بلی تھیلے سے باہر!

پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت کے وزیرِ داخلہ، محسن نقوی کے اس بیان نے ، کہ بقول ان کے موجودہ ریاستی نظام ڈھے چکا ہے۔ ان کے مقبوضہ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے!جرنیلوں کی کٹھ پتلی حکومت ، جسے آٹھ فروری 2024ء کے عام انتخابات کا نتیجہ راتوں رات تبدیل کرکے اور پاکستان کے عوام نے ان انتخابات میں بڑی واضح اکثریت سے عمران خان اور ان کی تحریکِ انصاف کے حق میں جو ووٹ دیا تھا اسے رد کرکے، جو نظام جرنیلوں کے مقبوضہ پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے، محسن نقوی اس کا ایک انتہائی رکن گردانا جاتا ہے !محسن نقوی کو پاکستان کے عوامی حلقے بالکل نہیں جانتے تھے لیکن چونکہ عسکری طالع آزما اور آمرِ وقت عاصم منیر کا یہ محسن نقوی کلیدی گماشتہ ہے اور برادرِ نسبتی بھی ہے، لہٰذا یہ کلیدی گماشتہ عمران کے زوال کے بعد سے پاکستان کے سیاسی افق پر چمکتا رہا ہے، اگرچہ پاکستان کا یہ سیاسی افق ، تمام کا تمام اندھیروں سے عبارت ہے!اب اس گماشتہ کا اچانک یہ کہنا کہ وہ نظام جس کا یہ خود دوسرا اہم ترین ستون ہے ڈھے چکا ہے ہر ذی شعور کے ذہن میں اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ میاں، جس نظام میں تم اب کیڑے نکال رہے ہو اور یہ کہہ رہے ہو کہ یہ نظام ملک کو کچھ نہیں دے سکتا تو اس ناکامی کا ذمہ دار کون ہے ؟تو منطقی جواب یہی ہوسکتا ہے کہ اس گلے سڑے نظام کو پاکستان پر اور پاکستانیوں پر مسلط کرنے کا گھناؤنا کھیل تو تم نے اور تمہارے بد مست سرپرست آمر عاصم منیر نے ہی کھیلا تھا !اب واویلا کیوں کرتے ہو جبکہ بغضِ عمران میں تم نے جو گناہ کیا تھا وہ اب تمہارے گلے پڑ رہا ہے۔ بقولِ شاعر اب ہاتھ ملنے سے کیا فائدہ
پہلے سے نہ سوچا تھا انجام محبت کا
اب ہوش میں آئے ہو جب سر پہ قضا آئی!
اور اس سے بھی زیادہ منطقی بلکہ چبھتا ہوا سوال یہ ہے اگر یہ نظام گل سڑ چکا ہے اور اس کا ایوان بقول تمہارے ڈھے چکا ہے تو میاں اس نظام سے چمٹے ہوئے کیوں ہو؟غیرت اور حیا ہے تو اس گرتی ہوئی دیوار سے دور ہوجاؤ۔ اس گلے سڑے نظام سے استعفیٰ دے دو۔ چھوڑ دو پاکستان کی جان کو۔ اسے اپنے چنگل سے آزاد کردو !لیکن غیرت ہوتی تو ایسا کام ہی کیوں کرتے جس کا انجام شروع سے ہی خراب نظر آرہا تھا !پھر، یک نہ شد دو شد والی بات۔ محسن نقوی ان سیاستدانوں کو الزام دے رہا ہے جسے اس کے سرپرست عاصم منیر نے قوم کی گردن پر سوار کیا ہے!چوروں کے دو کنبے ہیں، ایک نام کے شریف جو ملک کے سب سے بڑے صوبے، پنجاب، سے آسیب کی طرح چالیس پچاس سال سے چمٹے ہوئے ہیں اور دوسرا خاندان وہ بھٹو- زرداری وڈیروں کا گروہ ہے جو سندھ پر مسلط ہے اور اس صوبے، خصوصا” ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا خون چوس رہا ہے۔یہ دونوں خاندان ، جو چوروں اور ڈکیتوں کی منڈلیاں ہیں بجائے سیاسی کنبہ ہونے کے، کس کی پیداوار ہیں؟ کس کی پسند ہیں؟ کس کے لاڈلے ہیں؟پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ان دونوں کو لانے والے وہ آمریت کے دلدادہ عسکری طالع آزما ہیں جو پاکستان کی بربادی اور تباہی کےاصل ذمہ دار ہیں۔ یہ چور کنبے جن کا دھندا ملک کو لوٹنا اور لوٹے ہوئے مال سے باہر کے ملکوں میں پناہ لینا اور جائیدادیں بنانا رہا ہے، سیاست کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے میں طاق ہیں اور ان کی لغت میں سیاست ایک وسیلہ ہے اپنی تجارت کے فروغ کا! تو محسن نقوی کا اپنے ہی سیاسی شعبدہ بازوں کو موردِ الزام ٹہرانا مضحکہ خیز ہے۔ کوئی عاصم منیر کے اس گماشتہ کو سمجھائے کہ میاں، کوئلوں کی دلالی میں تو منہ کالا ہی ہوتا ہے۔ کیوں ایسے نالائق فطرتاًچور سیاست دانوں کو مسندِ اقتدار پہ بٹھایا تھا جن کی نا اہلی کی تاریخ قوم کو اچھی طرح سے ازبر ہے!لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چوروں کو زمامِ کار سونپنے والے جرنیل اور طالع آزما خود بھی تو چور ہیں۔ جرنیلوں کے مشاغل بھی اپنے کاروبار اور تجارت کو چمکانے کے ہیں ورنہ یہ نہ ہوتا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ پاکستان کے بنئیے جرنیل مختلف انواع و اقسام کے اسی سے زیادہ کاروبار چلا رہے ہیں۔ ڈیری فارم سے لیکر بنکوں تک اور کھانے پکانے کا تیل جیسی صنعت سے اسٹیل ملز تک ہر طرح کے کاروبار میں جرنیل مافیا ہی ملوث ہے اور یہ مافیا ملک کو لوٹ کرکھارہی ہے!اب یہ تو اہل ہنر و دانش بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ ایک طرح کے پرندے ہمیشہ ایک ہی فضا میں پرواز کرتے ہیں۔ انگریزی میں ایک کہاوت ہے کہ’’برڈز آف اے فیدر فلائی ٹو گھیدر‘‘ اور فارسی کا مقولہ ہے ’’کند ہم جنس باہم پروازکبوتر با کبوتر باز بہ باز‘‘
لیکن اپنے کٹھ پتلی سیاستدانوں کو دشنام دینے میں بھی ایک رمز ہے جو محسن نقوی نے جو کچھ کہا اس کے بین السطور پڑھا جاسکتا ہے!عاصم منیر کے دستِ راست کے اس بقول شخصے تہلکہ خیز بیان کے ساتھ ساتھ پاکستان کےصوبے بنائے جانے کی شکل دکھائی دے رہی ہے!ٹھیک ہے یہ استدلال کہ پاکستان جب ٹوٹا تھا، جرنیلوں کی آمریت اور جمہوریت دشمنی کے ہاتھوں، تو اس وقت پاکستان کی آبادی چھ سات کڑوڑ تھی جو آج پچیس کڑوڑ ہوچکی ہے لیکن صوبے وہی چار کے چار ہیں۔ہم تو برسوں سے یہ کہتے اور مطالبہ کرتے رہے ہیں، اپنی تحریروں میں، کہ پاکستان کے اتنے صوبے ہونے چاہئیں جہاں عوام کو اپنے کاموں کیلئے زیادہ دور نہ جانا پڑے۔ میں جب ترکی میں پاکستان کا سفیر تھا تو میں نے حکومت کو بتایا تھا کہ ترکی، جو رقبے میں پاکستان سے چھوٹا ہے لیکن اس میں اکیاسی (81) صوبے ہیں اور حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بھی پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کے متعلق سوچے۔ ظاہر کہ ایک سفیر کی حیثیت میں میں مشورہ ہی دے سکتا تھا اس پر عمل کرنا حکومت کا کام تھا لیکن حکومتِ وقت کو اس مشورہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی اس حکومت کا تختہ الٹ کے اقتدار پہ قبضہ کرنے والے عسکری آمر پرویز مشرف کو اس تجویز میں کوئی قابل قبول بات نظر آئی تھی!عاصم منیر پرویز مشرف کے مقابلے میں کہیں زیادہ گھاگ ہے۔ مشرف کے مشاغل اور تھے۔ وہ شراب و شباب کا دلدادہ تھا اور اقتدار ان مشاغل کیلئے راستہ ہموار کرنے کا وسیلہ تھا!لیکن عاصم منیر کی ہوسِ اقتدار پرویز مشرف سے کئی ہاتھ آگے ہے!یہ غاصب ہے اور اس کا پاکستان میں عروج منافقت اور بے ایمانی کی ایک داستان ہے!اس کے کردار کی منافقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے گذشتہ برس کی بھارت کے ساتھ ان جھڑپوں کو، جن میں کامیابی کا سہرا تمام تر ہماری فضائیہ کے نوجوان پائلٹوں کا تھا، جواز بنا کر اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دے دی!اس کے بعد اس نے اپنے آپ کو تاحیات کسی بھی مواخذہ یا حساب دہی سے استثنیٰ دے دیا اور منافقت کی ہر حد پار کرتے ہوئے اس ڈکیت زرداری کو بھی اس استثنیٰ سے سرفراز کروادیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ تنہا عسکری طالع آزما کو یہ شرف حاصل ہوا ہے !