Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

ایران جنگ میں امریکی اڈے کے استعمال پر ہنگامہ، پرتگال نے قانونی تحقیقات شروع کردیں

پرتگال کے پراسیکیوٹرز نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کو لجز ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کی قانونی حیثیت کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔یہ تحقیقات اپوزیشن جماعت لیفٹ بلاک کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کے بعد شروع ہوئی ہیں۔لجز ایئربیس پرتگال کے خودمختار جزائرِ آزورز میں واقع ہے اور امریکا طویل عرصے سے اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان 1951 کے دفاعی معاہدے کے تحت امریکا کو معمول کے امن کے دوران پرتگال کی پیشگی اجازت کے بغیر اس اڈے کو استعمال کرنے کی اجازت ہے، تاہم جنگ یا مسلح تنازع شروع ہونے کی صورت میں پرتگال کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔پرتگال نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکا کی متعدد ٹرانزٹ پروازوں کو لجز ایئربیس سے گزرنے کی اجازت دی، جبکہ پڑوسی ملک اسپین نے اس نوعیت کی امریکی درخواستوں کو قبول نہیں کیا۔ پرتگال کے اس فیصلے پر ملک کی بائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کی اور حکومت کے کردار پر سیاسی بحث شروع ہوگئی۔ لیفٹ بلاک نے اپریل میں پراسیکیوٹرز سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکی فوج کو اڈے کے استعمال کی اجازت دینا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔دوسری جانب پرتگال کے وزیر خارجہ پاؤلو رینجل کا کہنا ہے کہ ملک اس جنگ میں فریق نہیں تھا اور لجز ایئربیس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے مطابق تھا۔ ان کے مطابق امریکا نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کی کارروائیاں دفاعی، ضروری اور متناسب ہوں گی اور صرف فوجی اہداف تک محدود رہیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button