Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

9/11 کے حملوںکا ذمہ وار کون تھا؟

آئو بچوں، کہانی سنائیں تم کو امریکہ کی۔ ہماری مراد ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے ہے۔اس کو پیار سے ہم امریکہ ہی کہتے ہیں۔امریکہ ایک بہت بڑا، صنعت یافتہ، فوجی لحاظ سے سب سے زیادہ طاقتورملک ہے یا تھا۔ اسے سپر پاور کہتے ہیں ۔ اس کے پاس شاید دنیا کے سب سے بڑے اور زیادہ ایٹم بم ہیں۔امریکہ نے پہلی مرتبہ دنیا میں، ایٹم بم جاپان کے شہروں ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر پھینکے تھے،جس سے ہزاروں معصوم شہری، مرد، عورتیں اور بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ بہت بُری بات تھی۔ لیکن امریکہ نے اس کو صحیح اقدام کہا کیونکہ اسکی وجہ سے جاپان نے شکست مان لی اور جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہو گیا۔ امریکہ کو اس بات کا بھی غصہ تھا کہ جاپان نے امریکہ کی ریاست ہوائی پر ایک زبردست حملہ کیا تھااوراسکے جنگی جہاز ڈبو دیئے تھے۔امریکہ نے مشرق بعید میں اپنے مفادات کے لیے کئی اور کیمونسٹوں کے خلاف جنگیں لڑیں۔ مثلاً 1950-53 میںکوریا میںوہاں کے بادشاہ کی دعوت پر اپنی فوجیں بھیجیں ۔ اس جنگ کے نتیجے میںکوریا کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ جنوبی کوریا میں امریکن نواز حکومت بنی اور شمالی کوریا میں کیمو نسٹوں کی۔جنوبی کوریا نے آزاد معیشت کے فلسفہ پر عمل کیا اور سرمایہ دارانہ نظام اپنایا۔وہ ملک آج صنعت کے میدان میں جاپان سے بھی آگے جا رہا ہے۔امریکہ کی دوسری بڑی لڑائی ویت نام میں ہوئی۔ویت نامیوں نے امریکن فوجوں کے ہاتھوں بہت مار کھائی۔ لیکن بالآخرانہوں نے اپنے دفاع کے لیے گوریلا جنگ کا طریقہ اختیار کیا جو وہاں کے جنگلات کی وجہ سے بہت کامیاب رہا۔ اوربیس سال تک یہ لڑائی چلی جس میں آخر کار امریکہ نے پسپائی اختیار کی اور ویت نام ایک آزاد ملک بن گیا۔اسی دوران امریکہ نے لائوس اور کمبوڈیا میں بھی بمباری کی ، جو ایک طرح سے ویت نام کی جنگ کا نتیجہ تھی۔ ان جنگوں میں ہزاروں امریکی ہلاک اور زخمی ہوئے ۔کچھ چھوٹی جنگیں اپنے ہمسایہ ملکوں میں کیں۔ 1961 میںکیوبا پر حملہ کیا۔ان تمام جنگوں کا اگر غور سے مطالعہ کریں تو یہ بلا وجہ نظر آتی ہیں۔ ان میں سے کوئی ملک امریکہ پر حملہ کرنے نہیں آ رہا تھا اورنہ ہی ان کے پاس اتنی استطاعت تھی۔ امریکہ نے ایک بہت بڑی فوج تیار کر لی تھی جس کے پاس بے تحاشہ جنگی ساز و سامان تھا۔انہوں نے روس کے ساتھ پنگا لینا ضروری سمجھا کہ وہ دنیا میں کیمونزم پھیلا رہے تھے اس کو روکنا بڑا ضروری تھا۔ کئی ایشیائی ملکوںمیں اور لاطینی امریکہ میں اس کا سد باب ضروری تھا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسلحہ سازی کے بڑے بڑے کارخانے جن کے شئیر ہولڈرز منافع چاہتے تھے، تو وہ اسی صورت میں ملتا اگر کہیں جنگ ہوتی اور حکومت ان سے اسلحہ خریدتی۔ تو بلا وجہ یہ جنگیں کی جاتی تھیں۔ 1986میں مشرق وسطیٰ میں امریکی کاروائیاں شروع ہو گئیں،پہلے ایران کے ساتھ، جہاں ملا خمینی نے امریکہ کو شیطان عظیم کہا۔