Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

سعودی عرب اور نیا ملٹی پولر ورلڈ آرڈر!

اقوام عالم کے باہمی تعلقات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ ان میں مد و جزر آتا رہتا ہے۔لیکن امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات گزشتہ سات دہائیوں سے کسی خاص تغیرو تبدل کا شکار نہیں ہوئے۔ بسا اوقات فروعی مسائل انکے درمیان کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ جیسے کہ اکتوبر 2018 میں ممتاز صحافی جمال خشوگی کا استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں قتل۔ یہ ہلاکت امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دو ڈھائی برس تک کشیدگی کا باعث بنی رہی لیکن اس دوران دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات قائم رہے۔ ریاض کی حکومت دھڑادھڑ امریکی اسلحہ خریدتی رہی اور واشنگٹن نے اپنی حفاظتی چھتری سعودی عرب کے سر پر تانے رکھی۔ لیکن اب یہ صورت حال برقرار نہیں رہی۔ اب سب کچھ نہ سہی کچھ نہ کچھ ضرور تبدیل ہوا ہے۔ سعودی حکمران بہت کم صدر امریکہ سے براہ راست رابطہ کرتے ہیں۔ لیکن ہفتے کے دن ایک ایسی بات ہوئی کہ سعودی فرمانروا محمد بن سلیمان کو دو مرتبہ صدر ٹرمپ سے فون پر بات کرنا پڑی۔ اسکے بعد عالمی میڈیا کی راڈار سکرین اس خبر سے چکا چوند ہو گئی کہ صدر ٹرمپ نے حوثیوں پر فضائی حملے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے پہلے حوثی جنگجو تین سعودی شہروں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کرنے کے علاوہ باب المندب کے نزدیک سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو بھی تباہ کر چکے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر اٹھائیس فروری کے حملے کے بعد سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے بھیجے جانے والے تیل کی مقدار میں خاصی کمی کر دی تھی۔ ریاض کے حکمران باب المندب کی پائپ لائن کے ذریعے روزانہ چار ملین بیرل تیل دوسرے ممالک کو بھیج رہے تھے۔ اسکے ساتھ ساتھ اپنے دفاعی حصار کو مضبوط کرنے کے لیے انہوں نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کر لیا تھا۔ لیکن پھر حوثیوں نے جمعے کے دن اس پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا کر سعودی عرب کی ساری حکمت عملی درہم برہم کر دی۔ ایک دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کے علاوہ پاکستان اور ترکی بھی سعودی عرب کی مدد کو نہیں آئے۔ آ خر اسکی وجہ کیا ہے ۔سعودی عرب اچانک تنہا کیوں ہو گیا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عالمی اتحادوں کی نوعیت بدل گئی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ پر اجارہ داری کا دور ختم ہو گیا ہے۔ Council On Foreign Relations کے مطابق اسوقت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی بائیس عسکری تنصیبات کا نیٹ ورک موجود ہے ۔ ان میں سے آٹھ تنصیبات کو امریکی طاقت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ ایران جنگ نے ان فوجی اڈوں کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اب پینٹا گون میں یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ انکی موجودگی ضروری ہے یا نہیں۔ انہیں اگر قائم و دائم رکھا بھی جائے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد کریں گے۔ امریکہ کیونکہ خلیجی ریاستوں کو ایران کے خلاف تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوا ہے اس لیے نظر یہی آ رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر رسوخ میں ایک جوہری تبدیلی آ چکی ہے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ سے تعلقات منقطع کر کے روس یا چین کے کیمپ میں شامل ہو جائیں گے۔ ایسا اس لیے نہیں ہو گا کہ اب دنیا ایک کثیرالقطبی دور میں داخل ہو چکی ہے۔ درمیانے اور نچلے درجے کی عسکری طاقتوں کے حامل ممالک اب کسی ایک سپر پاور کے کیمپ میں جانے کی بجائے سب سے تعلقات بنا کر رکھیں گے۔ انکی یہی کوشش ہو گی کہ جس سے جو مل سکتا ہے وہ لے لیا جائے۔ ترکیہ اور پاکستان اس ابھرتے ہوے ملٹی پولر ورلڈ کی اہم مثالیں ہیں۔ ترکی سات دہائیوں سے نیٹو کا ممبر ہے لیکن اسکے روس اور ایران سے گہرے تعلقات ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں جارحیت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ وہ دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی پوری طرح امریکہ یا چین کے کیمپ میں شامل نہیں ہے۔ وہ ان دونوں عالمی طاقتوں سے تعاون حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ اور چین کو بھی مختلف معاملات میں پاکستان کے تعاون کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔ واشنگٹن اگر چہ کہ افغانستان سے انخلا کرکے جا چکا ہے لیکن اسے کابل میں انٹیلی جینس کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون کی ضرورت درپیش رہتی ہے وہ اس تعلق کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ جولائی 2022 میں کابل میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظوا ہیری کی موجودگی کی اطلاع پاکستان ہی نے امریکہ کو دی تھی۔ یہ انفارمیشن الظواہیری کی ہلاکت کا باعث بنی تھی۔ اسی طرح مارچ 2025 میں پاکستان نے داعش خراسان کے جنگجو محمد شریف اللہ کو امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ اس پر اگست 2021 میں کابل ائیر پورٹ پر ایک بم دھماکے میں تیرہ امریکی فوجی اور لگ بھگ 180 افغان شہری ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ لگتا ہے کہ امریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ اسکا دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع کیا ہوا ورلڈ آرڈر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب اسکی جگہ کسی نئے عالمی نظام نے لینی ہے۔ اس نئے نظام کے خدو خال رفتہ رفتہ واضح ہو رہے ہیں۔ اسکی ایک مثال صدر ٹرمپ کا حوثی جنگجوئوں پر حملے سے انکار ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اسوقت ایران کے خلاف ایک بڑی جنگ میں الجھا ہوا ہے وہ اب کسی نئے میدان جنگ میں اترنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسکی دوسری مثال مکہ معاہدہ ہے جس کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کی مدد کو نہیں آئے۔ اسکی وجہ پاکستان کی پرانی خارجہ پالیسی ہے جس کے تحت ا س نے عرب ممالک کے داخلی تنازعات سے دور رہنے کو ترجیح دی ہے۔ ترکیہ بھی ایران کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لیے اس نے بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے مابین بڑھتے ہوے فاصلے اور مشرق وسطیٰ میںامریکہ کے اثر رسوخ میںکمی نئے ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ آج کی دنیا تیزی سے اس نئے نظام کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button