں سے آرہی ہے !مریم نے پاکستان کے دشمنوں کا نام نہیں لیا، ان پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا بلکہ پاکستانی وفاق میں شامل دیگر تین صوبوں پر انگلی اٹھائی کہ وہ ان کی قیادت کو ناکام کرنے کیلئے ان کی قلمرو میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں !محترمہ نے اپنی زہر افشانی کا رخ پڑوسی بھارت کی طرف نہیں موڑا کیونکہ ان کے خاندان کی بھارت نوازی تو پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے۔ ان کے فارغ العقل والدِ بزرگوار نے تو اپنے دوست بھارتی پردھان منتری نریندر مودی کو خوش کرنے کیلئے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ بمبئی میں نومبر 2005ء میں جو دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا، اور جس کے متعلق غیر متعصب مبصرین یہ کہہ چکے ہیں کہ خود بھارتی خفیہ ایجنسیاں اس کے پسِ پشت تھیں، وہ پاکستان نے کروایا تھا!پاکستان دشمنی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت دے سکتے تھے اس پر تین بار مسلط رہنے والے گھامڑ نواز شریف لیکن کیا کیا جائے کہ ملک کے وہ تنہا دشمن نہیں ہیں، ان کا کنبہ تنِ تنہا ملک و قوم سے غداری نہیں کر رہا بلکہ اس میں سب سے کلیدی کردار تو اُن وردی پوش یزیدیوں کا ہے جو نواز شریف کی اور اس کے پاکستان دشمن کنبہ کی سرپرستی کرتے آئے ہیں، آج سے نہیں بلکہ گذشتہ نصف صدی سے!مریم نواز کی رگِ خباثت پھڑکنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ، سہیل آفریدی ان دنوں سندھ میں ہیں، بلکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ کراچی پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی آمد کا مقصد یہ ہے پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی کے شہریوں کو اس دھرنے کیلئے تیار کرنا ہے جس کا اعلان تحریکِ انصاف نے پچھلے مہینے کیا تھا اور جس کا مقصد اپنے اور ملکِ پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر، عمران خان، کو اس قید سے رہائی دلوانے کا ہے جس میں یزید عاصم منیر اور اس کے جرنیلی ٹولہ نے اپنی دشمنی کے ہاتھوں گذشتہ تین برس سے رکھا ہوا ہے!عسکری یزیدی ٹولہ نے پنجاب تو اپنی منظورِ نظر مریم نواز کو سونپا ہوا ہے لیکن سندھ ان یزیدیوں نے ڈکیت آصف زرداری کی تحویل میں دیا ہوا ہے کہ خود بھی اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹو اور اس لوٹ میں ہمارا حصہ ہمیں دیدو۔سو زرداری بری طرح سے سندھ کے وسائل پر اپنے غلیظ ہاتھ صاف کر رہا ہے۔ اگرچہ ان دنوں عاصم منیر اور زرداری میں نورا کشتی ہورہی ہے اسلئے کہ زرداری سندھ کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کی جاگیر میں کوئی اور اپنا حصہ لینے کا دعویدار ہو۔ جبکہ عاصم منیر کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ چار صوبوں کی جگہ ملک میں بائیس یا چوبیس صوبے بنائے اور پھر اس منتشر پاکستان پر ایوبی دور کا صدارتی نظامِ ریاست دائر کرکے خود تا حیات اس کا صدر بن جائے!اس غاصب عاصم منیر کی ہوسِ اقتدار کی کوئی حد نہیں ہے! اسے طاقت اور اقتدار کا وہ نشہ ہے جو ٹوٹنے کے بجائے دن بہ دن تیز سے تیز تر ہوتا جارہا ہے۔ یہ اپنی ہوسِ اقتدار میں اس سے پہلے کے چار عسکری طالع آزماؤں کو میلوں پیچھے چھوڑ چکا ہے لیکن اس کی بھوک ہے کہ مٹتی نہیں ہے !نئے صوبوں کا شوشہ اس نے اور اس کے گماشتے محسن نقوی نے مل کے چھوڑا ہے اور محسن نقوی اس ضمن میں اتنا چھچھورا اور اتنا کم ظرف ہے کہ اب انگلستان میں بیٹھ کر یہ بھاشن دے رہا ہے کہ اس کی ملازمت رہے یا نہ رہے لیکن وہ مزید صوبے، جنہیں وہ انتظانی یونٹس کا نام دے رہا ہے، بنانے کے اپنے شیطانی کام کو آگے بڑھانے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے گا!محسن نقوی کا سایہ بھی اپنے سرپرست عاصم منیر کی طرح بے انتہا نحس ہے۔ اس گماشتے نے پاکستان کرکٹ کو جو حلیہ بگاڑا ہے وہ ہر محبِ وطن پاکستانی کو خون کے آنسو رلادینے کیلئے بہت ہے۔ وہ ٹیم جس نے عمران خان کی قیادت میں دنیا سے اپنا لوہا منوایا تھا اب اس منحوس محسن نقوی کی سرپرستی میں دنیائے کرکٹ میں ایک مذاق بن کے رہ گئی ہے۔ وہ نامور کرکٹر جو پاکستانی کرکٹ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے آج اس کی ناقص کارکردگی پر نالاں ہیں اور صاف الفاظ میں بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ زوال کا شکار ہے اور اس کیلئے وہ لوگ جو اس کی انتظامیہ سے متعلق ہیں قصوروار ہیں!دس بارہ دن پہلے کرکٹ کی دنیا کے بائیس (22) نامور مشاہیر میں جن میں بھارت کے سنیل گواسکر، کپل دیو اور آسٹریلیا کے چیپل برادران سمیت انگلستان، سری لنکا، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے ماضی کے درخشاں ستاروں نے کٹھ پتلی وزیرِ اعظم (لاحول ولاقوۃ) شہبار شریف کے نام ایک مشترکہ خط الم نشرح کیا تھا جس میں اس سے اپیل کی گئی تھی کہ عمران خان کے ساتھ بدسلوکی بند کی جائے، اس کے عالمی مرتبہ اور شہرت اور ساکھ کے مطابق اس کو وہ سہولیات فراہم کی جائیں جن کا وہ ہر طرح سے حقدار ہے۔اب اس اپیل میں ویسٹ انڈیز کے شہرہء آفاق برائن لارا نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور حکومتِ پاکستان سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ عمران جیسے ستارے کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے جو حقوقِ انسانی کے زمرہ میں آتا ہو نہ کہ اس کے ساتھ سیاست کھیلی جائے!
