پاکستان فٹ بال میں کیسے نام کمائے؟

دوستوں۔ کل شام امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں فیفا کے تحت ہونے والے فٹ بال کے مقابلے کا فیصلہ ہو گیا اور سپین کی ٹیم نے ارجنٹینا کی ٹیم کو ایک گول سے ہرا کر ورلڈ کپ جیت لیا۔ تیسرے نمبر پر انگلینڈ کی ٹیم آئی۔جیتنے والی ٹیم کو کپ کے علاوہ ،پچاس ملین ڈالر کا انعام بھی ملے گا۔مسلمان ممالک میں سپین کی جیت کو سراہا گیا۔ یاد رہے کہ سپین نے غزہ میں ہونے والے مظالم پر عزرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے تھے۔ جس سے مسلمانوں میں اس کا وقار بلند ہو گیا تھا۔یہ نہیں تھا کہ ارجنٹینا کی ٹیم سے مسلمانوں کو کوئی عداوت تھی۔ارجینٹینا کے ٹیم نے جان لڑا دی تھی اور میچ کے اختتام تک کوئی گول نہیں ہونے دیا تھا۔ اعداد و شمار کی روشنی میں ، اس سے پہلے، برازیل نے ۵ دفعہ جرمنی اور اٹلی نے ۴ دفعہ،ارجینٹینا نے ۳ دفعہ، فرانس اور،اوروگیا نے ۲ دفعہ، انگلینڈ اور سپین نے ایک دفعہ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سپین نے اس سے پہلے 2010میںورلڈ کپ جیتا تھا۔فیڈیریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن(FIFA) 21مئی 1904میں پیرس میںقائم کی گئی۔ اس میں بیلجئیم، ڈنمارک، فرانس، نیدر لینڈ، سپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے نمائندے شامل تھے۔اس کا مقصد اعلیٰ تھا کہ ایک مشترک قواعد اور ضابطوں کو بنایا جائے جن سے بین الاقوامی فٹ بال کو منظم کیا جا سکے۔1930 میں پہلا ورلڈ کپ کھیلا گیا جس میں فائنل میچ میں اوروگیا نے ارجنٹینا کو2کے مقابلہ میں چار گول سے شکست دی۔1974میں فیفا نے موجودہ ٹرافی پیش کی ۔ برازیل نے اس سے پہلے کی ٹرافی تین دفعہ لگاتار میچ جیت کر ہمیشہ کے لیے رکھ لی تھی۔ 1991میں عورتوں کی فیفاکے ورلڈ کپ کاپہلا میچ چین میں کھیلا گیا۔ آج فیفا کی 211 رکن ایسوسی ایشنز ہیں، اس طرح یہ دنیا کا سب سے بڑے کھیلوں کے اداروں میں سے ایک بن گیا ہےفٹ بال ایک نہایت کم قیمت کے ساز و سامان کے ساتھ کھیلا جانے والا کھیل ہے، لیکن حیرت ہے کہ جنوبی امریکہ سے باہر دنیا کی سب سے بڑی آبادیوں والے ممالک میںاتنا کامیاب نہیں۔ ملاحظہ کریں کہ چین، بھارت، پاکستان، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، وغیرہ سے کوئی بھی فٹ بال کا ورلڈ کپ نہیں جیت سکا۔ ان کی ٹیمیں ایسی سطح تک پہنچ ہی نہیں سکیں کہ جیت کے امکانات ہوں۔محض آبادی کا زیادہ ہونا کافی نہیں۔ برازیل اور ارجنٹینا میں بچے گلیوں، ساحل سمند، سکولوں اور محلوں میں فٹ بال کھیلتے ہیںجب وہ ابھی پانچ سال کی عمر میں ہوتے ہیں۔فٹ بال ان کی زندگی کا لازم و ملزوم حصہ ہے۔اس کے مقابلہ میں بھارت اور چین میں دوسرے کھیل اورمصروفیات توجہ لیتی ہیں۔ بھارت اور پاکستان میں کرکٹ زیادہ پسند کی جاتی ہے۔جو ملک ورلڈ کپ جیتتے ہیں، وہ نوجوانوں کی اکیڈیمیزکی مدد کرتے ہیں۔ لائسنسڈ کوچ، مقامی لیگس، اچھا کھیلنے والوںکی تلاش اور کھیلوں کی سائنس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جیسے جرمنی نے سن 2000میں اپنے نوجوانوں کی تنظیم کاری کی جس کی وجہ سے 2014کا ورلڈ کپ جیتا۔