مذاکرات میں ڈیڈلاک، لانگ مارچ کی صورت میں عدالتی احکامات پر من و عن عمل ہوگا محسن نقوی

لاہور (آصف اقبال) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے طرزِ عمل کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کی صورت میں عدالتی احکامات پر من و عن عمل ہوگا اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جبکہ صدر مملکت اور وزیراعظم دونوں تمام معاملات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہیں مذاکرات سمیت موجودہ صورتحال پر مکمل بریفنگ دی گئی ہے اور آئندہ جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، اس پر عمل درآمد ہوگا وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران کسی کی جان گئی تو اس کی ذمہ داری خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ رونما نہیں ہونے دے گی انہوں نے کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، تاہم ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا گیا محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے دوران معاہدے کا مسودہ دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول تھا۔ صدر مملکت سے منظوری کے بعد جب حکومتی وفد واپس آیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے نئی شرائط سامنے آگئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف 12 گھنٹوں کے دوران معاہدے کے ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر فیصلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہی کرنے تھے تو انہیں مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ حکومت کے بنیادی مطالبات دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کے تعاون سے متعلق تھے محسن نقوی نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ ملتوی کیا جائے تاکہ سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکے، جبکہ حکومتی کمیٹی نے تقریباً 12 گھنٹے تک مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو احتجاج سے نہیں روکا، تاہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے لانگ مارچ کے حوالے سے مکمل انتظامات کر رکھے ہیں اور احتجاج کے لیے آنے والے قافلوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی وزیراعلیٰ اپنے صوبے کی ذمہ داری نہیں لیتا تو اسے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے، اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔محسن نقوی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ نہیں ہونے دے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔



