Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

منتخب بندے !

کبھی یہودی خدا کے منتخب بندے تھے پھر خدا کی جانب سے یہ منصب یہودیوں سے لے لیا گیا اور مسلمان خدا کے منتخب بندے بن گئے،یہ توحید کا علم تھام کر نکلے اور دنیا پر چھا گئے،تین برِ اعظموں پر ان کی حکومت رہی ایک عظیم سلطنت،پہلے یہ خلافت تھی اس کے بعد سلطنت بن گئی،خلیفہ بھی بادشاہ ہی تھامگر سلطان کی تمکنت کچھ اور ہی تھی پھر اٹھارویں صدی میں یہ سلطنت سکڑنا شروع ہوئی اور بے شمار چھوٹے چھوٹے ملک بن گئے،یہ ملک خوش ہیں اپنی اپنی حدود میں اپنی سرحدوں کا دفاع بھی کرتے ہیں اور اپنی قومیت پر فخر بھی کرتے ہیں کبھی یہ ایک اُمہ تھے پھر بکھر گئے کہتے ہیں کہ nationalismامہ کو کھا گیا، اب کوئی اُمہ کا ذکر بھی نہیں کرتا ،کبھی کبھار جب دو چار مسلم ممالک مل بیٹھتے ہیں تو کہا جاتا کہ یہ اُمہ کی خاطر جمع ہوئے ہیں،مگر یہ سب دل بہلانے کی باتیں ہیں حال ہی میں جب سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا تو بھی کہا گیا کہ یہ اُمت کا دفاع کے لئے ہے جشن منائے گئے کہ یہ تین ممالک کتنے مضبوط ممالک ہیں ان کے کیا کیا وسائل ہیںکچھ نا بالغ صحافیوں نے اس اتحادکو ناٹو اتحاد سے تشبیہ دی ،حالانکہ کہ اس اتحاد کی ناٹو اتحاد کی کوئی شکل نہیں ،اب آپ دیکھیئے کہ ساتویں صدی ہجری سےاکیسویں صدی ہجری تک کوئی بھی یہ دعوی نہیں کر رہا کہ ہم خدا کے منتخب بندے ہیں مگر مساجد میں امام خطبہ دیتے ہوئے معصوم مسلمانوں کو باور کرا دیتا کہ تم خدا کے منتخب بندے ہو ،کوئی تھوڑا پڑھا لکھا اپنی تقریر میں اقبال کے اشعاربھی سنا دیتا ہے اور معصوم مسلمان خوش ہو جاتے ہیں کہ ہم خدا کے منتخب بندے ہیں مگر لطف کی بات یہ ہے کہ کوئی مولوی ہیر سنا کر بھی یہ ثابت کر دیتا ہے کہ ہم خدا کے منتخب بندے ہیں اور یہ بھی ہوتا کہ کوئی خطیب زروِ خطابت میں
بھلے شاہ کا کلام سنائے اور ذہنوں میں یہ ٹھونس دے کہ مسلمان خدا کے منتخب بندے ہیں ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہم نے یقین کیا نہیں کہ ہم خدا کے منتخب بندے ہیں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر ہم تو منہ چھپا لیتے ہیں اور اگرمحفل میں کوئی یہ کہہ دے کہ مسلمان خدا کے منتخب بندے ہیں تو ہم یا تو اخبار اٹھا لیتے ہیں یا پھر کھانسنا شروع کر دیتے ہیں مگر کچھ لوگ ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان خدا کے منتخب بندے ہیں ایک pharmacistہوا کرتے تھے سنا ہے اللہ کو پیارے ہو گئے وہ پاکستان پوسٹ میں ۔منتخب بندوں۔ کے عنوان سے ایک عرصے تک کالم لکھتے رہے اِکنا نے ان کو بڑی عزت دی نماز میں وہ اگلی صفوں میں جگہ پاتے تھے بہت احترام کیا جاتا تھا مگر شومئی قسمت کہ وہ medicaid fraud میں پکڑے گئے ،ہم سے وہ کنارہ کئے رکھتے کیونکہ ہمیں کچھ سن گن ہو گئی تھی مگر لوگ ہمیں سمجھاتے تھے کہ کاروبار اور چیز ہے اور ایمان کچھ اور ،ایک صاحب ایمان نے تو ہم سے یہ بھی کہا کہ آپ ایمان اور کاروبار کی کاک ٹیل نہ بنایا کریں،مگر ہم تو ایمان رکھتے ہیں کہ کاروبار میں بھی ایمان نظرآنا چاہیئے ایک اور خدا کے منتخب بندے سے ملاقات ہوئی بد قسمتی سے وہ بھی pharmacistنکلے بہت خوش گفتار جماعت اسلامی سے ان کا تعلق تھا ،ہمیں بتایا گیا کہ موصوف پاکستان میں تعلیم پر کام کر رہے ہیں علم کے چراغ روشن کر رہے ہیں بتایا کہ موصوف پاکستان میں ملت اسکول چلاتے ہیں ایک بس صبح سویرے اساتذہ کو لے کر نکلتی ہے ہر گاؤں میں ایک استاد کو ڈراپ کر تی ہے وہ استاد انتہائی نا مساعد حالات میں گاؤں کے بچوں کو پڑھاتا ہے اور شام کو وہی بس ان اساتذہ کو پک کر لیتی ہے،اور یہ سلسلہ نو دس دیہاتوں تک پھیلا ہوا ہے ہم تو یہ سن کر ہی ریشہ خطمی ہو
