لاحاصل جنگ!

اگر امریکہ اور ایران کے درمیان100روزہ جنگ کے نتائج ،فوائد ا ور نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو تاریخ اور معاصر بین الاقوامی تعلقات کے اصول یہ بتاتے ہیں کہ اتنی طویل جنگ میں کوئی بھی فریق حقیقی فاتح بن کر نہیں اُبھرتا۔امریکہ بلا شبہ دُنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے ساتھ کسی ایسی ہمہ گیر جنگ کی صورت میں امریکہ اپنے عالمی وقار، اثر و رسوخ اور ساکھ کو برقرار رکھ سکے گا؟100 روزہ اس لاحاصل جنگ سے ایک طویل الجھاؤ، اتحادیوں کے تحفظ میں ناکامی اور عالمی سطح پر اٹھنے والی مخالفت کے باعث امریکہ کے عالمی وقار اور قیادت کے تاثر کو شدید نقصان پہنچنے کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔اگر امریکہ اچانک پیچھے ہٹ جاتا ہے تو اس کے اتحادی اور مخالفین یہ تاثر لے سکتے کہ وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکا۔ اس لئے وہ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جسے اپنی سفارتی یا عسکری کامیابی کے طور پر پیش کر سکے۔ اور دوسری طرف ایران شاید اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ موجودہ حالات میں فوری اور مکمل فوجی فتح حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ ایسی حکمتِ عملی اپنانا چاہتا ہے جس میں مخالف فریق پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جائے۔موجودہ حالات میں ایک طویل جنگ بندی ایران کو کمزور پوزیشن میں چھوڑ سکتی ہے۔اس وقت اس کا یقینی جواب کسی کے پاس نہیں ہے، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے دو امکانات ہوسکتےہیں۔
ایک تو یہ جنگ محدودرہ کر مذاکرات کی طرف جا سکتی ہے ، امریکہ اور ایران دونوں کو طویل جنگ کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنی پڑے گی ،معاشی نقصان، فوجی اخراجات اور علاقائی عدم استحکام، اسی وجہ سے مختلف ممالک ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض مواقع پر مذاکرات کی بات سامنے بھی آئی ہےلیکن کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور بات وہیں روکی رہی۔ایسے میں سوال پیدا ہوگا کہ آخر امریکہ کوایران پر حملہ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟حالیہ اطلاعات یہ بھی بتاتی ہیں کہ جنگ روکنے یا مذاکرات شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن دونوں فریقوں کے بیانات میں اختلاف برقرار ہے۔امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی اہم وجوہات ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں سیاسی اثر و رسوخ اور سلامتی کے مسائل ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے ایران کے بعض جوہری مراکز پر حملہ کیا۔امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنا اور اپنے اتحادی ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ دوسری طرف ایران نے اس حملے کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد، توانائی اور سائنسی تحقیق کےلئے ہے۔ ایران نے امریکی کاروائیوں کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔اس واقعے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ کئی ممالک اور اقوامِ متحدہ نے دونوں فریقوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔
اگر حملے اور جوابی حملے جاری رہے تو جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر خلیج، آبنائے ہرمز یا خطے کے دوسرے ممالک براہِ راست اس میں شامل ہو جائیں تو تنازع ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ حالیہ تجزیئے بھی اسی خطرے کی نشاندہی کررہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ دونوں امکانات موجود ہیں۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ نہ امریکہ اور نہ ہی ایران ایک طویل، کھلی جنگ کے خواہاں ہیں لیکن غلط اندازوں، جوابی حملوں یا کسی بڑے واقعے کی وجہ سے جنگ غیر ارادی طور پر پھیل بھی سکتی ہے۔ موجودہ شواہد کی بنیاد پر زیادہ محتاط اندازہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ امریکہ جیت چکا ہے، قبل از وقت ہےیایہ کہنا کہ امریکہ ہار چکا ہے، یہ بھی قبل از وقت ہے۔جنگ کا حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا امریکہ اپنے بنیادی سیاسی اور عسکری اہداف حاصل کر پاتا ہے، اور ایران اپنی اہم دفاعی اور سیاسی پوزیشن برقرار رکھتا ہے یا نہیں۔ لیکن ابھی دونوں دعوؤں کی قطعی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔موجودہ صورتحال زیادہ پیچیدہ ہےامریکہ نے بعض فوجی اہداف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کچھ تجزیوں کے مطابق اسے میدان میں کچھ اہم کامیابیاں بھی ملی ہیں۔دوسری طرف جنگ طویل ہونے، امریکہ کا فوجی جانی نقصان، سیاسی دباؤ، اور اپنے تمام مقاصد حاصل نہ کر پانے کی وجہ سے بعض تجزیہ کار اسے امریکہ کے لئے مشکل اور مہنگا تنازع قرار دے رہے ہیں۔
اگر یہ جنگ تاریخ کی کتابوں میں لکھی جائے گی تو غالب امکان ہے کہ اسے کسی ایک فریق کی مکمل فتح کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے تنازع کے طور پر بیان کیا جائے گا جس نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کو شدیدمتاثر کیا۔ممکن ہے مؤرخین یہ لکھیں کہ امریکہ نے اپنی فوجی برتری کا مظاہرہ کیا لیکن صرف فوجی طاقت سے اپنے تمام سیاسی مقاصد حاصل کرنا مشکل ثابت ہوا۔ایران نے شدید دباؤ کے باوجود مزاحمت جاری رکھی اور غیر روایتی حکمتِ عملی کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر لاگت بڑھائی۔اس جنگ نے عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی سپلائی، بحری تجارت اور خطے کے توازن پر نمایاں اثرات ڈالے۔اگر جنگ کا اختتام مذاکرات یا کسی سمجھوتے پر ہوتا ہے تو تاریخ اسے اس مثال کے طور پر بھی لکھ سکتی ہے کہ شدید عسکری تصادم کے باوجود بالآخر سفارت کاری ناگزیر بن گئی۔ بہت سے تجزیہ کار اسی امکان کو زیادہ قابلِ تصور قرار دیتے ہیں۔اس وقت چونکہ تنازع جاری ہے، اس لئے یہ کہنا کہ تاریخ یقینی طور پر کیا لکھے گی ممکن نہیں۔
اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے، تو اس کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کئے جا ئینگے۔ تاہم یہ مختلف شدت کے منظرناموں پر منحصر ہوگا۔ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل مزید متاثر ہوئی تو تیل اور گیس کی عالمی قیمتیں مزیدبڑھ سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اورضروری اشیاءمہنگی ہو سکتی ہیں۔ توانائی کی بلند قیمتیں، مہنگائی، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاری میں کمی عالمی معاشی نمو کو سست کر سکتی ہیں اور بعض تجزیوں کے مطابق کساد بازاری کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔عراق، شام، لبنان، خلیجی ممالک یا بحری راستوں پر مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے تنازع زیادہ ممالک تک پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ خلیج میں اپنے فوجیوں، اتحادی ممالک اور اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کی سلامتی کو اہم سمجھتا ہے۔ جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ ان مفادات کو خطرہ کم ہو گیا ہے، مکمل انخلاء مشکل ہو گا،امریکہ اسے اپنی قومی سلامتی کے لئےضروری اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ ایران اسے غیر قانونی حملہ سمجھتا ہے۔ اس لئے ایسے تنازعات کا بہترین حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے، تاکہ دنیا میں امن اور استحکام برقرار رہ سکے۔
اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ وسیع جنگ لازمی نتیجہ نہیں ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں اور جنگ کو محدود رکھنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔لہٰذا سب سے زیادہ امکان اس بات کا سمجھا جاتا ہے کہ دونوں فریق اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ایسی صورت حال سے بچنے کی کوشش کریں جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو جائے!!!!



