Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر بہتر حکمرانی ممکن نہیں: محسن نقوی

لاہور ( آصف اقبال ) یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے زیر اہتمام پاکستان میں اختیارات کی منتقلی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے موضوع پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول سید محسن رضا نقوی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزرا چودھری سالک حسین اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت عون چوہدری، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان سمیت سیاسی، صحافتی، کاروباری اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کہا کہ پاکستان کے 79 سالہ انتظامی نظام کا ازسرِنو جائزہ لینے اور اسے ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ری سیٹ سے مراد کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کو عوامی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ حکومتیں اور پالیسیاں بدلتی رہی ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو مؤثر ڈیلیوری کیوں نہیں مل رہی۔محسن نقوی نے کہا کہ اگر نئے اضلاع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے۔ انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے اور انہیں کوئی فرد، جماعت یا نمائندہ نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے اور 79 سال بعد بھی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کر پانا ایک اہم سوال ہے۔پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے سرپرست اور سابق صوبائی وزیر ابراہیم مراد نے کہا کہ آزادی کے باوجود پاکستان میں نوآبادیاتی طرز کا انتظامی نظام رائج ہے اور ملک کو درپیش مسائل کا حل سیاسی و انتظامی اصلاحات میں ہے۔ شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے اختیارات مقامی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے اور مقامی مسائل کا حل زمینی حقائق کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سول سروس اصلاحات انتظامی بہتری کا اہم حصہ ہیں۔ سرکاری انتظامی ڈھانچے کو موجودہ جمہوری اور انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے جبکہ منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات و ذمہ داریوں کی واضح تقسیم سے حکمرانی مزید مؤثر بنائی جا سکتی ہے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے رول آف لا قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین کی حکمرانی کے بغیر نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو آئین کی حکمرانی تسلیم کرنی چاہیے۔ غیرجانبدار الیکشن کمیشن، انتخابی اصلاحات، صوبائی فنانس کمیشن اور مؤثر بلدیاتی نظام وقت کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے طلبہ یونینز کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نئی سیاسی قیادت سامنے آ سکتی ہے۔ سعد رفیق نے کہا کہ صرف پنجاب کی تقسیم قبول نہیں، پنجاب کے ساتھ دیگر صوبوں کو بھی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر غور ہونا چاہیے۔سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے، تاہم ہر اقدام آئینی و دستوری ڈھانچے کے اندر رہ کر کیا جانا چاہیے۔سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ بری گورننس نئے صوبے بنانے سے نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے سے ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ماضی میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کی حامی رہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے قیام کی قراردادیں بھی منظور کر چکی ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔سینئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے تقریباً 80 برس بعد بھی انسانی ترقی کے حوالے سے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے، آج بھی کروڑوں بچے سکولوں میں داخل نہیں اور لاکھوں بچے غذائی قلت اور نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں معروف قانون دان احسن بھون، سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر، سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود، صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر، ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سیاسی و سماجی شخصیات، ماہرین، اساتذہ اور طلبہ نے بھی شرکت کی اور پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی اصلاحات، نئے صوبوں، بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حوالے سے مختلف آرا پیش کیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button