Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اب چاند بھی ہمارا ہے !

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 ستمبر کوسوشل ٹروتھ پر لکھا’’THE MOON IS OURS‘‘ یعنی ’’چاند ہمارا ہے‘‘ اور ساتھ ہی چاند کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ۔صدرٹرمپ کے اس پیغام کے ساتھ کوئی تفصیل کوئی وضاحت یا باضابطہ پالیسی اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔واضح رہے کہ بین الاقوامی خلائی قانون کے تحت کوئی ملک چاند یا دیگر خلائی اجرام پر اپنی خودمختاری یا ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔فی الحال صدر ٹرمپ کا یہ جملہ صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود ہے، اِسے چاند پر امریکی ملکیت یا خودمختاری کا باضابطہ اعلان قرار نہیں دیا گیا۔
’’چاند ہمارا ہے‘‘ کہنا آسان ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر چاند کس کا ہے؟بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی ملک محض اپنی خواہش یا طاقت کی بنیاد پر چاند کو اپنی ملکیت نہیں بنا سکتا۔چنانچہ سیاسی نعرہ اپنی جگہ، قانونی حقیقت اپنی جگہ۔ لیکن اس جملے کا اصل وزن شاید ملکیت سے زیادہ طاقت کے تصور میں ہے۔اب چاند بھی ہمارا ہےبظاہر چند الفاظ کا یہ جملہ ہے، مگر اس میں طاقت، سیاست، قوم پرستی اور انسان کی صدیوں پرانی خواہشات کی پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔زمین پر سرحدیں کھینچنے کے بعد انسان نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پہلے ستارے خواب تھے، پھر چاند پر قدم رکھنے کا خواب حقیقت بنا۔ اب جب عالمی سیاست میں طاقت کا اظہار صرف زمین، سمندر اور فضا تک محدود نہیں رہا تو نگاہیں خلا کی طرف بھی اٹھ رہی ہیں۔چاند، جو صدیوں سے شاعروں کا محبوب رہا، کبھی عاشقوں کے استعارے میں آیا، کبھی بچوں کی کہانیوں میں اور کبھی سائنس دانوں کے تجربات میں۔ مگر طاقت کی سیاست کی لغت میں شاید اب اس کا ایک نیا تعارف بھی بن رہا ہے، اثرو رسوخ اور برتری کی علامت۔
ا مریکہ نے 1960ء کی دہائی میں انسان کو چاند تک پہنچا کر دنیا کو دکھایا تھا کہ خلائی دوڑ صرف سائنس کی دوڑ نہیں، یہ قومی طاقت، ٹیکنالوجی اور عالمی وقار کی بھی دوڑ ہے۔ آج نئی خلائی معیشت میں چاند کے وسائل، وہاں تحقیق، مستقل اڈوں اور مستقبل کے خلائی سفر کی بات ہو رہی ہے۔ یوں چاند ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔چاند پر قومی پرچم نصب کرنے کے اعتبار سے اب تک صرف دو ممالک نمایاں طور پر کامیاب ہوئے امریکہ پہلا ملک تھا جس نے 1969 میں اپالو 11 مشن کے ذریعے نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے چاند پر امریکی پرچم نصب کیا ۔دوسرا ملک چین تھا جس نے چانگ ای-5 مشن کے ذریعے 2020 میں چاند کی سطح پر اپنا پرچم نصب کیا۔ چین سے پہلے سوویت یونین کے خلائی مشنز بھی چاند تک پہنچے تھے۔بھارت چاند پر کامیاب لینڈنگ کرنے والا ملک تو ہے لیکن چاند کی سطح پر قومی پرچم نصب نہیں کرسکا۔ اگر آنے والی نسلیں چاند پر پہنچتی ہیں تو کیا وہاں زمین جیسی ملکیت اور قبضے کی سیاست بھی پہنچے گی؟انسان نے زمین پر وسائل کی تقسیم کے معاملے میں جو غلطیاں کیں، کیا وہی غلطیاںوہاں بھی دہرائی جائیں گی؟
