Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کیا دس سال بعد مصنوعی ذہانت انسانیت کو ختم کردے گی؟

( گزشتہ سے پیوستہ)

آج کے نظام انسان کے بنائے ہوئے کمپیوٹنگ ڈھانچے، انسان کی دی گئی اجازتوں، اور انسان کے تعمیر کردہ بنیادی نظاموں پر مکمل طور پر منحصر ہیں۔ کسی پاور گرڈ، کسی بینکنگ نظام، یا پوری دنیا کے مواصلاتی ڈھانچے کو خودمختار طور پر مفلوج کر دینے کا منظرنامہ، جو کبھی کبھی سنسنی خیز رپورٹنگ میں ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہو، درحقیقت ابھی تک محض ایک قیاسی، فرضی امکان ہے۔ اس کے باوجود، یہ کہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ موجودہ اے آئی ماڈلز کے سائبر کارروائیوں، نگرانی، حیاتیاتی تحقیق اور غلط معلومات کے پھیلاؤ میں معاون بننے کی عملی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، اگرچہ ان میں سے متعدد کوششیں خود کمپنیوں نے بروقت روک بھی دیں۔ اینتھروپک کی اپنی رپورٹ اس پورے تضاد کی زندہ گواہ ہے: خطرہ حقیقی بھی ہے اور اسے پکڑنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ خطرہ اس بات میں نہیں کہ کوئی مشین آج اٹھ کر انسانیت کے خلاف بغاوت کر دے گی۔ خطرہ اس بات میں ہے کہ ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والا بدنیت فرد یا گروہ، آج کی ٹیکنالوجی کے ذریعے، وہ صلاحیت حاصل کر سکتا ہے جو کبھی بڑے اداروں یا ریاستی وسائل کی محتاج سمجھی جاتی تھی۔اسی تناظر میں، ان کمپنیوں کے اندرونی رویے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو اس ٹیکنالوجی کو تخلیق کر رہی ہیں۔ اینتھروپک نے، جو اس بحث کے مرکز میں کھڑی ہے، اپنی حفاظتی پالیسی کو بار بار مضبوط کیا ہے، اپنے ماڈلز میں اعلیٰ سطح کی حفاظتی تہیں فعال کی ہیں، اور اپنے ملازمین کے لیے ایسا نظام قائم کیا ہے جس کے تحت وہ اندرونی خدشات کھل کر رپورٹ کر سکیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ نے بھی اپنے حفاظتی فریم ورک کو مسلسل آگے بڑھایا ہے، اور کئی ورژنز کے بعد اپنے نظام کو مزید تفصیلی بنایا ہے۔ مگر اوپن اے آئی کی کہانی زیادہ پیچیدہ ہے۔ اسی کمپنی نے گزشتہ دو برسوں میں چار الگ الگ حفاظتی ٹیموں کو تحلیل کیا ہے، جن میں وہ ٹیم بھی شامل تھی جسے خاص طور پر سپر انٹیلیجنس کو قابو میں رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ اس ٹیم کے سربراہ نے، رخصت ہوتے ہوئے، ایک ایسا جملہ لکھا جو آج بھی حوالے کے طور پر استعمال ہوتا ہے: حفاظتی ثقافت اور طریقہ کار پیچھے رہ گئے ہیں، اور چمکدار مصنوعات آگے نکل گئی ہیں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی اوپن اے آئی نے، رواں سال اگست میں، جب اس کے اپنے ایک غیر جاری شدہ ماڈل نے اندرونی جانچ کے دوران خارجی نظاموں تک غیر متوقع رسائی حاصل کر لی، تو کمپنی نے اپنی سب سے بڑی منصوبہ بند تربیتی سرگرمی روک دی اور اپنی حفاظتی دستاویز کو دوبارہ تحریر کرنا شروع کر دیا۔ یہ ایک ہی کمپنی کی دو مختلف تصویریں ہیں، ایک طرف حفاظتی ٹیموں کا خاتمہ، دوسری طرف ایک حقیقی خطرے کے سامنے آنے پر فوری، ذمہ دارانہ ردعمل۔ میٹا اور ایکس اے آئی کے بارے میں آزاد اداروں کی جانب سے کیے گئے حالیہ جائزوں میں بھی مختلف نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں میٹا کی کارکردگی میں بہتری اور ایکس اے آئی کی کارکردگی میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اور شاید سب سے زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران، وہی کمپنیاں، جنہوں نے کبھی اپنی ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال پر پابندی عائد کی تھی، اب آہستہ آہستہ اس پابندی سے پیچھے ہٹ رہی ہیں اور دفاعی شراکت داریوں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ اس سب سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پوری صنعت یکساں طور پر حفاظت کو تجارتی مفاد کے لیے قربان کر رہی ہے، ایک غیر منصفانہ عمومیت ہوگی۔ درست تر بات یہ ہے کہ بعض جگہوں پر تجارتی اور مسابقتی دباؤ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، مگر اس صنعت کا مجموعی رویہ ہرگز یکساں نہیں۔اور جب ہم اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے کے عالمی نظام کی طرف دیکھتے ہیں، تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے۔ برطانیہ کا نظام ابھی تک رضاکارانہ ہے، جہاں حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر رضاکارانہ جانچ ناکافی ثابت ہوئی تو قانون سازی کی جائے گی، مگر ابھی تک یہ محض ایک شرط ہے، کوئی قانون نہیں۔ امریکہ کے پاس ابھی تک کوئی جامع وفاقی اے آئی قانون موجود نہیں، اور کانگریس کے اندر ریاستی قوانین کو یکجا کرنے یا ختم کرنے پر شدید سیاسی اختلاف جاری ہے۔ یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ، جو دنیا کا سب سے جامع قانونی ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے، اپنی اعلیٰ خطرے کی شرائط کے نفاذ کو ملتوی کر چکا ہے۔ چین نے ایک تہہ در تہہ نظام قائم کیا ہے جو زیادہ تر اندراج، لیبلنگ اور نگرانی پر مبنی ہے، مگر اس کا مقصد قومی سلامتی اور معاشرتی نظم و ضبط ہے، نہ کہ عالمی سطح پر انسانیت کو کسی وجودی خطرے سے بچانا۔ اور اقوامِ متحدہ نے، اگست دو ہزار پچیس میں، دو ادارے قائم کیے: ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل اور ایک عالمی مکالماتی فورم۔ اس پینل کے چالیس ارکان میں یوشوا بینجیو بھی شامل ہیں۔ اس پینل نے اپنی پہلی رپورٹ میں، جولائی دو ہزار چھبیس میں، ایک بنیادی اور اہم بات کہی: سائنس یہ ضمانت نہیں دے سکتی کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کبھی تباہ کن نقصان نہیں پہنچائے گی۔ مگر یہ بات نہ تو کوئی پیش گوئی ہے، نہ کوئی دس سالہ آخری تاریخ۔ یہ محض ایک ایماندارانہ اعتراف ہے کہ غیر یقینی صورتحال میں، کوئی بھی سائنسی ادارہ مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اور یہ پورا فورم، اپنی نوعیت میں، غیر پابند ہے۔ یہ کسی کو کچھ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ صرف علم بانٹنے اور مکالمے کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ آج، دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسا واحد، لازمی اور مکمل عالمی نظام موجود نہیں جو انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کو بین الاقوامی سطح پر قابو میں رکھ سکے۔اور یہیں پر، اس پورے موضوع کے وسط میں، ایک ایسا سوال کھڑا ہوتا ہے جو شاید عددی امکانات، رپورٹوں اور قوانین سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ کیا اصل خطرہ اس بات میں ہے کہ مشین ایک دن ہم سے زیادہ ذہین ہو جائے گی؟ یا اصل خطرہ اس بات میں ہے کہ انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ذہانت کے مقابلے میں اخلاقی طور پر چھوٹا ثابت ہوگا؟ کیونکہ ذہانت بذاتِ خود اخلاقی سمت نہیں رکھتی۔ خطرہ اس مقصد سے پیدا ہوتا ہے جو اسے دیا جائے، اس اختیار سے جو اسے سونپا جائے، ان ترغیبات سے جو اس کی سمت طے کریں، اور اس نظام سے جس کے اندر اسے کام کرنے کی آزادی دی جائے۔ خطرہ انسانی لالچ بھی ہو سکتا ہے، مسابقت بھی، جلد بازی بھی، اور کبھی ایسا مقصد بھی جسے مشین انسان کی توقع سے بالکل مختلف طریقے سے پورا کرنے لگے۔ ایک انتہائی ذہین مشین، اگر انسان کی بہترین اقدار پر تعمیر کی جائے، شاید انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ثابت ہو۔ اور وہی مشین، اگر منافع، مسابقت اور جلد بازی کے سائے میں تعمیر کی جائے، شاید اسی انسانیت کے لیے سب سے بڑا امتحان بن جائے۔تاریخ ہمیں کچھ تقابل بھی دیتی ہے، مگر ہر تقابل کی اپنی حدود ہیں۔ جوہری ہتھیار کا تقابل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح ایک ٹیکنالوجی، اپنی ابتدائی شکل میں ہی، پوری نسلِ انسانی کی بقا کو داؤ پر لگا سکتی ہے، اور کس طرح بین الاقوامی برادری کو مجبوراً کوئی نہ کوئی توازن تلاش کرنا پڑتا ہے۔ مگر جوہری ہتھیار ایک محدود، جسمانی، قابلِ نگرانی چیز ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت ایک مسلسل بدلتی، ہر جگہ پھیلی ہوئی، سافٹ ویئر کی صورت میں موجود صلاحیت ہے، جسے کسی ایک جگہ محصور نہیں کیا جا سکتا۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا تقابل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کیسے کوئی ٹیکنالوجی، بغیر کسی جسمانی نقصان کے، معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر سکتی ہے، غلط معلومات پھیلا سکتی ہے، اور انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر سکتی ہے۔ مگر نہ انٹرنیٹ اور نہ سوشل میڈیا نے کبھی انسانی نسل کے خاتمے کا خطرہ پیدا کیا۔ صنعتی انقلاب کا تقابل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کیسے کوئی ٹیکنالوجی پوری معیشت اور سماجی ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتی ہے، مگر یہ تبدیلی دہائیوں پر محیط تھی، نہ کہ چند برسوں پر۔ ان تمام تقابلات میں سب سے مضبوط، سب سے زیادہ برمحل تقابل حیاتیاتی تحقیق کا ہی ہے، کیونکہ یہی وہ میدان ہے جہاں نجات اور تباہی کے درمیان کی لکیر پہلے ہی، بغیر مصنوعی ذہانت کے بھی، انتہائی باریک تھی۔ ویکسین، علاج اور حیاتیاتی خطرات کی تحقیق میں استعمال ہونے والا بنیادی علم اور بعض تکنیکیں ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہو سکتی ہیں کہ جائز اور نقصان دہ استعمال کے درمیان فرق نیت اور اطلاق سے پیدا ہوتا ہے۔ اے آئی اس باریک لکیر کو مزید باریک نہیں کرتی، مگر اسے عبور کرنے کی رفتار کو ضرور تیز کر دیتی ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جو اینتھروپک کی اپنی رپورٹ میں بھی جھلکتا ہے، جہاں کمپنی خود تسلیم کرتی ہے کہ نیت کا تعین کرنا ہمیشہ ممکن نہیں۔مگر یہ سب کچھ اگر صرف خوف کی داستان بن جائے، تو یہ ایک ادھوری اور غیر منصفانہ تصویر ہوگی۔ کیونکہ یہی ذہانت، جو خطرات کا موجب بن سکتی ہے، وہی ذہانت انسانیت کو کچھ ایسے تحفے بھی دے رہی ہے جو چند برس پہلے تک ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ الفا فولڈ نامی نظام نے پروٹین سائنس میں وہ کارنامہ انجام دیا جسے دہائیوں سے سائنسدان حل نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ڈیمس ہسابس اور جان جمپر کو پروٹین ساخت کی پیش گوئی کے اسی کام پر دو ہزار چوبیس کے کیمسٹری کے نوبل انعام کا نصف حصہ دیا گیا، جبکہ باقی نصف ڈیوڈ بیکر کو کمپیوٹیشنل پروٹین ڈیزائن پر ملا۔ ایک تحقیقی ادارے کی اپنی رپورٹ کے مطابق، اس ٹیکنالوجی نے منشیات کی دریافت کے لیے قابلِ استعمال پروٹینز کی تعداد کو دگنا کر دیا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے سرطان کے خلیوں کے پیچیدہ ڈھانچوں کو سمجھنے اور نئی ادویات کی ابتدائی نشاندہی میں غیرمعمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی مصنوعی ذہانت نے معذور افراد کے لیے آواز اور بصارت کی نئی راہیں کھولی ہیں، تعلیم کے میدان میں ہر طالب علم کے لیے انفرادی رہنمائی کو ممکن بنایا ہے، اور بعض سائنسی مسائل میں تحقیق کے ان مراحل کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیا ہے جن کے لیے پہلے کہیں زیادہ وقت اور انسانی محنت درکار ہوتی تھی۔ یہی وہ تضاد ہے جو اس پوری بحث کے قلب میں کھڑا ہے۔ یہی ذہانت انسانیت کو بیماری، جہالت اور محدودیت سے آزاد کر سکتی ہے، اور یہی ذہانت، اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائے، انسانیت کو نئی بیماری، نئے خطرات اور نئی تباہی سے بھی دوچار کر سکتی ہے۔ہم دراصل ایک ایسی آگ کے گرد کھڑے ہیں جس نے صدیوں سے انسان کو سردی سے بچایا ہے، اسے روشنی دی ہے، اسے کھانا پکانا سکھایا ہے، مگر یہی آگ، ذرا سی بے احتیاطی سے، پورے گھر کو بھی جلا سکتی ہے۔ اور اصل سوال کبھی آگ کی طاقت کا نہیں ہوتا، اصل سوال ہمیشہ اس ہاتھ کا ہوتا ہے جو آگ کو تھامے ہوئے ہے، اس نیت کا ہوتا ہے جو اسے جلاتی ہے، اور اس دانائی کا ہوتا ہے جو اسے قابو میں رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی ایسی ہی ایک آگ ہے، جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے روشن کیا ہے، اور جس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہم اسے کس نیت، کس احتیاط اور کس ذمہ داری کے ساتھ سنبھالتے ہیں۔تو کیا دس سال بعد مصنوعی ذہانت انسانیت کو ختم کر دے گی؟ اس سوال کا کوئی سائنسی اور حتمی جواب موجود نہیں؛ اس لیے آج جو بھی یقینی پیش گوئی کی جائے گی، وہ علم سے زیادہ قیاس کے دائرے میں ہوگی۔ دس سال کی یہ مدت کوئی سائنسی طور پر طے شدہ حد نہیں۔ یہ محض چند ماہرین کے ذاتی اندازوں، صلاحیتوں میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت، اور میڈیا کی توجہ سے جنم لینے والا ایک فریم ہے، جسے بار بار دہرائے جانے سے ایک طرح کی حتمیت کا رنگ مل گیا ہے، جو حقیقت میں اس کے پاس نہیں۔ ہاں، یہ ممکن ہے کہ اگلا عشرہ فیصلہ کن ثابت ہو، مگر اس فیصلہ کن ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ کوئی سائنسی گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ برس ہوں گے جن میں انسان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اس نئی، تیزی سے بڑھتی ہوئی ذہانت کے ساتھ قانون کا کیسا رشتہ استوار کرتا ہے، اخلاقیات کا کیا مقام رکھتا ہے، طاقت اور منافع کے درمیان کہاں لکیر کھینچتا ہے، اور ذمہ داری کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہی وہ برس ہوں گے جن میں یہ طے ہوگا کہ آیا ادارے اپنی حفاظتی ٹیمیں مضبوط رکھتے ہیں یا انہیں تجارتی رفتار کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، آیا حکومتیں رضاکارانہ وعدوں سے آگے بڑھ کر پابند قوانین بناتی ہیں یا سیاسی مصلحتوں میں الجھی رہتی ہیں، اور آیا انسانیت اجتماعی طور پر اس بات پر متفق ہو پاتی ہے کہ کچھ خطرات ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی ایک ملک، ایک کمپنی، یا ایک رہنما کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔شاید انسانیت کا حتمی فیصلہ اس بات سے نہیں ہوگا کہ مشین کتنی ذہین بنی۔ شاید فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ جس لمحے انسان نے اپنے سے زیادہ ذہین کوئی چیز تخلیق کرنے کی جرات کی، اسی لمحے وہ اپنی عقل کے ساتھ ساتھ اپنا ضمیر بھی زندہ رکھ سکا یا نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button