چھوٹے لوگ!

چھوٹے لوگ وہ ہوتے ہیں جن میں ظرف کی نمایاں کمی ہو اور کم ظرفی کے ساتھ ساتھ ان کی انا کے بت کی قامت اتنی زیادہ ہو کہ وہ اپنی ناک کے آگے کچھ دیکھنے کی بصیرت سے محروم ہوں!ہماری دلی، جسے غیر دلی والے دہلی کہتے ہیں اور اسی نام سے اسے پکارتے ہیں لیکن ہم دلی والے اپنے شہر کو دلی یوں کہتے ہیں کہ جب دلی آباد تھی تو وہ غیر منقسم ہندوستان کا دل سمجھی اور جانی جاتی تھی، وہاں کی کرخنداری زبان اور محاورہ میں (ٹکسالی زبان میں نہیں) ان چھوٹے لوگوں کو چھٹ بھئیے کہا جاتا ہے۔ آپ بھی سوچتے ہونگے کہ یہ آزاد پاکستان میں ہوش سنبھالنے والا آج دلی کی بات کیوں کر رہا ہے!پہلی توجیہہ تو اس کی یہ ہے کہ دلی میری جنم بھومی ہے، اور اس شہر کی زمین میں، جسے میر صاحب (خدائے سخن میر تقی میر) نے اجڑا دیار کہا تھا جب لکھنؤ والوں نے میر صاحب کو اپنے درمیان پاکر یہ پوچھا تھا کہ یہ صاحب کہاں سے آئے ہیں؟تو لکھنؤ والوں کے جواب میں میر صاحب نے وہ چھہ مصرعے کہے تھے جو میر صاحب ہی نہیں بلکہ دلی کی ایسی پہچان بن گئے ہیں جسے زوال ممکن ہی نہیں۔ میر صاحب نے فرمایا تھا:
کیا بود و باش پوچھے ہو پورب کے ساکنوں
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکارکے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اُسی
اُجڑے دیار کے !
تو دلی میں میری نال گڑی ہے اور اسی عرفیت سے مجھ حقیر کو، جسے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے، دلی کی زبان میں دلی کا روڑا کہا جاسکتا ہے اور میں اپنے تمام قارئین کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں اس کا رتی برابر بھی برا نہیں مانوں گا!اب آپ مجھ سے یہ سوال کرنے میں بالکل حق بہ جانب ہونگے کہ یہ مجھے اچانک اس شہر، جہاں میری نال گڑی ہے، اور اس سے وابستہ کرخنداری زبان اور محاورہ کا دورہ کیوں پڑگیا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جو ہمارے طاقتور حلقے ہیں جن کی دانست میں پاکستان ان کی موروثی جاگیر ہے اور جنہوں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا شوشہ چھوڑا ہے، وہ اب اپنی سہولت کیلئے اس معاملہ کو لٹکانا چاہتے ہیں۔یہ چھٹ بھئیے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ ان کو اپنا مفاد، اپنا اقتدار، اور اقتدار بھی وہ جو بلا شرکتِ غیرے ہو، قوم اور ملک کے مفاد سے کہیں بڑھ کر عزیز ہے۔ اور وہ جو میں نے اپنی تمہید کےآغاز میں کہا تھا ان کی انا ایسی ہے کہ وہ اپنی ذات کے محدود دائرہ سے باہر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ تواب عاصم منیر اور اس کے یزیدی جرنیلی ٹولہ نے اپنے منصوبہ کو آگے بڑھانے کیلئے ایک اور شطرنج کی بساط بچھانے کا سوچا ہے!لیکن اپنے وطنِ عزیز کے مسائل پر سوچنے اور غور و فکر کی بات کرنے سے پہلے اپنے ازلی دشمن بھارت کا تذکرہ کرنا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ اس پر بھی ایک چھٹ بھئیا حکمرانی کر رہا ہے اور وہ اگرچہ لومڑی کی طرح عیار اور چالاک ضرور ہے لیکن اس کی انا کا زہر اس کے تابع فرمان قوم کے افراد کے رویہ میں بھی کمال طور سے دوڑتا دکھائی دیتا ہے !