Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

امریکہ اور چین‘ دوست یا دشمن!

صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور چین کئی محاذوں پر ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔ جمعرات کے دن واشنگٹن میں چین کے صدر کا جس گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اس سے یہ تاثر ہر گز نہیں ملتا تھا کہ دونوں ممالک میں کوئی کشیدگی ہے۔ گذشتہ نصف صدی میں کسی بھی سربراہ مملکت کا میری لینڈ میں واقع Joint Base Andrews میں استقبال نہیں کیا گیا۔ امریکہ کی ائیر فورس اور نیوی کے مشترکہ طور پر بنائے ہوئے اس ائیر پورٹ پر صدر ٹرمپ نے ایک طویل ریڈ کارپٹ بچھا کر اپنے مہمان کو خوش آمدید کہا۔ اس شاندار استقبال کا اعلان بہت پہلے کیا جا چکا تھا۔صدر ٹرمپ کے مشاہیر کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات خاصی نتیجہ خیز ثابت ہو گی لیکن ماہرین اور مبصرین جانتے تھے کہ اس سے کچھ بھی برآمد نہ ہو گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ دونوں ممالک کو ایران اور یوکرین جنگوں ‘ بے قابومصنوعی ذہانت کو لگام دینے ‘تائیوان اور ماحولیاتی عفریت جیسے مسائل کے حل تلاش کرنا تھے لیکن ان میں سے کسی تنازعے پرکوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ اس ملاقات سے دو دن پہلے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کو دھمکی دی کہ اس نے اگر امن معاہدہ نہ کیا تو اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ بدھ کے روز اسی جگہ سے خطاب کرتے ہوے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ انکا ملک کسی دھمکی یا دبائو سے خوفزدہ نہیں ہو گا۔ ایرانی صدر نے بھی آبنائے ہرمز کے تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی۔ گذشتہ چند روز سے امریکہ بیشتر ممالک سے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ اس مرتبہ واشنگٹن نے خلیجی ممالک سے ایرانی بینکوں سے لین دین ختم کرنے کا تقاضا کیاہے۔ متحدہ عرب امارات‘ قطر ‘ کویت اور عمان نے امریکی حکمنامے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایران کے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروںسے تجارتی تعلقات منقطع کر دیئے ہیں۔ عام تاثر یہی تھا کہ یہ کاری ضرب ایران کی معیشت کے لیے اس حد تک خطرناک ثابت ہو گی کہ وہ امریکہ سے اس کی مرضی کے مطابق کوئی امن معاہدہ کر لے گا۔ مگر اس مرتبہ بھی امریکہ کو مکمل کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ ایک توایرن نے بلیک مارکیٹ کے ذریعے دوسرے ممالک سے کاروبار جاری رکھا اور دوسرا یہ کہ جب تک چین اور روس کیساتھ اسکی تجارت جاری ہے اسے مکمل طور پر دیوالیہ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے اگرچہ کہ ایران کی بندر گاہوں کی ناکہ بندی کرکے اسکی تیل کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے مگر چین کے ساتھ اسکی تجارت ابھی تک جاری ہے۔ چین کیونکہ اپنی ضروریات کا نوے فیصد تیل ایران سے حاصل کرتا تھا اس لیے اس نے امریکہ کی اس جارحانہ پالیسی کی مخالفت کی ہے۔ بیجنگ کیونکہ امریکہ سے فوجی تصادم مول نہیں لینا چاہتا اس لیے اس نے واشنگٹن کو للکارنے سے گریز کیا۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ دونوں صدور کی حالیہ ملاقات سے پہلے ہی امریکی ماہرین کہہ رہے تھے کہ صدر ٹرمپ اپنے چینی ہم منصب کو ایران سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے پر آمادہ نہ کر سکیں گے۔ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ تہران چین سے حاصل کی ہوئی سٹیلائٹ امیجری کے ذریعے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملے کرتارہا ہے۔ اس سلسلے کا ایک بڑا حملہ ایران نے جولائی میں اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے پر کیا تھا جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے اوربڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا۔ امریکہ کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین امریکہ کا تمام عالمی معاملات میں ایک طاقتور حریف ہے اس لیے اسکے ساتھ دوستی نہیں ہو سکتی۔ انکی رائے میں صدر ٹرمپ کو جیو پولیٹیکل تنازعات پر امریکہ کے قومی مفادات کے تناظر میں بات چیت کرنا چاہیئے۔ چند روز پہلے ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے چین اور ایران کے گہرے تزویراتی تعلقات کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ” I said please dont get involved to President Xi. I have very good relationship and they are not really involved.” صدر امریکہ نے یہ بھی کہا کہ چین کے ایران کیساتھ تعلقات معمولی نوعیت کے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے Small Potatoes کا محاورہ استعمال کیا۔صدر ٹرمپ عالمی معاملات کو اسی انداز سے دیکھتے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کو وہ ذاتی دوست سمجھتے ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے ڈکٹیٹر انہیں پسند ہیں اور عشروں پرانے یورپی اتحادی انکے لئےکوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ صدر ٹرمپ دنیا کو جس عینک سے بھی دیکھیں امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ چین بین الاقوامی تجارت‘ عالمی طاقت کے توازن اور مصنوعی ذہانت کے میدانوںمیں امریکہ کا سب سے بڑا حریف ہے اور اسکی بڑھتی ہوئی طاقت امریکہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس لیے اسے دوست سمجھنا خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔صدر ٹرمپ کے مشاہیر اسکے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ دو بڑی طاقتوں کے سربراہوں کا ایک خوشگوار ماحول میں مل بیٹھنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسی دوستانہ ماحول میں پیچیدہ عالمی تنازعات کو سلجھایا جا سکتا ہے۔ ممتاز امریکی سفارتکار نکولس برنز جوصدر جوزف بائیڈن کے دور میں بیجنگ میں امریکی ایمبیسیڈر رہے ہیںنے چین کے سفارتکاروں کے بارے میں کہا کہ "They are practical, hard headed and cynical about the United States.”نکولس برنز نے کہا کہ چین کے سفارتکار یہ دیکھتے ہیں کہ ہم کتنے طاقتور ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے انکا استقبال کیسے کیا اور انکی کتنی خوشامد کی ہے۔ صدر شی جن پنگ واپس جا چکے ہیںمگرامریکہ میں دونوں عالمی طاقتوں کے تعلقات کی نوعیت پر بحث مباحثہ جاری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button