Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اقوامِ متحدہ کے ہال میں امن کی آواز، باہر طاقت کی دنیا اور بدلتا ہوا عالمی نظام!

دنیا کے نقشے پر سرحدوں کی نہ جانے کتنی لکیریں کھینچی گئی ہیں۔ کچھ دریاؤں نے بنائیں، کچھ پہاڑوں نے، کچھ تاریخ نے، اور بہت سی انسان نے اپنے خوف، مفاد، جنگ اور اقتدار کے لیے خود کھینچیں۔ مگر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی عمارت میں داخل ہوں تو چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی یہ تمام لکیریں ایک ہی چھت کے نیچے آکر سمٹ گئی ہوں۔ یہاں وہ ممالک بھی موجود ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے دوست ہیں، وہ بھی جو ایک دوسرے کو حریف سمجھتے ہیں، اور وہ بھی جن کے درمیان سرحدوں پر بندوقیں خاموش نہیں ہوتیں۔ ہر ملک کا اپنا پرچم، ہر وفد کا اپنا مؤقف، ہر سربراہ کے پاس اپنی کہانی، اپنے مفادات اور اپنی ترجیحات ہیں، لیکن تقریباً ہر تقریر میں ایک لفظ مشترک سنائی دیتا ہے وہ ہے امن۔اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے مختلف اجلاسوں اور سیشنوں میں موجود رہتے ہوئے میں مقررین کو سنتا رہا، کبھی ہال کو دیکھتا، کبھی مختلف ملکوں کے وفود کے چہروں کو پڑھنے کی کوشش کرتا اور کبھی سوچتا کہ اگر اس عمارت کے اندر بیٹھے تقریباً سبھی لوگ امن چاہتے ہیں تو باہر دنیا میں اتنی جنگ کیوں ہے؟ اگر سب بین الاقوامی قانون کا احترام چاہتے ہیں تو قانون بار بار طاقت کے سامنے بے بس کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اور اگر اقوامِ متحدہ واقعی انسانیت کا سب سے بڑا مشترکہ سیاسی و اخلاقی فورم ہے تو دنیا کے بہت سے بڑے فیصلے اس عمارت کے اندر نہیں بلکہ طاقت کے دوسرے مراکز میں کیوں ہوتے ہیں؟شاید یہی سوال اس بار جنرل اسمبلی کے موضوع میں بھی کسی نہ کسی صورت موجود تھا: اعتماد کی بحالی، تبدیلی کو سنبھالنا اور ایسی اقوامِ متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ہو۔ مگر عجیب تضاد تھا کہ عمارت کے اندر اعتماد بحال کرنے کی بات ہورہی تھی اور باہر دنیا خود اعتماد کے بحران سے گزر رہی تھی۔ غزہ کا انسانی المیہ، ایران اور امریکہ کی کشیدگی، یوکرین کی جنگ، پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ برس کی فوجی کشیدگی، کشمیر اور پانی کے سوال، امریکہ اور چین کی بڑھتی مسابقت اور ان سب کے درمیان مصنوعی ذہانت کی صورت میں ابھرتی ہوئی ایک ایسی نئی طاقت جس کے پاس نہ فوج ہے، نہ سرحد اور نہ پرچم، لیکن جو مستقبل کی طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے آخری جنرل اسمبلی خطاب میں جنگوں کے خاتمے، مصنوعی ذہانت کی عالمی نگرانی، موسمیاتی بحران اور عالمی اداروں میں اصلاحات پر زور دیا۔ ان کی دوسری اور آخری مدت 31 دسمبر کو مکمل ہورہی ہے۔ اسی کوریج کے دوران مجھے ریبیکا گرینسپین سے ملاقات اور ان کے ساتھ چند یادگار تصاویر بنوانے کا موقع ملا۔ کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور ممتاز ماہرِ معاشیات گرینسپین UN Trade and Development (UNCTAD) کی سیکریٹری جنرل اور اس ادارے کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ کوسٹا ریکا انہیں اقوامِ متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے منصب کے لیے نامزد کرچکا ہے۔ یوں ایک طرف میں ایک ایسے سیکریٹری جنرل کو سن رہا تھا جو دس برس بعد اس عالمی ادارے سے رخصت ہونے کی تیاری کررہے ہیں، اور دوسری طرف انہی راہداریوں میں ایک ایسی شخصیت سے ملاقات ہورہی تھی جو اس کی آئندہ قیادت کی امیدوار ہے۔ شاید اقوامِ متحدہ بھی دنیا ہی کی طرح ہے یہاں ایک عہد ابھی اپنی آخری سطریں لکھ رہا ہوتا ہے تو دوسرا خاموشی سے دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی کوریج کا حسن یہ بھی ہے کہ یہاں صرف سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور سفارت کار نہیں ملتے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے صحافی، دانشور اور تجزیہ نگار بھی اپنی سوچ اور تجربہ ساتھ لاتے ہیں۔ راہداریوں، میڈیا سینٹر، کافی کی میز یا کسی دوست کے گھر ہونے والی گفتگو بعض اوقات ان سرکاری تقریروں سے زیادہ سوال پیدا کردیتی ہے جو جنرل اسمبلی کے منبر سے کی جاتی ہیں۔اس سفر میں پاکستان سے آئے کئی صحافیوں اور دانشوروں سے ملاقات ہوئی، مگر ان میں محمد مہدی صاحب سے ہونے والی گفتگو خصوصی اہمیت کی حامل رہی۔ جیو نیوز واشنگٹن کے عظیم میاں کے ہمراہ نیویارک کے صحافی فرخ کی دعوت پر ان سے تفصیلی نشست ہوئی۔ وہ اسی امریکی دورے میں Johns Hopkins University میں ایشیا کے بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے پر گفتگو کرکے آئے تھے۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اکیسویں صدی میں قومی سلامتی صرف فوج، توپ، ٹینک اور میزائل کا نام نہیں ، معیشت، مؤثر ادارے، داخلی امن، سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور عوام کا ریاست پر اعتماد بھی قومی طاقت کا حصہ ہیں۔ محمد مہدی کی Johns Hopkins University میں گفتگو کی رپورٹ پر مبنی خبر جو انہوں نے مجھ سے شیئر بھی کی تاہم ان سے گفتگو کے بعد میرے ذہن میں سوال نے ایک نئی شکل اختیار کی، اکیسویں صدی میں طاقت آخر ہے کیا؟ میزائل؟ معیشت؟ ٹیکنالوجی؟ ادارے؟ یا اپنے نظام پر شہری کا اعتماد؟ شاید آج قومی طاقت ان سب کا مجموعہ ہے، اور اسی لیے دنیا کے پرانے پیمانے بھی بدل رہے ہیں۔نیویارک کے بعد واشنگٹن میں بھی صحافیوں کے ساتھ ایک خوبصورت مجلس کا موقع ملا۔ پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے صدر خرم شہزاد اور جنرل سیکریٹری یوسف چوہدری کی دعوت پر واشنگٹن گیا، جہاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کوریج کے لیے پاکستان سے آنے والے صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ رکھا گیا تھا۔ وہاں کئی پاکستانی صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ان سے ملاقات اور گفتگو بھی ہوئی۔ پردیس میں پاکستانی صحافی ایک میز کے گرد بیٹھیں تو جغرافیہ ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود پاکستان بھی ان کے درمیان آکر بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی اسلام آباد کی سیاست، کبھی کراچی، کبھی لاہور، کبھی واشنگٹن کی ترجیحات اور کبھی نیویارک کی سفارت کاری گفتگو کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی تقریب میں ریپبلکن رہنما اور پاکستانی کمیونٹی کی معروف شخصیت ساجد تارڑ سے بھی ملاقات ہوئی۔ ایسی محفلوں میں احساس ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ہال میں ریاستیں بولتی ہیں، مگر ہال سے باہر لوگ بولتے ہیں ، اور تصویر مکمل کرنے کے لیے دونوں کو سننا بھی ضروری ہے۔جنرل اسمبلی کے مختلف سیشنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی تقریروں میں شامل تھا۔ انہیں سنتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منبر پر کھڑے ضرور ہیں، مگر ان کی سیاسی لغت روایتی کثیرالجہتی سفارت کاری سے زیادہ امریکی خودمختاری، قومی مفاد اور طاقت کے تصور کے گرد گھومتی ہے۔ ایران کے لیے ان کا لہجہ سخت تھا، International Criminal Court پر انہوں نے تنقید کی، مصنوعی ذہانت کی عالمی ضابطہ کاری کے تصورات سے اختلاف کیا اور امریکی طاقت اور آزادیٔ عمل پر زور دیا۔ٹرمپ کو سنتے ہوئے تاریخ کا ایک عجیب تضاد سامنے کھڑا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جس بین الاقوامی نظام کی تعمیر میں امریکہ بنیادی معماروں میں شامل تھا، آج اسی نظام کے سب سے بڑے عالمی منبر پر امریکی صدر قومی خودمختاری اور طاقت کی اہمیت یاد دلا رہا تھا۔ میرے لیے سوال یہ نہیں تھا کہ ٹرمپ درست ہیں یا غلط؛ سوال یہ تھا کہ کیا دنیا دوبارہ اس سمت بڑھ رہی ہے جہاں بین الاقوامی قانون سے زیادہ ریاست کی اپنی طاقت فیصلہ کن ہوگی؟انہی چند دنوں میں ایک اور حقیقت میری نظروں کے سامنے بار بار آتی رہی۔ ٹیلی ویژن پر جب کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم جنرل اسمبلی کے منبر پر کھڑا ہوتا ہے تو منظر بڑا پُروقار دکھائی دیتا ہے۔ تقریر براہِ راست نشر ہوتی ہے، اپنے ملک میں سرخیاں بنتی ہیں اور منتخب جملے سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہیں۔ مگر ہال کے اندر بیٹھ کر تصویر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ میں نے بہت سی تقریروں کے دوران نشستوں کی بڑی تعداد خالی دیکھی۔ وفود آتے جاتے رہتے، ملاقاتیں جاری رہتیں اور کسی مخصوص سربراہ کی باری آنے پر اس کے وفد اور متعلقہ سفارتی حلقوں کی سرگرمی بڑھ جاتی تھی،یہ منظر دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ پھر یہ رہنما ہزاروں میل سفر کرکے یہاں تقریر کرنے کیوں آتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ جنرل اسمبلی کی تقریر صرف سامنے بیٹھی کرسیوں سے مخاطب نہیں ہوتی۔ اس کا مخاطب اپنے ملک کا شہری بھی ہے، عالمی میڈیا بھی، دوست اور مخالف ریاستیں بھی اور سب سے بڑھ کر تاریخ کا ریکارڈ بھی۔ یہاں آنے والے رہنما شاید خود جانتے ہیں کہ بیس منٹ کی تقریر کشمیر، فلسطین، یوکرین یا ایران کا مسئلہ حل نہیں کردے گی، مگر عالمی سیاست میں اپنا مؤقف ریکارڈ پر رکھنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دن یہی الفاظ اخبارات، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچتے ہیں۔میں نے راہداریوں میں ایک مسلسل افراتفری بھی دیکھی۔ وفود ایک طرف سے دوسری طرف جارہے تھے، صحافی کسی صدر، وزیراعظم یا وزیر تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے، سکیورٹی اہلکار راستے بناتے اور بند کرتے، سفارت کار ملاقاتوں کے لیے دوڑتے اور ہر ملک اپنے مؤقف کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے میں مصروف تھا۔ تب مجھے محسوس ہوا کہ اقوامِ متحدہ مذاکرات کی جگہ ہونے کے ساتھ بیانیوں کی ایک عالمی منڈی بھی ہے۔ جسے ایک ملک سفارت کاری کہتا ہے، دوسرا اسے پروپیگنڈا کہہ سکتا ہے؛ جسے ایک فریق حقیقت کہتا ہے، دوسرا اسے سیاسی بیانیہ قرار دیتا ہے۔ صحافی کا امتحان اسی شور میں یہ جاننا ہے کہ دعویٰ کیا ہے، حقیقت کیا ہے اور دونوں کے درمیان فاصلہ کتنا ہے۔ہال کی کرسیاں خالی ہوسکتی ہیں، لیکن کیمرے چل رہے ہوتے ہیں؛ سامنے سامع کم ہوسکتے ہیں، مگر دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں لوگ سن رہے ہوتے ہیں۔اور شاید اسی میں اس عالمی منبر کی ایک اہم معنویت پوشیدہ ہے۔ایک طرف عالمی رہنما نیویارک میں کثیرالجہتی سفارت کاری کی اہمیت بیان کررہے تھے اور دوسری طرف بڑی طاقتوں کے اہم معاملات براہِ راست دارالحکومتوں میں طے ہورہے تھے۔ یہی تضاد اقوامِ متحدہ کی عملی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اقوامِ متحدہ غیر ضروری ہوگئی۔ بڑی طاقتوں کے پاس واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو اور دوسرے مراکز موجود ہیں جہاں وہ براہِ راست بات کرسکتی ہیں؛ چھوٹی ریاستوں کے پاس کیا ہے؟ ان کے لیے یہی منبر ہے جہاں کم از کم ان کا پرچم بڑی طاقت کے پرچم کے برابر اونچائی پر لہراتا ہے اور ان کا نمائندہ اسی podium پر کھڑا ہوتا ہے جہاں بڑی طاقت کا نمائندہ۔شاید اقوامِ متحدہ کی سب سے بڑی معنویت طاقتور کو مزید طاقت دینے میں نہیں، کمزور کو آواز دینے میں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button