’’اب چاند بھی ہمارا ہے‘‘ کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ یہ جملہ ہمیں چاند سے زیادہ انسان کے مزاج کے بارے میں بتاتا ہے۔ہم جہاں پہنچتے ہیں، وہاں’’میرا‘‘ اور ’’تیرا‘‘ شروع کردیتے ہیں۔
دنیا نے زمین پر جنگیں لڑتے لڑتے صدیاں گزار دیں۔ کبھی زمین کے ایک ٹکڑے کے لئے، کبھی تیل کےلئے، کبھی پانی کے لئے اور کبھی محض طاقت اور برتری کےلئے۔ انسان نے جنگوں سے دنیا میں اتنی تباہی دیکھی کہ امید تھی شاید ایک دن وہ سمجھ جائے گا کہ امن ہی اصل فتح ہے۔مگر انسان کی نظریں اب زمین سے اٹھ کر چاند کی طرف ہیں۔چاند! جو کبھی شاعروں کے لیے محبوب کا استعارہ تھا، اب سائنس دانوں، عالمی طاقتوں اور خلائی اداروں کے لیے تحقیق، وسائل اور مستقبل کی دوڑ کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ زمین کی پرانی رقابتیں ایک دن چاند تک بھی پہنچ جائیں گی؟
اگر طاقتور ممالک نے خلاء کو اپنی بالادستی کا نیا میدان بنا لیا، تو پھر سوال واقعی خوفناک ہوگا،کیا زمین کی جنگیں ختم ہونے سے پہلے انسان نے چاند پر نئی جنگوں کی بنیاد رکھ دی ہے؟ہمیں چاند کو فتح کرنے سے پہلے اپنے اندر کی جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔چاند سب کو ایک جیسا ہی نظر آتا ہے۔ چاند نے کبھی کسی سے یہ نہیں کہا کہ وہ کس کا ہے۔ وہ صدیوں سے سب کے آسمان پر ایک ہی طرح چمک رہا ہےامیر کےلئے بھی، غریب کے بھی،فاتح کے بھی، مفتوح کے لئے بھی۔زمین کی جنگوں نے انسان کو کیا کچھ نہیں دکھایا۔ توپیں، میزائل، بم، ڈرونزاور ایٹمی ہتھیار،انسان نے تباہی کے اتنے راستے ایجاد کر لئے ہیں کہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ جنگ کیسے لڑی جائے گی، بلکہ سوال یہ ہے کہ جنگ کہاں تک پہنچے گی۔اور اگر انسان کی نظریں چاند پر ہیں تو ایک دن یہ سوال بھی اُٹھ سکتا ہے، اگر چاند پر جنگ ہوئی تو گولہ بارود بھی جائے گا؟یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے ،مگر اس کے پیچھے ایک سنجیدہ فکر چھپی ہوئی ہے۔کیا انسان زمین کی پرانی عادتیں بھی اپنے ساتھ چاند پر لے جائے گا؟اگر ایسا ہوا تو شاید ایک دن تاریخ کی کتابوں میں ایک عجیب باب لکھا جائے’’ انسان نے پہلے چاند کو دور سے دیکھا، پھر وہاں قدم رکھا، پھر وہاں اڈے بنائے، اور آخرکار زمین کی طرح چاند کو بھی طاقت کے مقابلے کا میدان بنا دیا‘‘۔اصل مسئلہ یہی ہے کہ انسان جہاں جاتا ہے، اپنے ساتھ اپنی سیاست، اپنے مفادات اور اپنی رقابتیں بھی لے جاتا ہے۔شاید آنے والی صدی کا بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ ’’چاند کس کا ہے؟‘‘بلکہ یہ ہوگا کہ انسان خلا میں اپنی تہذیب ساتھ لے کر جائے گا یا اپنی پرانی رقابتیں بھی؟