اب اس نے اپنے گماشتہ سے جو نظام کی ناپائیداری کا واویلا مچوایا ہے اس میں بھی منافقت کا زہر ملا ہوا ہے۔ نظام کی ناکامی کو بہانہ بناکر اب یہ پاکستان پر وہی صدارتی نظام مسلط کرنا چاہ رہا ہے جو ایوب کے دور میں رائج تھا اور جس نے ملک کے دولخت ہونے کی داغ بیل ڈالی تھی!سو پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز عاصم منیر کی بساطِ طالع آزمائی پر پہلی چال ہے۔ اس عسکری آمر کا اصل ہدف پاکستان کی صدارت پر قبضہ کرنا ہے اور صدارت بھی ایسی ویسی نہیں بلکہ تاحیات!پاکستان کی تاریخ ان عسکری طالع آزماؤں کی غیر آئینی چالوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے اپنی ہوسِ اقتدار کو پورا کرنے کیلئے اور اپنے مفاد کے فروغ کیلئے ملک کے آئین کو بار بار اپنے بوٹوں تلے روندا ہے!پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی سیاستداں نے آئین کو نہیں توڑا۔ توڑا ہے تو صرف اور صرف عسکری آمروں نے لیکن ہر بار جب آئی ایس پی آرکا ترجمان اپنے مقبوضہ ابلاغِ عامہ، یا سادہ زبان میں صحافیوں کے سامنے آکر ملک کی سیاسی صورتِ حال پر بھاشن دیتا ہے تو تمام الزام سیاستدانوں کے سر تھوپنے کا ڈول ڈالتا ہے!ظاہر ہے کہ عسکری طالع آزماؤں کے پسندیدہ سیاستدان وہی دو چور خاندان ہیں جن میں اب آزاد جموں اور کشمیر کے جاری عام انتخابات کے حوالے سے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے!بزرگوں کا قولِ معروف ہے کہ ساجھے کی ہنڈیا تو بیچ بازار پھوٹتی ہے اور نواز لیگ اور زرداری کی غلام پیپلز پارٹی جس طرح ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگارہی ہے اس سے عمران خان کے اس بیان کو تقویت مل رہی ہے جو اس نے بہت پہلے ان پارٹیوں کے بارے میں دیا تھا ۔ عمران نے قوم کو آگاہ کیا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو سرِ عام گالیاں دیتے ہیں لیکن عمران کو زک پہنچانے کا کوئی موقع یہ ہاتھ سے جانے نہیں دینگے اور اس کے بغض میں یہ اکٹھے ہوجائینگے !تو عمران کی پیشنگوئی اب جو جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے ان دونوں چور جماعتوں کے بیچ وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہورہی ہے!لیکن عاصم منیرجو نیا ڈول ڈال رہا ہے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پاکستان کی وحدانیت اور بقا کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے!لیکن عسکری طالع آزما نہ ماضی میں ملک و قوم کے مفاد کو اپنے مفاد سے عزیز تر جانتے تھے نہ عاصم منیر کو یہ فکر لاحق ہے۔ قوم کی محبت میں تو عمران مبتلا ہے اور اس کی بھاری قیمت وہ اپنی قید و بند کی صعوبتوں سے ادا کر رہا ہے اور نہ جانے کب تک یہ قیمت چکاتا رہے گا!عاصم منیر کی خوش فہمی یہ ہے کہ جب تک اس کے سر پر نارنجی گرو گھنٹال کا دستِ شفقت ہے اس کا دنیا میں کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ سو وہ اپنے آپ کو پاکستان کے آئین سے بہت بالاتر سمجھتے ہوئے اپنے اقتدار کے دوام کیلئے خود کو مکمل طور پہ آزاد گردانتا ہے! جب تک ٹرمپ کی غلامی کا شرف اسے حاصل ہے وہ ہر مواخذہ سے اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھتا ہے اور یہی سوچ پاکستان کے مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے!سو ہمارا یہ قطعہ پڑھئے اور سوچئے کہ یہ ہوس کا غلام عسکری آمر ہمیں کس تباہی کی سمت لئے جارہا ہے:
شاہ کی مصاحبی میں جو عزت گنوائی ہے
ادراک اس کا کچھ نہیں غاصب لعین کو
ایمان اس کا شاہ کی کلمہ گذاری ہے
یہ بندگیٔ اساس ہے اس کے یقین کو !