گئے کہ کوئی دیہات کے بچوں کی تعلیم کے لئے اتنا درد رکھتا ہے کچھ ذرائع سے اس بات کی تصدیق بھی ہوگئی اور ہم نے ملت اسکولز کے بارے میں چند کالم بھی لکھے اور اپیل کی کہ موصوف کے مشن میں ان کی مدد کی جائے،انہوں نےپھر اسلام آباد میں ایک شاندار ہسپتال بھی بنایا بالکل امریکی طرز کا ،مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ وہ بھی medicaidfraudمیں پکڑے گئے امریکی حکام ان کو پاکستان سے نیویارک لائے مقدمہ چلا مگر سزا سے پہلے وہ اللہ کو پیارے ہو گئے اور میں دوبارہ منتخب بندوں کی تعریف پڑھنے لگا،اسلام ایک magnetic forceرکھتا ہے،لہٰذا اس magnetic forceنے ان ڈاکٹروں کو بہت متاثر کیا جنہوں نے ایم ڈی کا امتحان پاس کر لیا مجھے ایسے کئی ڈاکٹر ملے جو پاکستان سے MBBSکر کے آئے مگر ان کو اسلام سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں تھی مگر وہ ڈاکٹرز جو ایم ڈی کا امتحان پاس کر چکے تھے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ امریکہ آنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ ایمان کاہے لہٰذا ان ڈاکٹروں نے مساجد قائم کر لیں امریکہ میں بنیاد پرستی کو تحریک دینے میں ان مساجد نے اہم کردار ادا کیا،یہ ساری مساجد incorporated ہیں یعنی کسی ایک فرد یا چند افراد کی ملکیت ،یہ non profit organizationیعنی ان پر ٹیکس نہیں دینا پڑتا ،کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ یہ محفوظ کاروبار ہے عمارت کی توسیع چندے کے پیسے سے ہوتی رہتی ہے اور good will بڑھتی رہتی ہے اور انک کے اثاثوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہےمسجد کے فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں کچھ لوگوں نے رابطہ کیا تو ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں منشور دکھا دیں اور ہمیں بھی بورڈ میں شامل کر لیںوہ ناراض ہو گئے میں نے اپنے آپ کو خدا کے منتخب بندوں میں کبھی شامل نہیں کیا مگر جنہوں نے یہ دعوی کیا کہ وہ خدا کے منتخب بندے ہیں ان کو قریب سے دیکھنے کی ضرور کوشش کی جتنا دیکھا اتنی ہی شرمندگی ہوئی،مجھے Tennesseجانے کا اتفاق ہواوہاں ایک ڈاکٹر نے مجھے سمجھایا کہ افراد کو پرکھنے کی حماقت نہ کریں ۔لوگوں کو اجتماعی طور پر دیکھیں قوموں کے کردار کا مطالعہ کریں،ایسا کرنے کے لئے تاریخ کا سہارا لینا پڑا اور دیکھنا پڑا کہ مسلمان ملک میں کہیں خدا کے منتخب بندے مل جائیںمگر نہ مل سکے،ہر ملک کا ایمان معیشت سے بندھا ہوا ہے۔کسی بھی ملک میں منتخب بندے تلاشِ بسیار کے بعد بھی نہ ملے،ایک عالم نے ہمیں بتایا کہ منتخب بندے تلاش نہ کرو ۔