مضبوط مقامی لیگیں عمدہ کھلاڑی بناتی ہیں۔انکی کئی مثالیں ہیں۔ کامیاب قوموںمیں ہزاروں فٹ بال کے میدان ہیں۔ پیشہ ور اکیڈیمیز ہیں۔ سند یافتہ استاد ہیں۔میڈیکل اور فٹنس سہولتیں ہیں۔ اور نوجوانوں کے ٹورنامنٹ کروائے جاتے ہیں۔اس قسم کے ڈھانچے کا تعلق آبادی کے بڑ ے یاچھوٹے ہونے سے نہیں ہوتا۔ عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے، منظم فٹ بال فیڈیریشن کا ہونا لازمی ہے۔ جس کی تنظیم مضبوط ہو، شفاف انتظامیہ ہو، اور ان کے طویل المدت منصوبے ہوں ۔ یہ کامیاب ٹیموں کی نشانیاں ہیں۔بہت سے بڑی آبادی والے ملکوں میںاہل بچوں کو، غربت، محدود ذرائع اور ناکافی شناختی کوشیشوں کی وجہ سے کبھی پیشہ ورانہ تربیت نصیب نہیں ہوتی۔اگر آبادی اور فٹ بال کے ورلڈ کپ کا موازنہ کرنا ہو تو ملاحظہ فرمائیں۔بھارت اور چین جن کی آبادی 4.1بلین ہے، یو ایس اے جس کی آبادی 340ملین ہے، انہوں نے ایک دفعہ بھی ورلڈ کپ نہیں جیتا۔ اس کے مقابلہ میں برازیل جس کی آبادی 215ملین ہے اس نے5 دفعہ ورلڈ کپ جیتا۔اورو گیا جس کی آبادی صرف 5.3 ملین تھی اس نے دو دفعہ ورلڈ کپ جیتا۔پاکستان کی 250ملین کی آبادی ہے اور ۔۔۔اس بحث کا لب لباب یہ ہے کہ فٹ بال میں کامیابی کا تعلق جن عوامل سے ہے وہ ہیں: فٹبال کا کلچر ہونا۔ کوچز کی قابلیت۔ نوجوانوں کے لیے مواقع۔مضبوط مقامی لیگ۔ موثر انتظامیہ۔مسلسل اور پایئدار سرمایہ کاری۔اور اونچی سطح پر کھیلنے کا تجربہ۔یا کہیے کہ آبادی موقع مہیا کرتی ہے ، اور فٹبال کا ماحول اس کو کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔ہمارے ذہن میں سوال اٹھا کہ فیفا ان ورلڈ کپ کے مقابلوں سے بہت پیسہ بناتی ہو گی تو پتہ چلا کہ فیفہ ایک رضار ادارہ ہے اور منافع میں دلچسپی نہیں لیتی۔اس کو بلینز آف ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے، لیکن اس کے ضوابط کے مطابق وہ منافع فٹ بال کی بہتری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی آمدنی کے ذرائع میں 36فیصد عالمی سپانسرڈ اور کمرشل پارٹنرز ہیں۔15فیصد مہمان نوازی اور ٹکٹ کی فروخت، 4فیصد لائسنسنگ اور فیفا کے نام پر بنائی ہوئی اشیا سے۔اس دفعہ فیفا کو3بلین ڈالر کی آمدنی کی توقع ہے۔ گذشتہ مقابلوں کی نسبت 32کے بجائے 48 ٹیموں نے حصہ لیا۔ اور 64کے بجائے 104میچ کروائے گئے۔ فیفا اپنی آمدن میں سے 211 فٹ بال ایسو سی ایشننز کو گرانٹس دیتی ہے۔ ان کے علاوہ چھ بڑی تنظیمیں ہیں۔جو فٹبال تنظیمیں حصہ لیتی ہیں ان کو بھی انعامی رقومات دی جاتی ہیں۔
قارئین۔ یہ کتنا افسوس کا مقام ہے کہ جو ملک فیفا کو بین الاقوامی معیار کے فٹ بال بنا کر دیتا ہے اس ملک کے بچے فیفا کے میچز میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہیں۔کیونکہ وہ ملک میں بچوں کو وہ سہولتیں نہیں دیتے جن سے وہ بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی بن سکیں۔پاکستان شروع میں ایسا نہیں تھا۔فٹ بال کئی علاقوں میں بہت مقبول عام کھیل تھا۔ اور اس نے، بہت سرمایہ کی کمی کے باوجود کئی پائے کے کھلاڑی بھی پیدا کیے۔