ہم اپنا کالم ختم کر کے کُرسی سے اُٹھ رہے تھے کہ ہمیں ’’چنداماما‘‘یاد آگئے۔بچپن میں ہمیں سنایاجاتا تھا،پھر ہم نے بھی اپنے بچوں کو وہی ماموں کے گیت سنائے’’چندا ماما دور کے، پُوئے پکائیں بُور کے۔۔۔آپ کھائیں تھالی میں ہم کو بھی دیں پیالی میں‘‘پھر چاند پر بیٹھی چرخہ کاتنے والی بڑھیانانی یاد آئیںاور پھر جگجیت سنگھ کی چاند کی پریاں یاد آگئیں۔ سب سے زیادہ پریشانی شاعروں کی یاد آئی کہ ،وہ چاند کو دیکھ کر محبوب کا چہرہ کیسے لکھیں گے؟’’تیرا چہرہ چاند سا ہے‘‘کہنے سے پہلے محبوبہ پوچھے گی ’’کون سا چاند؟ وہ والا جہاں فوجی اڈا بنا ہوا ہے۔ہمیں سب سے زیادہ فکر چندا ماموں کی ہونے لگی ہے۔اگر خدانخواستہ چاند پر جنگ ہوگئی تو چندا ماموں کس کی طرف ہوں گے؟ !ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یہ چندا ماموں کے اتنے قریب چلے جائیں گے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ان کے گھر میں پلاٹ تلاش کرنے لگیں گی۔ماموں سوچ میں غرق ہوگئے کہ ان زمین والوں نے زمین کیا کم خراب کی تھی جو اب میرے گھر بھی آ گئے؟زمین والوں سے جواب ملا،ماموں ہم تو صرف تحقیق کے لئے آئے ہیں۔چندا ماموں پھرسوچنے لگےہاں ہاں، زمین پر بھی تو سب جنگیں امن کے نام پر ہی شروع ہوتی تھیں نا! پھر تو وہ ضرور اپنے گھر کے دروازے پر ایک تختی لکھ کر لگا د یں گے ’’یہ چندا ماموں کا گھر ہے، یہاں جنگ کرنا منع ہے!‘‘ چرخہ کاتنے والی نانی اپنا چرخہ سمیٹ کر کسی محفوظ گڑھے میں جا بیٹھیں گی اور بولیں گی،میں نے تو کہا تھا، بچوں! چاند کو گھر سمجھ کر مت لڑو، یہاں نہ پولیس ہے نہ تھانہ!پھر نانی اپنا چرخہ نکالیں گی، روئی کاتتے ہوئے دونوں فریقوں کو سمجھائیں گی ،لڑائی بند کرو، پہلے چائے پیو!اور یوں شاید چاند کی پہلی جنگ نانی کی چائے اور نصیحت سے ختم ہو جائے گی۔
جب سے صدر ٹرمپ نے یہ بیان داغا ہےچند۱ ماموں اور نانی پریشان بیٹھے سوچ رہے ہیںکہ کیسے زمین والوں کا مقابلہ کریں گےہم نے تو ابھی تک ماچس کی ایک تیلی بھی نہیں بنائی۔ پھر ہمیں بھی فکر لاحق ہو نے لگی ،سوچنے لگے ایسی صورت میںماموں اپنی تھالی اور پیالی اور نانی اپنا چرخہ لے کر کہاں جائیں گے؟اصل سوال گولہ بارود کا نہیں، انسان کی نیت کا ہے۔ہم چاند پر پانی تلاش کر رہے ہیں یا قبضے کے امکانات؟ہم وہاں سائنس لے جا رہے ہیں یا طاقت کی سیاست؟ہم مستقبل کی نسلوں کے لیے راستہ بنا رہے ہیں یا ایک اور میدانِ جنگ؟چاند صدیوں سے ہماری راتوں کو روشن کرتا آیا ہے۔ اس نے کبھی کسی سرحد کا مطالبہ نہیں کیا، کسی ملک سے ٹیکس نہیں مانگا اور نہ کسی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔اگر انسان وہاں بھی جنگ لےکرپہنچ گیا تو مسئلہ چاند کا نہیں ہوگا۔مسئلہ انسان کا ہوگا ۔آنے والے وقت کا سب سے بڑا سوال یہ نہ ہو کہ چاند پر سب سے پہلے کون پہنچا، بلکہ یہ ہو،چاند پر سب سے پہلے امن کا جھنڈا کون گاڑے گا؟یہ وہ دوڑ ہے جس میں پوری انسانیت کو شریک ہونا چاہیے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button