Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

مذاکراتی مسودے پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے، محسن نقوی نے ڈرافٹ مسترد کر دیا

پشاور (آصف اقبال)  خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کا ڈرافٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے کوئی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔
وزیراعلیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبات پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
جاری کیے گئے ڈرافٹ میں وزیراعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں، حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی کا قیام، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو آئین و قانون کے مطابق قانونی، انسانی اور طبی حقوق کی فراہمی اور اہلِ خانہ و وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے سمیت مختلف مطالبات شامل ہیں۔
پی ٹی آئی نے عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگوں اور بیمار قیدیوں کی قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق کارروائی شروع یا مکمل کرنے، سیاسی قیدی خواتین کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان فوری مشاورت اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی، تاہم خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی نے پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جاری کیے گئے مسودے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات گئے تقریباً نصف شب ایک ڈرافٹ گردش میں لایا گیا، بظاہر اس کا مقصد پہلے سے طے شدہ ڈرافٹس کو سبوتاژ کرنا تھا۔
محسن نقوی کے مطابق مذاکراتی ٹیموں نے حکومت کے ساتھ ایک الگ مسودہ حتمی شکل دیا تھا اور دونوں فریق مذاکراتی ٹیموں کے حتمی مسودے پر متفق ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق عمل درآمد پلان بھی باہمی اتفاقِ رائے سے طے کیا گیا تھا۔
یوں مذاکرات کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ اور وفاقی حکومت کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آ گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button