پاکستان کو کیسے بچائیں؟

دوستو، پاکستان دن بدن مشکلات میں پھنستا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے حکمران دین و دنیا سے غافل، سیر و تفریح اور عیاشیوں میں مشغول ہیں۔ وہ بھی کیا کریں۔ پاکستان کے مسائل ان کے بس سے باہر جا چکے ہیں۔ قوم پر قرضوں کے انبار لگے ہیں۔ اب تو ان قرضوں پر سود دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔کوئی نیا قرض دینے پر تیار نہیں۔ ملک کرپشن کے گورکھ دھندے میں ایسا پھنسا ہے کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں نظر آتا۔لیکن ماشااللہ۔ وزیر اعظم اور سپہ سالار کی جوڑی تندہی سے، امریکی صدر کے جوتے پالش کرنے میں جتی ہوئی ہے۔ اس کویہ غلط فہمی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران میں جنگ بند کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ان کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ جنگ کیوں ہوئی اور اس کے محرکات کیا تھے۔ اور یہ کہ ایک فریق جواپنا ایک سپاہی نہیں مروانا چاہتا، وہ مصر ہے کہ امریکہ ایران کو اتنا مارے ، اتنا مارے کہ ایران الامان الامان کرتا پھرے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے پنگا لے لیا ہے۔ اب کانگریس اسکو جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور وہ حیلے بہانے سے گولا باری کرتا رہتا ہے۔ اور ایران اس کا بھر پور جواب دیتا ہے۔لیکن اگر جنگ بندی ہو بھی گئی تو پاکستان کو کیا ملے گا؟ ٹھینگا؟ٹرمپ نے کوئی نقد امداد تو دینی نہیں جس سے پاکستان کے قرضوںمیں کوئی کمی ہو؟ پاکستان کو اپنے اندرونی حالات کا اندازہ ہی نہیں۔ اسکی فوج نے بلوچستان میں باغیوں کا لشکر بنا دیا جو بلوچستان کو آزاد کروانے پر تلا ہے۔ پاکستان کے دشمن تو اس تاک میں ہیں کہ کب وہ یہ اعلان سنیں اور ان کی مدد کو پہنچیں۔ فوج اتنا خطرناک کھیل کیوں کھیل رہی ہے؟ فوج کیوں نہیں پاکستانی سیاسی قیادت کو بلوچستان سے مذاکرات نہیں کرنے دیتی؟تعجب ہے۔ اگر بلوچوں کے جائز مطالبات کو مان کر ان کے علیحدگی پسندانہ عناصر کو راضی کر لیا جائے تو بغیر خون خرابے کہ حالات معمول پر آ سکتے ہیں۔ صرف ایک مسئلہ ہے۔ فوج کو اپنا بجٹ بھی تو منظور کروانا ہوتا ہے، یہ حکمت عملی ان کی لمبی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔اسی حکمت عملی کے اور حصے ہندوستان سے مخاصمت، دہشتگردی کا فروغ اور ملک میں لسانی اور فرقہ وارانہ مسائل جن کو حسب ضرورت چنگاری لگا کر شعلوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔فوج کو اپنی اہمیت تو جتانی ہے تبھی اس کا بجٹ قومی اسمبلی پاس کرے گی۔ہندوستان سے دشمنی تو پرانی بات ہے۔ اب افغانستان سے بھی پنگا لے لیا ہے۔ حالانکہ اگر پاکستان پس پردہ افغانستان کی مدد نہ کرتا تو امریکہ کو اتنی جلدی شکست نہ ہوتی۔ امریکہ جانتا تھا کہ پاکستان حقانی گروپ کی مدد کرتا ہے جو طالبان کا ایک بڑا حصہ تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکنوں کے فرار کے بعد پاکستان طالبان کی مدد کو جاتا۔ اس نئے ملک کو پیر جمانے میں مدد کرتا۔ لیکن پاکستان تو اپنی ہدایات امریکہ سے لیتا ہے۔ امریکنوں کو صہینویوں نے کہا کہ بیوقوفو، جب افغانستان سے نکلے تو بگرام کی ائیر بیس کیوں چھوڑی؟یہ ایر بیس تو بہت قیمتی مقام تھی جہاں سے ایران،پاکستان اور چین تک پر فضائی حملے کرنا نہایت آسان تھا۔اور عزرائیل کو ایران اور پاکستان پر جارحانہ حملے کرنے کے منصوبے تھے۔ اسلئےپاکستان کو کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ کرے بلکہ جنگ کے حالات بنا لے۔تا کہ کسی نہ کسی طور بگرام ائیر بیس پر قبضہ دلوا دے۔پاکستانیوں کو معلوم نہیں یہ سمجھ ہے کہ نہیں، اگر بگرام ائیر بیس پر امریکیوں کا قبضہ ہو گیا تو وہاں سے جنگی جہاز پاکستان پرپھول برسانے نہیں آئیں گے، بلکہ وہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں پر خوفناک بمباری کریں گے۔اس سے پہلے انہیںایران پر موثر بمباری کے اڈے مل جائیں گے۔پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ جتنی مہربانیاں کیں، بجائے ان کا فائدہ لینے کے، ان کو بھارت کی گود میں پھینک دیا۔ان کے ساتھ بھارت نے ایک بڑے بھائی کا سلوک کیا اور پاکستان کے خلاف محاذ آرا کیا ۔ اسے کہتے ہیں، حکمت عملی کی فاش غلطی۔اب پاکستان کو عزرائیل کے لیے افغانوں کے ساتھ جنگ میں الجھنا پڑ رہا ہے جو بالکل پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی غلط قدم ہے۔اگر پاکستان امریکہ کوبگرام ائیر بیس لے دیتا ہے تو وہ ہولناک خود کشی ہو گی۔پھر ترکیہ سے پہلے عزارئیل اور امریکہ نے پاکستان کو نشانہ بناناہے۔ سوچ لیں۔پاکستان کو چاہیئے کہ امریکہ بہادر کو صاف جواب دے کہ وہ اپنے ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان پر کبھی جنگ مسلط نہیں کرے گا یہ اس کی اپنی علاقائی سلامتی کو خطرہ میں ڈال دے گی۔اس کے لیے امریکہ کسی اور کو استعمال کرے۔جیسے ہندوستان۔ہندوستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ اور بھی خطرناک ہے۔پہلی بات یہ کہ ہندوستان ہم سے پانچ سے دس گنا بڑا ملک ہے۔ اسکے مالی وسائل ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کی افرادی قوت، فوج، ایٹمی توانائی اور سمندری طاقت کہیں زیادہ ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمیں بھارت سے بجائے جنگ کے صلح کرنی چاہیے، کشمیر کے مسئلہ کو تعلقات کی راہ میں روڑانہیں بنانا چاہیے۔ہماری کشمیر کی پالیسی واضح ہونی چاہیے کہ ہم دونوں حصوں کو حق خود ارادیت دینا چاہتے ہیں۔اب تو ہم نے ، افواج پاکستان کی مہربانی سے،آزاد کشمیر میں ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ وہ بھی خود مختاری کا سوچ رہے ہونگے؟ اس لیے حالات سازگار ہیںپاکستان اور ہندوستان صلح کا ہاتھ بڑھائیں ۔ انڈس بیسن معاہدے پر عمل کریں۔ اور پاکستان بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود کو کھول دے۔ دونوں ملک آپس میں تجارت اور انسانی آمد و رفت کے دروازے کھول دیں۔کیا میں بہک رہا ہوں؟ اگر فیلڈ مارشل کو پتہ چل گیا تو میرا کیا حشر ہو گا؟ لیکن کہتے ہیں جابر حاکم کے سامنے کلمہء حق کہنا بھی جہاد ہوتا ہے۔تو اس ہی چمدان کا جہاد ہی سمجھیں۔البتہ یہ تمام اقدام با قائدہ سوچ بچار، اور ان کے فوائد اور ممکنہ نقصانات کا پورا جائزہ لیکر کئے جائیں۔ مثلاً جب بھارتی تجارتی سامان پاکستان سے گذر کر افغانستان، اور وسط ایشیاء جائے گا تو اس سے پاکستان کی تجارت پر کیا اثر پڑے گا؟ یہ غور طلب معاملہ ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ پاکستان کیا اشیاء بھارت کو بیچے گا؟ اور اس کے بدلے میں کیا خریدے گا؟ کیا ہمارے لیے بارٹر کرنا بہتر ہو گا یا سودا نقد و نقد؟کیا ہم اس تجارت پر آہستہ آہستہ پابندیاں اٹھائیں تو بہتر ہو گا یا ایک دم؟ہمیں جان لینا چاہیئے کہ بھارت ایک عرصہ سے تڑپ رہا ہے کہ پاکستان کے زمینی راستے کھلیں اور وہ وسط ایشیا کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے۔پاکستان کو یہ راستے تو کھولنے چاہئیںلیکن اچھی طرح سے مضمرات او رنفع نقصان کی مکمل تحقیق کے بعد، ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے جس میں دونوں کا فائدہ ہو۔دونوں ملکوں کو ایک فائدہ تو ضرور ہو گا کہ جو موجودہ تجارت سمگلنگ کے ذریعے ہو رہی ہے، اور اس سے دونوں ملکوں کو ٹیکس کی شکل میں نقصان ہو رہا ہے، وہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا۔بھارت سے صرف اس لیے دشمنی رکھنا اور بڑھانا کہ اس سے پاکستانی فوج کو اپنا بجٹ بڑھانے اور لینے میں آسانی ہو گی ایک نہایت افسوسناک امر ہے۔پاکستان جن مشکلات میں گھرا ہو ہے وہ اب فوج کے دس فیصد کو بھی نہیں سہار سکتا۔ اگر قرضے نہ ملے تو پاکستان کرنسی نوٹ چھاپنے پر مجبور ہو جائے گا جس سے انتہائی خوفناک کثرت زرکی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔اس سے نہ فوج کو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ حکومت کو۔ اس لیے فوج کو لشکر کشی کے خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہئیں۔پاکستانی اب تک جان چکے ہیں کہ دہشت گردی بھی عسکری ضروریات کے تحت شروع کی گئی تھی۔ اب اس کو ختم کر دینا چاہیے۔ اگر فوج سرحدوں کی حفاظت سختی سے کرے تو کم از کم بیرونی دہشت گرد اور بھارت کے بھیجے ہوئے پاکستان میں داخل ہی نہیں ہو سکیں گے۔ہم کئی بار دہشت گردی کا خاتمہ کر چکے ہیں لیکن وہ ہیں کہ نکلے ہی چلے آتے ہیں۔ اگر ہم افغانستان اور بھارت سے تعلقات بہتر کر لیں تو وہ بھی ہماری مدد کر سکتے ہیں اور بیرونی دہشت گردوں سے مستقلاً چھٹکارا مل سکتا ہے۔پاکستان کی فوج کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان فوج کے لیے نہیں بنا بلکہ فوج پاکستان کے لیے بنی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوج امریکی دبائو سے نکل سکتی ہے؟ بالکل نکل سکتی ہے اگر ملک میں منتخب نمائیندوں کی حکومت بننے دی جائے۔ جیسے عمران خان کی حکومت۔ وہ مرد مجاہد امریکہ سے بغیر جھگڑا کئے آزادی لے سکتا ہے۔ در حقیقت یہی واحد حل ہے پاکستان کو تباہی سے بچانے کا۔ زرداری اور نون لیگیوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب اسے کوئی مخلص، ایماندار اور دور اندیش قائدہی بچا سکتا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے قائدکو ملک کی قیادت لینے سے روکا گیا تو مفاد پرستوںکے اس ٹولے کو ذرہ بھر پرواہ نہیں ہو گی کہ ملک کا دیوالہ نکلے یا فیل سٹیٹ بنے۔وہ تو اپنے گھروندے بیرون ملک بنا چکے ہیں۔جیسے اکثر فوجی جرنیل اور سیاست دان۔ ان کی اولادیں اور عزیز و اقربا ، امریکہ، برطانیہ ،یوروپ اور خوشحال ایشیائی ملکوں میں کبھی کے آباد ہیں۔ اب تو نون لیگ اور فیلڈ مارشل نے پرائیویٹ جیٹ بھی خرید لیے ہیں جو ہمہ وقت ان کو اڑا کر کہیں بھی لے جا سکتے ہیں۔اس لیے ان کو کوئی خطرہ نہیں۔ رہ گئے عوام، تو ان کی فکر کبھی کسی کو نہیں ہوئی، اور نہ ہو گی۔ ہم ایک بار پھر دہراتے ہیں، اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو اس کو مکمل جمہوری بنائیں۔ فوج کو وہی کرنا چاہیے جس کے لیے وہ بنی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹ یعنی صوبے کم ہیں۔ لیکن ان کی کانٹ چھانٹ سے پہلے ہمیں ایک فعال، با اختیار اور مالی لحاظ سے مقامی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھنے والا مقامی حکومتوں کا نظام چاہیے، جو آج تک ایک خواب ہی بنا ہوا ہے۔ اگر آپ نے بارہ یا زیادہ صوبے بنا دیئے تو وہ اتنی بڑی نوکر شاہیاں بن جائیں گی کہ عوام کی زندگی اور مشکل ہو جائے گی۔حکومت کے خراجات ہی سارا بجٹ کھا جائیں گے؟ کرپشن کا نظام بھی تین چار گنا بڑھ جائے گا۔ یہ سارا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کیا کسی ماہر اقتصادیات نے زیادہ صوبے بنانے پر کوئی تحقیق کی ہے؟چونکہ ملک میں اہلیت کی بنیاد پر نوکری دینے کا رحجان نہیں ہے، سب سفارشی اور نا اہل لوگ سرکاری کرسیوں پر جا بیٹھیں گے۔پھر دیکھیئے ملک میں کیسی بہار آتی ہے؟فوج کو غالباً کسی چیز کی فکر نہیںہے سوائے اس کے کہ گورنر ا ن کا ہو اور وہ جلدی سے گورنر راج لگا دے، پھر وہی کہ گلیاں ہون سونیاں تہ وچ رانجھا یار پھرے۔راقم کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اب فوج کا کونسا کام رکا ہوا ہے۔ کم از کم پنجاب میں ان کی تابعدار وزیر اعلی ان کے لیے جا ن دینے کو بھی تیار ہیں۔سندھ میں بلورانی بھی انکا دم بھرتی ہے۔بلوچستان اور کے پی میں بھی کوئی خاص رکاوٹ نہیں۔ذرا غور کیجئیے کہ آپ کے کون سے کام رکے ہوئے ہیں جو فوجی گورنر آکر کریں گے؟خدا کے لیے پہلے مقامی حکومتوں کو فعال کیجئیے۔ پھر صوبوں کا سوچئیے۔یاد رکھیں۔پاکستان ہے تو سارے مزے ہیں۔ اگر پاکستا ن ہی لاغر اور کمزور ہو گیا تو ، اس سے کیا کمائیں گے اور کیا لوٹیں گے؟ جہاںتک ٹرمپ کا تعلق ہے جانتے ہیں اس نے ان افغانیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جنہوں نے اپنی زندگی کی بازی لگا کر طالبان سے جنگ میں امریکیوں کی مدد کی؟ اس نے ان کو امریکہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ ایسے ہوتے ہیں احسان فراموش۔



