مکہ معاہدہ امن و اتحاد کی ضمانت ہے، تمام اسلامی ممالک کو شامل کریں گے اشرفی

لاہور: ( آصف اقبال )پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ دفاعی معاہدہ دراصل امن اور مسلم امہ کی وحدت و اتحاد کا معاہدہ ہے، کوشش ہوگی کہ تمام اسلامی ممالک اس میں شامل ہوں۔ اگر نیٹو اور یورپی یونین متحد ہو سکتے ہیں تو اسلامی دنیا بھی متحد کیوں نہیں ہو سکتی۔
ماڈل ٹاؤن لاہور میں متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مکہ مکرمہ معاہدے کے دروازے تمام اسلامی ممالک کے لیے کھلے ہیں اور اسے آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ مسلم امہ متحد ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے اور اسرائیل کو ناکام بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام بنایا ہے، ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ تمام اسلامی ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہوں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ملک میں مدارس کے 15 تعلیمی بورڈز ہیں، جو مدارس پرانے نظام کے تحت چلنا چاہتے ہیں وہ اپنی مرضی سے ایسا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 22 ہزار مدارس کی رجسٹریشن چیریٹی کمیشن کے ذریعے کی جائے تاکہ ایک نیا اور پیچیدہ نظام شروع کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مسئلہ حل ہونا چاہیے جبکہ بیرون ملک سے آنے والے طلبہ کے لیے بھی سہولیات پیدا کی جانی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک صوبوں میں مدارس کی رجسٹریشن کا مؤثر میکانزم نہیں بن سکا۔ مرکز میں رجسٹریشن کا نظام موجود ہے تاہم پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس حوالے سے قانون سازی ہونا باقی ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے مدارس کو قومی تعلیم اور ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا عمل تحقیق اور شفافیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر کسی مدرسے کے بارے میں یہ ثابت ہو کہ وہاں دہشت گردی یا انتہا پسندی کی تربیت دی جا رہی ہے تو ایسے مدرسے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہوتے، مذاکرات کا راستہ ہی بہترین راستہ ہے۔ ملک کی مذہبی قوتیں ہوں یا سیاسی قوتیں، سب کو مل بیٹھ کر قومی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے ساتھ ان کے بینک اکاؤنٹس اور قانونی و انتظامی معاملات بھی حل کیے جائیں تاکہ دینی تعلیمی ادارے شفاف انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔



