Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

تحریک پاکستان کا احتجاج

پاکستان تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ 27ستمبر کو یوم احتجاج منایا جائے گا۔ یہ احتجاج ان کے محبوب اور مقبول قاید عمران خان کی مسلسل قید تنہائی اور ان کے ساتھیوں، خصوصاً خواتین قائدین کی قید مسلسل کے خلاف ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ جعلی حکومت نے سینکڑوں، ہزاروں تحریک کے نوجوانوں کو بھی قید میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے خاندانوں کے پاس اتنے ذرائع بھی نہیں کہ وہ ان کا مقدمہ عدالتوں میں لے جا سکیں۔ان کا قصور کیا ہے؟ یہ کہ وہ ایک سیاسی عمل کا حصہ بنے۔یہ ان کا
آ ّئینی حق ہے جس کی سزا فوجی عدالتوں نے سنائی۔یاد رہے کہ ان عدالتوں میں پاکستان کاآئین نہیں فوجی قانون چلتا ہے۔ میرے وطن کے سجیلے جوانوں، تم کو تمہارے بڑے افسروں نے ایسے راستے پر لگایا ہوا ہے جو صرف غداری کے زُمرہ میں آتا ہے ۔راقم کو کوئی یہ بتائے کہ دنیا کی کونسی فوج ہے جو اپنے ہی عوام پر گولیاں چلاتی ہے؟ وہ فوج جس کو تنخواہ عوام کی حلال کی کمائی سے دی جاتی ہے۔ وہ کیسے نمک حرامی کر سکتی ہے؟اگر ایسا ہوا تو غالباً اس کے جرنیلوں کے حکم پر ہوا ہو گا؟ اور عوام بھی کون سے؟ جو بالکل نہتے، اور پُر امن احتجا ج کرنے والے۔ ان کے قائد کا حکم ہے کہ کوئی ایک گملا بھی نہ ٹوٹے۔ان دیوانوں پر رات کے اندھیرے میں گولیاں چلانا صر ف نا مردوں کا کام ہو سکتا ہے۔ ہماری فوج کا نہیں۔ایک ایسی جماعت جو مکملاً پُر امن احتجاج اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اسے کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ اور لیڈر بھی وہ جو ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایمانداری سے اور دور اندیشی سے اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشارہو؟ اس کے خلاف ہونا تو انتہائی ملک دشمنی ہے۔تحریک کے قائد عمران خان کو پابند سلاسل کر رکھا ہے۔ جب کہ وہ اکیلا قومی قائدہے جو ملک کے موجودہ حالت اور بحران سے نکال سکتا ہے۔ موجودہ حالات کیا ہیں: پاکستان میں تعلیم کے شعبہ میں ماہرین نے ہنگامی انقلابی اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صورت حال اتنی خراب ہے کہ انتہائی سنجیدہ جائزہ اور انقلابی عمل کی ضرورت ہے۔ ۔ پاکستان قرضوں کے انبار میں دھنستا جا رہا ہے۔ بیرونی قرضوں سے زیادہ حکومت اندرونی قرضوں کو بھی اتارنے سے قاصر نظرآتی ہے۔۔ حکمران خاندان اور اشرافیہ ملکر بجلی کے کارخانوں کی آڑ میں اربوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال رہی ہے اور ان کو زر مبادلہ کی شکل میں پاکستان سے باہر بھیج رہی ہے۔اس لوٹ مار کو کون روک سکتا ہے؟۔ ملکی خزانہ زر مبادلہ سے خالی ہو رہا ہے اور حکمران خاندان کو عیاشیوں سے فرصت نہیں۔۔ ملک کے ہسپتالوں میں ضروری مشینیں نہیں ہیں یا خراب پڑی ہیں۔ ان کی فارمیسی میں دوائیاں نہیں ہیں۔ اور جعلی ڈاکٹروں کو علاج معالجہ پر لگایا جاتا ہے۔ یہ وہ ڈاکٹر ہیں جو جعلی سندیں لیکر نوکری لیتے ہیں۔۔ عمرانیات کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں جوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اگر ان پرتوجہ نہ دی گئی تو یہ حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔اب سب لوگ جان گئے ہیں کہ جو ہو رہا ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ جب ہمارے فیلڈ مارشل صاحب واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ سے ملے تھے تو ان کو بتا دیا گیاتھا،کہ عمران خان کو واپس حکومت میں نہیں آنے دینا ہو گا۔ اور اس کی جماعت کو تتر بتر کرنا ہو گاْ اس کے لیے وہ جو مناسب سمجھے ،وہ کرے۔ امریکہ اور یورپ سے اس کو کوئی سرزنش نہیں ہوگی۔صرف مارشل لاء نہ لگائے کیونکہ اب دنیا میں اس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ اس لیے صاحبان۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں فسطائیت کا بازار گرم ہے۔ پاکستان کی پولیس، پیرا ملٹری ادارے، جی بھر کر تحریک کے قائدین کے ساتھ برا سلوک کر رہے ہیں۔جو فوجی یا سیاسی سر براہ کسی دشمن ملک کے احکامات پر چلے تو اسے غدار نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟ آپ کہیں گے کہ امریکہ تو ہمارا دشمن ملک نہیں ہے؟ یہ درست کہا آپ نے۔ کیونکہ امریکہ سے جو ہدایت ملتی ہے وہ در اصل صہیونی حکومت سے آتی ہے۔ اس کو تو امریکہ صدر بھی آنکھیں بند کر کے مانتا ہے۔اب غور کریں، کہ پاکستانی افواج کا بادشاہ در اصل کس کے احکامات پر عمل کر رہا ہے؟ان حالات میں پاکستانی عوام ہی کوکچھ کرنا ہو گا۔ان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے پر چلنا ہو گا۔ اس منصوبے کے خد و خال یہ ہوں گے:یہ بات جان لیں کہ مطلق العنان حکومتیںعوام کی مرضی اور تعاون کے بغیر نہیں چل سکتیں۔جب اس تعاون کو بتدریج کسی منصوبہ کے تحت کھینچ لیا جائے تو وہ آمرانہ حکومتیںدھڑام سے گر جاتی ہیں۔تاریخ سے اگر سبق لیا جائے تو ایسی حکومتوں کو گرانے کے لیے یہ اقدامات لینے پڑتے ہیں:
۱۔ متوقع تابعداری کو ختم کرنا۔عامرانہ حکومت اکثر تب جڑیں پکڑتی ہیںجب عوام نئی جابرانہ طاقتوں کو پہلے ہی سے قبول کر لیتی ہیں۔ ان طاقتوں سے بچنے کا مطلب شعوری طور پر پہلے ہی سے ان قبول نہ کرنا ہے۔ مثلاً،پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کو برقرار رکھنا۔ سرکاری ملازموں، وکلاء اور کارپوریشنز کے ملازمین لازماً پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق اور آئینی حدوکی پابندی کرنی چاہیے، نہ کہ وہ سیاسی دبائو اور کرپٹ اداروں کی مانگیں پوری کریں۔سچائی اور حقائق کا دفاع کریں۔نا جائز حکومتیں سرکاری پراپیگنڈا، مسخ کردہ تاریخ،اور من گھڑت خوف پر انحصار کرتی ہیں۔ عوام کو تندہی کے ساتھ غلط خبروںکو نا منظور کرنا چاہیے، آزاد صحافت کی اعانت کرنی چاہیے،اور واقعات کا صحیح ریکارڈ رکھنا چاہیے۔۲: سوچی سمجھی سکیم پر عدم تعاون کرنا۔ وسیع عوامی عدم تعاون کی تحریک ، ایک نا جائزحکومت جن اہم معاملات پر کھڑی ہوتی ہے اور اپنا وجود برقرا رکھتی ہے، اس سے اسکا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔اقتصادی عدم تعاون۔ بڑے پیمانے پر بائیکاٹ استعما ل کرنا، ہڑتالیں، اور ایسی اداروں سے جو حکومت کی سرپرستی میں ہوں، ان سے مالی حمایت کھینچ لینا۔ انتظامی بوجھ بڑھانا۔ نا جائز نوکر شاہی کی مشینری اور ذرائع پر قانونی جائز کاغذات کی مانگ، کاغذی کاروائی کی درخواستوں کی بھر مار کرنا، جس سے سرکاری کاروبا ر ٹھپ ہو جائے۔ شہری نا فرمانی: پُرامن لیکن ایسے قوانین کے خلاف ڈٹے رہنا جو حقوق انسانی کے خلاف ہوں یا آئینی شقوں کے خلاف ہوں۔ ۳: متوازی شہری ڈھانچہ بنانا۔ جب حکومت وقت رسمی اداروں کو ساتھ ملا لے یا ان پر قبضہ کرلے ، تو شہری آبادی کی ضروریات کے لیے اپنے علیحدہ گھر بنا لے۔ امداد باہمی کے جال۔ مقامی آبادیوں کے لیے فنڈز کا قیام، ذرائع، اور عوامی جال بنانا تا کہ لوگ ضرورت کی خوراک، دوائیں، اور قانونی مشاورت، حکومت سے رجوع کیے بغیر حاصل کر سکیں ۔ مقامی جمہوری مراکز۔ مقامی شہریوں کے گٹھ جوڑ نچلی سطح پر عوام کا ملاپ، سیاسی دھڑوں کے درمیان رابطوں کے ذریعے عوا م کا اتحاد قائم رکھنا۔ اطلاعات کانظام۔ محفوظ اطلاعات کا نظام قائم کرنا، تا کہ کھری کھری خبریں اور حفاظتی اقدامات کی خبریں تیزی کے ساتھ علاقہ میں پہنچائی جا سکیں۔ ۴ ۔ براہ راست عوامی کار کردگی اور قانونی دبائو۔ ظاہری، مجموعی تعداد ہو تو ریاست کی زیادتیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ۔ بڑے ہجوم کی پر امن حرکت۔ جلسوں، پر امن اور بڑے پیمانے پر گلی محلوں میں عوامی احتجا جوں کی یکجہتی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ حکومت پوری طرح حالات کو قابو لانے میں نا کام ہو چکی ہے۔ باقی ماندہ ادارہ جاتی کھچائو سے کام لینا۔جو بچا کھچاعدالتی نظام، بین الاقوامی عدالتیں اور مقامی حکومتیں کام کر رہی ہوں،ان کو استعمال کریں اس سے جابرانہ نظام کو دیر تک عدالتوں میں گھسیٹا جا سکتا ہے۔بظاہر مندرجہ بالانقاط اتنے قوت والے نہ لگیں،لیکن یہ برسوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں آزمائے ہوئے نسخے ہیں۔ یہ پُر امن طریقے جابروں سے براہ راست ٹکر نہیںلیتے۔پاکستان25کروڑ کا ملک ہے۔ اس کے لیے ان حربوں کی ضرورت نہیں۔پاکستان کے فوجی حکام اگر کسی گروہ سے ڈرتے ہیں تو وہ مذہبی رہنما ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ کس طرح ملائوں نے ایوب خان جیسے مضبوط آمر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ ملائوں سے ذولفقار بھٹو بھی خوف زدہ تھا۔ اس نے ان ہی کے ڈر سے شراب نوشی پر پابندی لگائی اور قادیانی مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے نکالدیا تھا۔ ہرآمر حکمران مذہبی جماعتوں سے کنی کتراتا ہے۔ اب اسی وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن جو دل میں آتا ہے حکمرانوں کو سنا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی دھڑلے سے مہنگائی کے خلاف دھرنے کر رہی ہے۔ ان میں کسی کو خطرہ نہیں کہ حکومت ان کو اٹھا لے گی۔ان حالات میں اگر کوئی مذہبی رہنما ایک مہم چلا دے کہ فیلڈ مارشل در حقیقت عزرائیلی ایجنٹ ہے ( جو کافی حد تک ثابت کیا جا سکتا ہے)، تو ملک بھر میں اس کے خلاف چلائی جا سکتی ہے؟ اب تو تازہ گواہی بھی آ گئی ہے کہ کمانڈر انچیف نے عزرائیلی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر لیا کہ پاکستان ان سے ڈرون خریدے گا۔ یہ وہ ڈرون ہوں گے جن کی ٹیکنالوجی وہ انڈیا کو پہلے بیچ چکے ہیں۔ اور یہ بھی نہ بھولیں کہ عزرائیلی ڈرون جو کریں گے اس کی اطلاع براہ راست عزرائیل کو فوراً ملے گی۔ اورعزرائیلی انہی ڈرون کو الٹا پاکستان کے خلاف بھی استعمال کر سکیں گے۔ہماری فوج اچھی طرح سے جانتی ہے کہ پاکستانی عوام نہ صرف خواندگی سے محروم ہیں، ان میں معاشرتی شعور کی بھی کمی ہے۔ لیکن وہ اسلام کے نام پر حر ف نہیں آنے دیتے۔ بلکہ اسلام کے دشمنوں کے خلاف سر کٹا دینا جہاد سمجھتے ہیں۔اس لیے اگر یہ دو مذہبی جماعتیں ملکر اس صہیونی ایجنٹ کیخلاف مسلسل اور ہمہ جہت محاذ آرائی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ حالت نہ بدلیں۔
بہر حال راقم کا خیال ہے کہ عاصم منیر پاکستان کے خیرخواہ ہیں اور وہ جو کر رہے ہیں اپنی دانست میں ٹھیک ہی کر رہے ہونگے۔ لیکن پاکستانیوں کو ان پر زور ڈالنا چاہیے کہ خدا کے لیے نیتین یاہو اور ٹرمپ کی ہدایات پر عمل کرنا بند کر دیں۔ بڑے احسن طریقے سے ، ان کی ہدایات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیں۔ اور خاموشی سے عمران خان اور اس کی پارٹی پر ظلم کرنا بند کر دیں اور پھر کسی وقت ان سب کو رہا کر دیں۔اسی میں سب کا بھلا ہو گا۔ اور پاکستان کا شاندار مستقبل بھی اسی میں پنہاں ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button