Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی اور ناصر عباس کی ملاقات، متحدہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق

اسلام آباد ( آصف اقبال )جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس سے ملاقاتیں کیں، جن میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی سمیت اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقاتوں میں اپوزیشن جماعتوں کے باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور پارلیمانی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر متحدہ اپوزیشن تشکیل دیں گی اور آئندہ سیاسی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات اپوزیشن چیمبر میں ہوئی، جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی شریک تھے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وفد میں رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور مولانا کمال الدین شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، چیف وہپ ملک عامر ڈوگر، ارکان قومی اسمبلی عاطف خان، شہرام خان تراکئی، ثناء اللہ مستی خیل اور علی اصغر خان، رکن صوبائی اسمبلی آصف خان محسود اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی بھی موجود تھے۔عمران خان کی صحت پر تشویشملاقات کے دوران بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کو جلد از جلد ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔اپوزیشن قائدین کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے اور انسانی و طبی بنیادوں پر انہیں فوری اور مناسب علاج کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔حکومت کے رویے پر اپوزیشن کا اظہار تشویشملاقات میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کے ساتھ حکومت کے رویے اور طرز عمل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ جمہوری نظام میں اپوزیشن کی آواز کو سنا جاتا ہے، دبایا نہیں جاتا۔ اجلاس میں حکومت کی پالیسیوں، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے کردار اور آئین و جمہوریت کے تحفظ کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مزید رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینے کے امور بھی زیر غور آئے۔متحدہ اپوزیشن بنانے کا فیصلہملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ پہلی بیٹھک ہوئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی نشست تھی، مزید مشاورت بھی ہوگی، تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر اور ایک ساتھ اپوزیشن کریں گی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھایا جائے گا اور مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے معاملے پر بھی بات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ پارلیمنٹ اور سیاسی میدان میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جاسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button