1947 میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔اور اس کے اگلے سال پاکستان فیفا کر رکن بن گیا۔1954میں پاکستان ایشین فٹبال کنفیڈریشن کا رکن بنا۔فٹبال کو ہاکی کے ساتھ ایک قومی کھیل کے لیا گیا۔پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کو فٹبال کا قوی ترین دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں پاکستانی ٹیموں نے علاقائی ٹیموں می نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ایران، ترکی اور مشرق وسطیٰ میں مقابلے کے میچ کھیلے۔ جنوبی ایشیا میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔اور اس کی ٹیم کو جنوبی ایشیا میں نمایاں مقام حاصل تھا۔عبدالغفور ماجنا، محمد شریف اور غلام عباس اس کے نامور کھلاڑی تھے۔اکثر کھلاڑی فوج اور دوسرے اداروں سے آتے تھے۔پاکستان کے کھلاڑی ادارہ جاتی تھے بمعہ قبلہ آزاد کلبوں کے۔جیسے فوجی ادارے، واپڈا، خان ریسرچ لیبارٹری، نیشنل بینک آف پاکستان وغیرہ۔جہاں اس کے فائدے تھے وہان اس کے نقصان بھی کیونکہ اس سے کمیونٹی کلب کا تا ثر نہیں بڑھا، شائقین کے ساتھ کم رابطہ، اور نو جوانوں کی اکیڈیمیز کم تھی اور کاروباری سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی۔فٹ بال کے گڑھ تھیـ لیاری (کراچی)، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے کچھ بڑے شہر۔ لیکن فٹ بال پاکستان میں جڑیں نہیں پکڑ سکا۔اس کی سب سے بڑی وجہ کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت۔ 1992 میں جب پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تو کرکٹ کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی۔پاکستان فٹبال فیڈیریشن میں اکثر بے ضابطگیاں ہوئیں اور اسے کئی دفعہ فیفا سے معطل کیا گیا۔اسکے علاوہ کرکٹ کے مقابلے میںکھیلنے کے میدان بھی کم تھے۔نوجوانوں کے ادارے بھی کم، لائسنسڈ کوچز بھی کم ، اور کھیلوں کی سائینس سے امداد کی کمی۔پاکستان نسبتاً بڑے بین الاقوامی میچز سے باہر رہا۔جس سے کھلاڑیوں کو بڑے مقابلوں میں کھیلنے کے مواقع کم ملے۔سن 2020 سے فیفا نے انتظامیہ میں اصلاحات کے بعد پاکستان سے بندشیں ہٹا لیں۔پاکستان کی پریمیر لیگ بحالی کی طرف ایک قدم تھا۔ جوانوں اور خواتین کی فٹبال میں شمولیت بڑھی۔بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔ آخر میں، مردوں کی فٹبال ٹیم ابھی بھی ایشیا کی بڑی ٹیموں میں بہت پیچھے ہے۔لیکن آثار ہیں کہ اس میں بہتری آ رہی ہے۔فٹبال کی مقبولیت کا راز اس کا سستا ہونا ہے۔ پاکستانی دوسرے ملکوں میں اس کھیل کے مقابلے شوق سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان ابھی بھی فٹ بال میں بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کی سکت رکھتا ہے بشرطیکہ اس پر حکومتی اور نجی سطح پر سنجیدگی سے دلچسپی لی جائے۔پاکستان کی کل آبادی 250ملین یا اس ے بھی زیادہ ہے۔اس آبادی میں سے دس سے بیس ملین، یعنی ایک سے دو کروڑ نو جوان فٹ بال کھیلنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔اگر ان میں سے ایک لاکھ کو بھی سند یافتہ کوچ مل جائیں، تو پانچ ہزار قومی سطح پرکھیل سکتے ہیں۔ دو سو سے پانچ سو پیشہ ور کھلاڑی بن سکتے ہیں اور 25۔40 قومی ٹیم کے لیے مل سکتے ہیں۔ اگر ارادہ ہو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ لیکن جب نیت کچھ اور ہو تو بات دوسری ہے۔راقم کو یاد پڑتا ہے کہ کئی سال پہلے ، مری کے راستے میںگھوڑا گلی جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک شاندار سپورٹس کمپلیکس تھا۔ اس کے ہیڈ ایک کرنل صاحب تھے۔ان سے باتوں ہی باتوں میں پوچھا کہ فٹ بال اور ہاکی کی پذیرائی اتنی نہیں ہوتی جتنی کرکٹ کی؟تو انہوں نے اشارے میں کہا کہ ان کھیلوں میں اوپر کی آمدنی نہیں ہوتی اور ویسے بھی ٹکٹ خرید کر لوگ ہاکی اور فٹبال کا میچ نہیں دیکھنے آتے اس لیے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستانی بچے گلی محلے میں فٹ بال تو کھیل لیتے ہیں لیکن ان کو سکھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔راقم نے گجرات کے سکولوں میں دیکھا کہ اچھی خاصی گرائونڈ ہیںلیکن کوئی کھیل نہیں ہو رہا ہوتا۔اسکی وجہ سکول کی انتظامیہ ہوتی ہے یا والدین؟ عموماً ہر ہائی سکول میں ایک پی ٹی ماسٹر کی کرسی ہوتی ہے اور کہیں کہیں کھیلوں کے کوچ کی بھی جو ابتدائی تربیت تو ہر کھیل میں دے سکتا ہے۔ لیکن ایک مقابلوں میں حصہ لینے والی ٹیم کو تیار کرنا ہر کوچ نہیں کر سکتا۔سکولوں کے پاس نہ اتنے فنڈز ہوتے ہیں اور نہ وسائل کہ وہ یہ فالتو کی سر درد ی مول لیں۔بچے آتے ہیں اپنے فٹ بال لیکر اور کھیل کھال کے چلے جاتے ہیں۔پاکستان نے شروع میں ہاکی اور فٹبال وغیرہ میں دلچسپی لی لیکن جب دیکھا کہ عوام ان کے میچز میں ٹکٹ لینا پسند نہیں کرتے تو وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ کرکٹ اس لیے بڑھا چڑھا کہ عوام اس کے مقابلوں پر ٹکٹ خرید کر دیکھتے تھے۔اس آمدنی سے بتوں کا بھلا ہوتا تھا۔راقم نے اپنے ایک کالم میں ذکر کیا تھا کہ پاکستان میں کھیلوں پر، سوائے کرکٹ کے، نہ ہونے کے برابرخرچ کیا جاتا ہے۔ وہ بھی اولمپکس میں کوئی تمغہ لینے کی امید میں۔ حال ہی میں جس نوجوان نے جویلین تھرو میں سونے کا تمغہ لیا وہ اس کی اپنی نجی کوشش کا نیتجہ تھا ۔ جب اس نے کامیابی حاصل کر لی تو حکومت جاگ پڑی اور اس کو انعام اکرام دئیے۔ حالانکہ بہت سی ایسی کھیلیں ہیں جن میں کرکٹ کے مقابلہ میں بہت کم سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔کیا ہی اچھا ہو کہ جو کمپنیاں پاکستان میں اچھے فٹ بال بنا کر خوب زر مبادلہ کما رہی ہیں، وہ چند اچھی ٹیمیں بنا کر ان کی بہتری کے لیے کام کریں۔پاکستان اگر کھیلوں میں کوئی نام پیدا کرنا چاہے تو اس کو سب سے پہلے کوچز کی تربیت کا انتظام کرنا ہو گا۔پھر سکولوں میں کھیلوں کومقبول کرنا ہو گا۔فٹ بال تو ملک میں ہی بنتے ہیں، ان کا حصول کوئی مسئلہ نہیں۔ ہاکی بھی ۔ بھاگنے والے ٹریک بھی تھوڑی کوشش سے بنائے جا سکتے ہیں ۔ ایسے کھیل بہت سے ہیں جن کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت نہ ہو۔ صرف توجہ چاہیئے۔



