حوثیوں کے حملے اور’’ مکہ دفاعی معاہدہ ‘‘کے خاموش فریقین!

7اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ معاہدے کابنیادی نکتہ یہ تھا کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوا تو یہ حملہ تینوں ممالک پر بھی’’ حملہ‘‘ تصور کیا جائے گا اور تینوں اجتماعی دفاع کی صلاحیت بروکارلائینگے ۔ پاکستان نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کبھی بھی صرف ہتھیاروں سے نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا۔ وہاں دفاعی طاقت ضروری ہے لیکن دفاعی طاقت کے ساتھ سیاسی مکالمے نہ ہو ںتو ہر نیا اتحاد اگلی جنگ کی تیاری بھی بن سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض فیصلے صرف موجودہ حالات کا ردِعمل نہیں ہوتے بلکہ آنے والے برسوں کے علاقائی نقشے کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ بھی اب اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
موجودہ مکہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ شدید کشیدگی موجود ہے۔ معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں اور اس کا مقصد باہمی دفاع اور سلامتی میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن سے سعودی عرب پر حوثی حملوں نے اس معاہدے کی عملی معنویت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ واضح کیا ہے کہ فی الحال مکہ معاہدے کے تحت کوئی فوجی کارروائی زیرِ بحث نہیںہے، لیکن اب سعودی سلامتی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات نے معاہدے کو محض کاغذی اعلان سے آگے ایک عملی سوال بنا دیا ہے۔ سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے واضح کیا ہے کہ فی الحال سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی فوجی کارراوائی پر بات نہیں کی جاسکتی پاکستان نے کہا کہ وقت آنے پر معاہدے کے تحت عمل کیا جائے گا۔اگر سعودی عرب پر کسی بیرونی قوت کا حملہ ہوتا ہے تو معاہدے کی رو سے پاکستان کو سعودی عرب کے دفاع میں کردار ادا کرنے کی طرف قدم اُٹھانا ہوگا۔پاکستان کا کردار سب سے حساس ہے۔اس پورے معاملے میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی اہم ہے۔پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور تاریخی تعلقات رکھتا ہے، جبکہ ایران اس کا ہمسایہ ہے۔ پاکستان کسی بھی صورت ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ اسلام آباد کی اصل خواہش یہی ہوگی کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے بھی برقرار رہیں اور ایران کے ساتھ سرحدی، سفارتی اور معاشی تعلقات بھی خراب نہ ہوں۔ حالیہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ مکہ معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا، اب یہاں مکہ معاہدے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔اس پورے معاملے میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے، جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ ایران کے خلاف براہِ راست جنگ پاکستان کے لیے اپنی سرحد، بلوچستان، تجارت اور علاقائی سلامتی کے اعتبار سے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے ۔ جبکہ مکہ معاہدہ پاکستان کو سعودی عرب کے دفاع سے جوڑتا ہے مگرپاکستان کو ایران کے خلاف جنگ سے نہیں جوڑتا۔
موجودہ بحران ہی اس معاہدے کی پہلی بڑی آزمائش بن رہا ہے۔ اگر سعودی عرب پر مسلسل حملے ہوتے رہیں اور معاہدہ صرف بیانات تک محدود رہے تو اس کی ا ہمیت ضرور متاثر ہوگی۔ لیکن اگر تینوں ممالک دفاعی تعاون، انٹیلی جنس، فضائی دفاع اور مشترکہ مفادات کو عملی شکل دیتے ہیں تو یہی بحران معاہدے کو مضبوط بھی کر سکتا ہے۔میرے خیال میں اصل سوال یہ نہیں کہ مکہ معاہدہ کمزور ہے یا مضبوط؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا تینوں ممالک سعودی عرب پر بڑے بیرونی حملے کی صورت میں مشترکہ فوجی خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں؟ مگر موجودہ صورتحال میں اس کا جواب دور دور تک نہیں ملتا۔مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف جنگ، پراکسی تنازعات، میزائل اور ڈرون ہیں اور دوسری طرف علاقائی ممالک ایک نئے سکیورٹی نظام کی تلاش میں ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ‘‘غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
تازہ صورتِ حال یہ ہے کہ ابھی پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کے لیے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع نہیں کی۔9 ستمبر کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب پر حملے جاری رہے تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔لیکن 10 ستمبر کو پاکستان کےدفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کے تحت کسی فوری فوجی کارراوائی پر ابھی بات چیت نہیں ہوئی۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ پاکستان کہتا ہےہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں، لیکن ہر میزائل حملے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی فوج فوراً یمن جا کر جنگ شروع کر دے۔پاکستان کی سب سے بڑی کوشش ثالث بننا ہے۔اس وقت پاکستان کی توجہ سفارتی کوششوں اور کشیدگی کم کرنے پر بھی ہے،۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے اصل حکمتِ عملی سعودی عرب کا دفاع، ایران کے ساتھ جنگ سے گریز اور سفارت کاری ہے۔ موجودہ حالات میں یہ تینوں چیزیں بیک وقت چل رہی ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا۔مکہ معاہدے کے تحت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ تینوں ملکوں میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔پاکستان اسے دفاعی معاہدہ قرار دیتا ہے، کسی ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں۔ اسی لیے اگر سعودی سرزمین پر حملے بہت بڑے پیمانے پر جاری رہتے ہیں تو پاکستان کے لیے بالکل خاموش رہنا مشکل ہوگا۔ پاکستان کے لیے یہ کہنا بہتر ہوگا ’’ہم سعودی عرب کا دفاع کر سکتے ہیں، لیکن سعودی عرب کے دفاع کو ایران کے خلاف جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے‘‘ جبکہ سعودی عرب کو حوثیوں کے مزید حملوں کا سامنا ہے۔ اگر مکہ معاہدہ صرف تین ممالک کا دفاعی بندوبست رہتا ہے تو اس کی اہمیت محدود رہے گی۔ لیکن اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اسے ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کے نتائج بہت دور تک جائیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اتحاد بنانا آسان ہے، اعتماد پیدا کرنا مشکل۔اگر مکہ معاہدہ اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس کا اثر صرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو بدل سکتا ہے۔ آج دنیا کو پہلے سے زیادہ امن کی ضرورت ہے کیونکہ آج کی دنیا میں جنگ، کشیدگی اور بداعتمادی کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی احترام کی بھی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،طاقت کا اصل کمال صرف جنگ جیتنے میں نہیں، بلکہ جنگ کو روکنے اور امن کا راستہ نکالنے میں ہے امن ایک مسلسل عمل ہوتا ہے۔ عام لوگ ہی سب سے زیادہ جنگوں کی قیمت ادا کرتے ہیںاس لیے ہر ملک کی ترجیح ہونی چاہیے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔اللہ دنیا میں امن قائم کرے، بے گناہ لوگوں کی حفاظت فرمائے اور حکمرانوں کو ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے جو انسانیت کے حق میں ہوں( آمین)۔