آج ، یعنی اتوار 13 ستمبر، کے دن دبئی میں ویمنز ایشیا کپ کے ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا گیا تھا، بھارت اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان جس میں بھارت کی ٹیم نے سری لنکا کی ٹیم کو با آسانی زیر کرلیا اور ایشیا کپ پانچویں بار اپنے نام کیا۔ پاکستان تو اپنا سیمی فائنل میچ سری لنکا کے خلاف ہار گیا تھا لیکن پاکستان وہاں محسن نقوی کے روپ میں موجود تھا کیونکہ پاکستان کا یہ بقراط یزدی جرنیلی ٹولہ کا گماشتہ ہونے کے ساتھ ساتھ یزید عاصم منیر کی ناک کا بال بھی ہے!اب اسے پاکستانی قوم کی بدقسمتی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ محسن نقوی جیسا چھٹ بھئیا اپنے چھوٹے سے سر پر بہت سے ہیٹ لگا کر گھومتا اور قوم کے سینے پر مونگ دلتا ہے۔ یہ چھوٹا انسان پاکستان کا وزیرِ داخلہ بھی ہے، عاصم منیر کے ساتھ ساتھ ملک کا سب سے بڑا سفارتکار بھی ہے اور کرکٹ ٹیم کا کرتا دھرتا بھی یہی بونا انسان ہے!اور پاکستانی کرکٹ کا بے تاج بادشاہ ہونے کے ناطے یہ ان دنوں ایشیا کرکٹ فیڈ ریشن کا سربراہ بھی بن گیا ہے اور اسی حیثیت میں یہ دبئی کے فائنل میچ میں بھی مہمانِ خصوصی تھا اور فتح ٹیم کو ایشیا کپ دینے کا مجاز بھی!لیکن بھارت کی ویمنز ٹیم نے بھی اسی کم ظرفی کا مظاہرہ کیا جو مردوں کی ٹیم نے گذشتہ برس کیا تھا جب اس نے پاکستان کے ایشیا کپ کے فائنل میچ میں شکست دی تھی لیکن محسن نقوی کے ہاتھ سے فتح کا کپ لینے سے انکار کردیا تھا!تو بھارت کی ویمنز ٹیم نے بھی اسی کم ظرفی کا توارد کرتے ہوئے محسن نقوی کے ہاتھ سے کپ لینے سے انکار کردیا اور دنیا کو ایک برس میں یہ دوسری بار یقین دلایا کہ بھارت کے کھلاڑی اپنے تنگ نظر اور کم ظرف حکمرانوں کی طرح ہی چھوٹے لوگ ہیں، چھٹ بھئیے ہیں اور اپنی انا کے حصار سے باہر نکلنے کیلئے اب بھی آمادہ نہیں ہیں!وہ جو پرانی کہاوت ہے وہ کتنی درست ہے کہ دینِ سلطان دین رعیت۔ اور یہ بھی درست ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ سو چھٹ بھئیا نریندر مودی اپنی جہالت اور تنگ نظری کا زہر اپنی رعایا کی رگوں میں گھولنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے! کم ظرفی میں لیکن پنجاب کی رانی مریم نواز پر کوئی بازی لیجا نہیں سکتا!ایک زمانہ تھا ، وہ زمانہ جب پاکستان میں قانون کا تھوڑا بہت احترام ہوا کرتا تھا، کہ پاکستان کی سیاست میں خواتین کے ضمن میں جو کردار نمایاں تھے وہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کے اسمائے گرامی تھے، ان کی وہ ذاتی خصوصیات تھیں جن کی بناء پر قوم ان خواتین کا احترام کرتی تھی، ان کے نام عزت سے لئے جاتے تھے !لیکن اب پاکستان کے بُرے دن ہیں اور اسی توجیہہ سے جو نام سب سے نمایاں ہے وہ رانی مریم نواز کا ہے جو اپنے آپ کو جھانسی کی رانی سے کم نہیں سمجھتیں!
وہ تھی رانی مستانی
جو تھی جھانسی کی رانی !