امریکہ نے اپنے فوجی ایران بھیجے جو ایرانیوں نے پکڑ لیے۔ پھر امریکہ نے بڑی مشکل سے ان کو چھڑوایا۔ ایران کے علاوہ، امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں کسی سے دشمنی نہیں تھی، دشمنی کروا دی گئی۔اس کی ابتدا عزرائیل سے ہوئی۔ نیتین یاہو نے اپنی پہلی حکومت میں امریکنوں سے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ امریکہ ا ن سات مسلمان ملکوں پر حملے کر کے انہیں تہس نہس کر دے۔ یہ ملک تھے: عراق، شام، لبنان، صومالیہ، لیبیا، سوڈان، اور ایران۔ پہلے چھ ملکوں پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جنگیں کر کے تباہی مچا دی۔ ساتواں ملک تھا ایران، جس پر بھی بالآخر حملہ کر دیا گیا۔لیکن اس سے پہلے کہ ان میں سے کسی ایک ملک پر بھی حملہ ہوتا، یہ ضروری تھا کہ امریکنوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا جاتا تا کہ وہ یہ سوال نہ کرتے کہ امریکہ کیوں مسلمان ملکوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس کے لیے ایک ڈرامہ کرنے کی ضرورت تھی۔ وہ ڈرامہ امریکہ اور عزرائیل نے مشترکہ طور پر سوچا سمجھا۔ و ہ خونی کھیل تھا جو گیارہ ستمبر 2001 کو کھیلا گیا۔ تین ہوائی جہازامریکی اڈوں سے اڑائے گئے۔ اڑانے والے ،مشرق وسطیٰ کے باشندے تھے۔ دوجہازوں نے نیو یارک کے بلند و بالا بلڈنگوں پر جا کر ٹکر ماری، ان جہازوں میں بھرا پٹرول ساری بلڈنگز پر پھیل گیا اور ان کو آگ لگ گئی۔اس طرح پورے امریکہ کو بتایا گیا کہ مسلمان کتنے برے لوگ ہیں۔ایک تیسرا جہاز واشنگٹن ڈی سی کی طرف بھیجا گیا جس میں مسافروں نے دہشت گردوں کو قابو کر لیا لیکن جہاز گر کر تباہ ہو گیا۔اگر وہ جہاز سیدھا وہائٹ ہائوس پر گرتا تو امریکنوں کی مسلمانوں سے نفر ت آخری درجہ پر پہنچ جاتی۔ جو ہوا کیوں ہوا اور کس نے کیا، یہ صدر بش کو معلوم تھا۔ کیونکہ جب ورلڈ ٹریڈسنٹرز پر حملہ ہوا وہ کسی بچوں کے سکول میں بچوں سے باتیں کر رہا تھا۔ جب اس کو بتایا گیا تو اس نے کسی حیرت کا اظہار نہیں کیا۔یہ ساری سازش امریکی محکمہ سی آئی اے اور عزرائیلی موساد کی مشترکہ تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے عراق پر حملے کرنے کے منصوبے بنائے۔ لیبیا میں کرنل قذافی اور عراق میںصدام حسین پر ۔ کرنل قذافی پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکی مسافر جہاز پین ایم کو گرایا۔ صدر صدام حسین پر جھوٹا الزام لگایا گیا کہ اس کے پاس بڑی تباہی مچانے والے ہتھیار ہیں جو وہ استعمال کرے گا۔ مزے کی بات یہ ہے ، کہ امریکہ کو صاف بتا دیا گیا تھا کہ صدام حسین کے پاس ایسے کوئی ہتھیار نہیں ہیں۔لیکن بش نے پھر بھی عراق پر خون خوار حملے کروائے۔صدام حسین کومروایا۔ باقی اہداف آسان تھے۔اگر آ پ پوچھیں کہ نیتین یاہو کو ان مسلمان ملکوں سے کیا شکایت تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی بزرگوں نے کچھ عرصہ پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ عزرائیل کا علاقہ در اصل بہت بڑا ہے ۔ اس میں ان ملکوں کا کافی رقبہ شامل ہے۔