کرکٹ کی دنیا کے ان مشاہیرکو انسانی حقوق اور ان کے احترام سے کما حقہ آگہی ہے لیکن پاکستان پر مسلط یزیدی عسکری ٹولہ کیلئے جہاں عمران کا نام آتا ہے ان حقوق انسانی اور ان کے احترام سے کوئی لگاؤ نہیں رہتا بلکہ حقوقِ انسانی ان کیلئے نا آشنا ہوجاتے ہیں اسلئے کہ عاصم منیر ایک انتہائی کم ظرف انسان ہے جو عمران سے انتقام کی آگ میں جل رہا ہے، بلکہ پوری طرح سے اس آگ میں بھسم ہوچکا ہے۔ انسانیت کے ہر معیار سے گر چکا ہے یہ چھٹ بھیا! لندن میں لارڈز کے میدان میں نامور کرکٹر اور انگلستان کے سابق کپتان، مائیکل اتھرٹن، جو اب کرکٹ کمنٹری میں بھی اپنا اعلیٰ مقام بنا چکے ہیں ، کھیل کے تیسرے دن جب پاکستانی ٹیم اپنے حریف کے عمدہ کھیل کے سامنے پانی بھر رہی تھی، عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان کا انٹرویو کر رہے تھے جو انگلستان کی مشہورِ زمانہ اسکائی ٹیلیویژن چینل نے لائیو نشر کیا، اس پر کھیل چھوڑنے کی دھمکی نے، جو گیدڑ بھبھکی ثابت ہوئی ، ثابت کردیا کہ عاصم منیر کس حد تک گرسکتا ہے اور کس کس طرح یہ طالع آزما پاکستان کو دنیا کی نظروں میں ذلیل اور رسوا کر رہا ہے، بدنام کر رہا ہے!لیکن عاصم منیر کو اس کی ہوسِ اقتدار نے بالکل اندھا کردیا ہے۔ اب اپنے تازہ کارنامہ میں اس نے بدنامِ زمانہ آئی ایس آئی کے رسوائے زمانہ میجر جنرل نصیر کو جسے عمران نے "ڈرٹی ہیری” کا نام دیا تھا اور وہ اپنے سیاہ کرتوت کے سبب اسی نام سے پہچانا جاتا ہے، نیکٹا نام کے اس ادارہ کا سربراہ نامزد کردیا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے!
یہ سب کارروائی اس پیش بندی کے تحت ہورہی ہے جو یزیدی ٹولہ تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کے دھرنے کو ناکام کرنے کیلئے ہو رہی ہے!آصف زرداری یزید سے اپنی ناراضگی کا ڈرامہ رچا کے لندن میں بیٹھا ہوا ہے لیکن دنیا اس شیطان کے کردار کو بخوبی جانتی ہے اور سب کو یقین ہے کہ یہ آنکھ مچولی بہت جلد ختم ہوجائے گی اور زرداری اور اس کا سپوت بلاول اسی تنخواہ پہ کام کرتے رہینگے!لیکن سہیل آفریدی کی کراچی میں آمد کا راستہ روکنے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد سندھ کی ڈکیت حکومت اب سہیل آفریدی کی مزارِ قائد پر جلسہ کرنے کی راہ میں ہر ممکنہ رکاوٹیں لگا رہی ہے۔ کراچی میں مزارِ قائد کی سمت جانے والی ہر شاہراہ کو کنٹینر لگا کے بند کردیا گیا ہے۔ان یزیدیوں کو کنٹینر لگانے کا بڑا شوق ہے اور جس شہر میں یہ بزدل اور کائر اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں اسے کنٹینروں کا قبرستان بنادیتے ہیں! ویسے تو پورے پاکستان کو قبرستان بنانے کا کام پوری تندہی سے جاری ہے لیکن بابائے قوم کے مزار کو کنٹینروں سے گھیر کے یہ یزیدی وہ گناہ کر رہے ہیں جس کا انہیں کوئی شعور اور ادراک نہیں ہے!بابائے قوم، جو اپنی پوری زندگی قانون اور آئین کی سربلندی اور پاسداری کا احترام کرتے رہے، آج ان یزیدیوں کی گراوٹ پر عالمِ بالا میں کتنے بیقرار ہونگے۔ لیکن قائد کو یہ معلوم ہے کہ ان کا پاکستان اس وقت اس کے اور بابائے قوم کے بدترین دشمنوں کی زد میں ہے اور ان کم اوقات چھٹ بھٔیوں کے بوئے ہوئے زہریلے بیج کی فصل کاٹ رہا ہے!کتنے مغموم ہونگے بابائے قوم اپنے بنائے ہوئے ملک کے اس المناک انجام پر !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button