منتخب قوم تلاش کرو،ہماری یہ جرات نہ ہو سکی کہ 54 muslim countriesمیں سے کسی پر بھی منتخب قوم کالیبل لگادیں ظاہر ہے کہ ہر ملک کا دعوی ہوگا کہ ہم منتخب قوم ہیں سعودی عرب کہے گا کہ اسلام کے اصل وارث تو ہم ہیں اور مصر دعویٰ کرے گا کہ اسلام نافذ کرنے کی کوششیں تو ہماری ہیں،افغانستان کہے گا ہم تو اسلام کی خاطر امریکہ سے لڑ گئے اور پاکستان یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمارے ہاں داتا کا مزار ہے پاک پتن اور بری امام کا مزار اور قلندر،65 لاکھ مساجد اور پینتیس ہزار مدرسے ،دینی سیاسی جماعتیں جنہوں نے بقول شخصے الحاد کا راستہ روک رکھا ہے ، اگر ایسا ہی ہے جیسے یہ قومیں دعویٰ کرتی ہیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ان باتوں سے Nationalism کی بو آ رہی ہے یعنی ہر ملک کا اسلامی تشخص الگ الگ ہے اور کسی ملک کا یہ دعویٰ نہیں ہوسکتا کہ وہ خدا کی منتخب قوم ہے جب مسلم ممالک کے سربراہ جمع ہوتے ہیں تو امّہ یا امت کی بات کرتے ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان سربراہان نے کبھی دعویٰ کیا ہو کہ ہم خدا کے منتخب بند ےہیں۔ مسلمانوں کی حالت دنیا کے سامنے ہے، دنیا ا ن دعووئوں کو نہیں مانتی کہ کون خدا کی محبوب قوم ہے دنیا دیکھتی ہے کہ کوئی قوم دنیا کو کیا دیتی ہے کیا دے رہی ہے۔ علم و دانائی میں اس کا کیا درجہ ہے ،سائنس اورٹیکنالوجی میں فلاں قوم کا کیا حصہ ڈالتی ہے، دنیا مذہبی ،قومی ،لسانی، ثقافتی،تفاخر کو نہیں مانتی یہ بات سارتر نے کہی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ تفاخر خواہ مذہب کا ہو،نسل کا ہو، ثقافت یا لسان کا،انسان کا وحشیانہ طور پر سفاک بنا دیتا ہے اور کم از کم یہ بات پاکستان پر تو صادق آتی ہے ، ہم نے پاکستان کے لوگوں کو اس مذاق میں مبتلا پایا ہے کہ وہ خدا کے منتخب بندے ہیں،اگر چہ کہ ان کے پاس آپ چند لمحے بھی نہ گزار سکیں اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے روانہ ہو جائیں کہ
سب ترے سوا کافر،آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انسان کا ایسا خبطِ مذہب کیا
ہم نے لسانی مدہوشی بھی دیکھی،صوبائی اور علاقائی سرمستی بھی،مہاجر،پنجابی اور سندھی chauvinism بھی سر چڑھتے دیکھا، یہ بھی تاریخ نے بتایا کہ جرمن بھی اپنے آپ کو صف اول کی قوم سمجھتے ہیں ،مگر آہستہ آہستہ یہ نشہ اتر گیا ،اعتدال نے راہ دکھائی، مگر مسلمانوںکے سر سے یہ نشہ نہیں اتر رہا کہ وہ خدا کے منتخب بندے ہیں ،سارے انڈکس اٹھا کر دیکھ لیجئے ،پاکستان آپ کو ہر لحاظ سے نچلی سطح پر ملے گا،وہ کون سی سماجی اور اخلاقی برائی ہے جو ان میں نہیں،افغانستان کو بھی دیکھ لیجئے مگر پاکستان اورافغانستان کے دینی رہنمائوں کا مطالبہ ہے کہ دنیا کی حکمرانی انہیں دے دی جائے ،ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیادت حاصل کی جاتی ہے عطا نہیں ہوتی،وہ اس نشے میں ہیں کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں لہٰذا حکمرانی ان کا حق ہے وہ ابھی تک اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ سو سال پہلے جو معاہدہ ترکی اوربرطانیہ کے درمیان ہوا تھا وہ بحال ہوگا اورتین براعظموں پر مسلمانوں کی حکومت ہوگی،مذہب کا یہ کرشمہ ہےکہ عقل سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کا تعلق عقیدے سے ہوتا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ عقیدہ اندھا ہوتا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button