جھانسی کی رانی اپنی قربانی سے، اپنے کارناموں سے مشہور تھی اور اسی لئے بر صغیر کی تاریخ میں اس کا نام ہے، مقام ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے !مریم نواز کی پہچان تو ان کی شاہ خرچیوں کے حوالے سے ہے، اور ان کی شاہ خرچیاں اسلئے ہیں کہ وہ ملک کے خزانے کو اپنا ذاتی خزانہ سمجھتی ہیں اور اسی لئے اللے تللے ان کی ذات سے منسوب ہوتے رہتے ہیں۔اپنے تازہ ترین کارنامہ میں رانی مریم نواز اپنے سرکاری جہاز میں سوار ہوکر، وہ جس جہاز پر ایک نادار ملک کے گیارہ یا تیرہ ارب روپے خرچ ہوئے ہیں، انگلستان میں وارد ہوئیں ۔ بہانہ ان کی بیٹی کی گریجویشن کی تقریب تھی۔ دنوں ان کا جہاز لندن کے ہوائی اڈے پہ پارک رہا اور وہ سارا خرچہ پاکستان کے خزانے سے ادا ہوا۔ یہ اس کا علاوہ ہے کہ گلف اسٹریم کے اس جہاز کی پرواز میں فی گھنٹہ کوئی تیرہ ہزار امریکی ڈالر کا ایندھن پھنکتا ہے!لیکن پاکستان کا خزانہ اس کی اشرافیہ کیلئے ہی تو ہے۔ اشرافیہ کے مشاہیر جیسے چاہیں خزانہ لٹائیں۔ غریب کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے، تن ڈھانپنے کو کپڑا نہیں ہے، سر پہ چھت نہیں ہے لیکن غریب تو کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں بہ آسانی مسلا اور کچلا جاسکتا ہے!رانی کے کرتوت کا دفاع کرنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ لندن یاترا کا تمام خرچہ رانی نے خود ادا کیا ہے اپنی جیبِ خاص سے!تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس خاتون کا یہ بیان زباں زدِ عام ہو کہ لندن میں توکیا میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے اتنا پیسہ کہاں سے آگیا کہ اپنے پرتعیش اڑن کھٹولہ کا تمام تر خرچہ اپنی جیبِ خاص سے ادا کیا جارہا ہے؟ادھر ان کے چچا محترم، جو نامی چور ہیں اور جو منصب انہیں عاصم منیر کی سرپرستی سے مل گیا ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں، دنیا بھر میں اُڑے اُڑے پھر رہے ہیں، انہوں نے حاتم طائی کی قبر پہ لات مارتے ہوئے غریب پاکستانیوں کیلئے پٹرول میں خاص رعایت کا اعلان کیا ہے۔ اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ روزپٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور بیچارے موٹر سائیکل چلانے والے پستے رہتے ہیں لیکن ایک ظالم و جابر نظام کو اُلٹ دینے کا جذبہ ان میں تا حال ناپید ہے!ادھر رانا ثنا اللہ نے اپنا پٹاخہ چھوڑا ہے اس اعلان سے کہ نئے صوبے بنانے کا عمل تو آٹھ مہینے تک طول پکڑے گا!آٹھ مہینے کہا تھا، رانا صاحب ، تو نو مہینے کہہ دیتے تاکہ عاصم منیر کا بویا ہوا بیج ماں کے پیٹ سے باہر نکلنے کی مدت پوری کرسکتا!اب یزیدی ٹولہ کو یاد آیا ہے کہ پارلیمان نام کی کسی شئے کا بھی وجود ہے اور اس میں یہ منصوبہ زیرِ بحث لانا چاہئے!دیر آید درست آید۔ لیکن پارلیمان بھی وہ ہونی چاہئے جوپاکستانی عوام کی منتخب کردہ ہو۔ یہ کٹھ پتلی پارلیمان نہیں جو جرنیلوں کے بوٹوں کے نیچے رہتی ہے اور جسے عوام کی تائید اور حمایت حاصل نہیں ہے!توچلتے چلتے ہمارے یہ چار مصرعہ پڑھئے اور ہمیں اجازت دیجئے:
جونکوں کی طرح چمٹے ہیں جاں چھوڑتے نہیں
جرنیلوں نے خوں چوس لیا میرے وطن کا
اور اس پہ یہ دعویٰ کہ محافظ ہیںوطن کے
حیران ہوں کیا نام رکھوں ایسے چلن کا ؟