اس لیے وہ علاقے ان مسلمان ملکوں سے چھین کر عزرائیل میں شامل کر دیئے جائیں۔اب اس سے زیادہ اہم سوال۔امریکہ کیوں عزرائیل کی اتنی خوفناک باتیں مانتا ہے؟ تو بچو، یہ تم نے بڑی سمجھداری کا سوال کیا ہے۔ اصل میں یہ ہواایسے کہ یہودیوں میں کچھ اچھے لوگ ہیں اور کچھ شرات پسند، انہیں صہیونی کہتے ہیں۔ تو صہیونی سال ہا سال سے اس مسئلہ پر کام کر رہے تھے کہ ہم کس طرح بزرگوں کے قول کو پورا کریں گے؟ ۔انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ کسی طریقے سے امریکہ اور یوروپی ممالک کے ذہنوں پر قبضہ کر لیں۔ اس کے لیے انہوں نے کئی طریقے اپنائے۔ مثلاً ان ملکوں کے نظام تعلیم میں یہودیوں پر جو ظلم ہوئے تھے ان کی کہانیاں بچوں کو سنا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر ہر سیاستدان کو جو کانگریس اور سینیٹ کا انتخاب لڑتا تھا، موٹی موٹی رقمیں دیں تا کہ وہ عزرائیل کے حق میں ووٹ ڈالیں۔اس طرح امریکی کانگریس اور سینیٹ میںدو تہائی اکثریت عزرائیلی گروہ کے ہتھے چڑھ گئی۔اس کے علاوہ انہوں نے ان ممالک میںجو یہودی آبادی تھی ان کو اپنے ساتھ ملایا۔ اور انہیں کہا کہ وہ ہر ہفتہ باقاعدگی سے اپنے مند رجایا کریں۔ وہاں ان کو عزرائیل سے آئے ہوئے پیغام سنائے جاتے ہیں، جن پر عمل کرنا ان کا فرض ہوتا ہے۔پھر انہوں نے فلم سازی کی صنعت اور میڈیا پر اپنا قبضہ جمایا۔ اس پر وہ ایسے سیاستدانوں کی مدح کرتے ہیں جو ان سے بھتہ لیتے ہیں اور ان کی مخالفت جو ان سے بھتہ نہیںلیتے۔یہ ایک بڑی موثر مشینری بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ پوری وفاقی حکومت میں ان کے وفادار اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ان کے سیاستدان اہم وزارتیں لیتے ہیں۔ ان کے ہم مذہب فوجی عہدوں پر بھی لگ جاتے ہیں۔ یہ کام اتنا منظم اور وسیع ہو چکا ہے کہ کوئی صدر اب ان کو نہ نہیں کرسکتا۔ رہ سہی کثر ایپسٹین نے نکال دی۔ اس نے ایک ایسا نظام بنایا جس میں وہ کمسن لڑکیوں کو خرید کر اپنے بنگلوں اور کوٹھیوں میں مشہور سیاستدانوں، اہم شخصیات کو پیش کرتا تھا۔ اور ان کی وڈیو بناتا تھا۔یہ عمل وہ عزرائیلی حکومت کے ایما اور ہدایت پر کرتا تھا۔ اس نے ٹرمپ کو بھی اپنے بنگلے میں بلایا اور کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل کرتے ہوئے اس کی وڈیو بنا لیں۔ اب وہ وڈیو ٹرمپ کے گلے کا پھندا بن گئی ہیں اور وہ نیتین یاہو کی ہر خواہش ماننے پر مجبور ہے۔
جیسے جب عزرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ٹرمپ کو بھی شامل ہونا پڑا ۔ امریکہ کو ایران سے الجھا کے عزرائیل الگ ہو گیا۔ ٹرمپ ایرا ن پر حملہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھاکہ وہ یہ جنگ جیت نہیں سکتا کیونکہ ایرانی وطن پرست ہیں اور گذشتہ ستر اسی سالوں میں ان کو یہی بتایا گیا تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے۔اس لیے وہ کبھی بھی امریکہ کے لیے اپنے ملک سے غداری نہیں کریں گے۔ یہ عزرائیل کی پرانی پالیسی ہے کہ وہ جنگ کرواتا ہے اور اپنے فوجی نہیں بھیجتا۔ امریکی فوجی اس کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔امریکی میڈیا کبھی بھی اپنے ناظرین اور قارئین کو ان حقائق سے باخبر نہیں رکھتا۔یہ تو سوشل میڈیا جب سے آیا ہے کچھ خبریں باہر آنے لگی ہیں۔یہودی لابی کا امریکہ میں کڑا کنٹرول ہے۔ گاہے بگاہے، کوئی پروفیسر یا دانش مند ان کے راز فاش کرتا ہے تو اس کا پتہ کاٹ دیتے ہیں۔ اب ایک یہودی پروفیسر نے ان کے رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کیا ہے تو یہ باتیں پتہ چلی ہیں۔ اس سے پہلے شکاگو یونیورسٹی کے دو پرفیسروں نے یہودی لابی کے کارناموں پر روشنی ڈالی تھی جس سے یہودی لابی بڑی جز بز ہوئی تھی۔ لیکن ایسی چیزوں کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ دبا دیا جاتا ہے اور تھوڑے دنوں میںبات آئی گئی ہو جاتی ہے۔امریکی پبلک کو کھیلوں میں الجھایا جاتا ہے۔ وہ دبا کے شراب پیتے ہیں اور کھیلوں میں وقت لگاتے ہیں ایسے کھیل جنہیں تماشائیوں کے کھیل کہتے ہیں۔ان میں بیس بال اور فٹ بال سب سے زیادہ مقبول ہیں۔یا پھر ان کو ٹی وی پر ایسے تماشے دکھائے جاتے ہیں جن سے انہیں کوئی رہ نمائی نہ ملے۔ صرف ہنسی مذاق سے دل بہلائے جاتے ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے اسپر کڑی نظر رکھی جاتی ہے عزرائیل جو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے اس پر شاذ و نادر ہی مین پبلک میڈیا پر کچھ پتہ چلتا ہے۔ ورنہ سوشل میڈیا ہی کچھ بتا دے تو بتا دے۔امریکی قوم کو کم ہی پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔کم از کم ایسی باتیں جو مسلمانوں کے حق میں ہوں۔امریکن حکام نے 9/11 کے واقعہ کی مکمل تحقیقات کروائی اور سارا الزام اسامہ بن لادن پر ڈال دیا۔ پھر دنیا میں اس کی تلاش شروع کر دی۔ ادھر اسامہ نے نہ صرف یہ مان لیا کہ اس کے آدمیوں نے یہ حملہ کیاتھا، بلکہ اس پر فخر کا اظہار بھی کیا۔ اسامہ پہلے افغانستان میںچھپتا پھرا اور آخر میں پاکستان میں رہنا شروع کر دیا۔ پاکستانی حکام کو پتہ تھا یا نہیں،انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اور ایک دن ایک پاکستانی ڈاکٹر کی مخبری سے امریکنوں نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے پکڑ کر لے گئے۔ اس دوران میں اسامہ کو شہید کر دیا گیا اور اس کی لاش سمندر میں گرا دی گئی۔غالباً اسامہ کو زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن اگر وہ زندہ رہتا توکم از کم وہ ورلڈٹریڈ سنٹرز کے حملے میں اپنے کردار پر تو روشنی ڈال سکتا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ امریکن یہ نہیںچاہتے تھے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکن صدر نے عزرائیلی سازش کی وجہ سے دو ہزار سے زیادہ امریکنوں کاقتل قبول کر لیا۔ممکن ہے کہ عزرائیلیوں کے پاس صدر بش کے کچھ راز ہوں جن کی وجہ سے اسے اس سازش کا حصہ بننا پڑا ہو؟جو بھی تھا، اس واقعہ کے بعد سے امریکنوں نے مسلمانوں کے ملکوں پر جارحانہ حملے کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button