Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

صدر ٹرمپ کے آپشنز!

ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کو انکے مشاہیر نے تین آپشنز پیش کئے ہیں ان میں سے پہلا یہ ہے کہ حملوں کی شدت میں اضافہ کر کے ایران کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کے علاوہ اسے معاشی اعتبار سے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے اور تیسرا یہ کہ فتح کا اعلان کر کے امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے۔ یہ تینوں آپشنز ابھی تک اس لیے زیر غور ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان میں سے مؤثر ترین کون سا ہے۔ ان تینوں آپشنز پر صدر ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے اراکین کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف General Dan Caine سے بھی صلاح مشورہ کیاہے۔صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کئی مرتبہ یہ کہا کہ وہ حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کر یںگے مگر جمعے کے روز انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ انکے مشاہیر کی رائے میں اگر ایران کے بجلی ‘ پانی اور سائبر میزائلوں کے انفرا سٹرکچر کو مزید نقصان پہنچایا گیاتو اسکے جواب میں پاسداران انقلاب نہ صرف خلیجی ممالک پر مزید حملے کریں گے بلکہ مذاکرات کرنے سے بھی انکار کر دیں گے۔ ستائیس جولائی کے نیویارک ٹائمز کی ایک خبرکے مطابق صدر ٹرمپ کو بتایا گیا کہ حملوں میںاضافے کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوں گے اور مزید معاشی بدحالی بھوک اور قحط کو جنم دے گی جس کے بعد پوچھا جائیگا کہ صدر ٹرمپ نے تو ایرانی عوام کو ایک سفاک حکومت سے نجات دلانے کا اعلان کیا تھا۔ جمعے کے دن وائٹ ہائوس میں نیوز کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے پوچھا کہ حملوں کی شدت میں اضافے کا فیصلہ کیا اس لیے واپس لیا گیا ہے کہ بجلی اور پانی کے ذخائر پر حملوں کا شمار جنگی جرائم میں ہوتا ہے۔اسکے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے۔ ماہرین کی رائے میں مزید حملوں سے گریز کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس Missile Interceptors کے ذخائر میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے۔ اپریل میں Center For Strategic And International Studies کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میزائل روکنے والے جہازوں کے نصف سے زیادہ ذخائر استعمال کر چکا ہے اور ان جہازوں کی تیاری میں خاصا وقت لگتا ہے اس لیے انہیں زیادہ تعداد میں استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشاہیر نے اس رائے کا اظہار بھی کیاکہ گذشتہ تیرہ دنوں کے مسلسل حملوں اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد Interceptorsکی تعداد میں بہت کمی واقع ہو گئی ہے۔ ایسے میں چین کے صدر شی جن پنگ اگر تائیوان پر قبضے کی جنگ شروع کر دیتے ہیں تو امریکہ زیادہ دیر تک اسکا دفاع نہ کر سکے گا۔ صدر ٹرمپ کے پاس دوسرا آپشنز یہ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور اسے آبنائے ہرمز استعمال نہ کرنے دیا جائے۔ اس طرح سے ایران کی معاشی بد حالی میں مزید اضافہ ہو گا اور وہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی پر مجبور ہو جائے گا۔ صدر امریکہ نے اس متبادل کو اس لیے نہیں چنا کہ اسکے نتائج حاصل کرنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیںاور امریکہ کی داخلی سیاست کے تناظر میں انکے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ وہ جلد از جلد اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو اپنی پہلی مدت صدارت میں بھی معاشی طور پر مفلوج کرنے کی دھمکی دے چکے تھے۔ انکی یہ حکمت عملی آٹھ برسوں میں کامیاب نہ ہو سکی تو اب کیسے چند دنوں میں کار آمد ثابت ہو گی۔ اس آپشن کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اسکے ثمر آور ثابت ہونے تک امریکہ کو اپنی افواج خلیج فارس میں رکھنا پڑیں گی جو کہ ایک مہنگا سودا ہو گا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی اور اس دوران میں امریکی افواج کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایران اس طویل جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر بھی حملے کرتا رہے گا جس کے نتیجے میں امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو بے پناہ معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا جو امریکہ سے ان کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ یہ کہہ دیں کہ انہوں نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں اس لیے انہیں فتح حاصل ہو گئی ہے جس کے بعد جنگ کو جاری رکھنا غیر ضروری ہے۔ سترہ جون کو مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے اس لیے مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کا راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ عالمی معیشت کو کسی بڑے بحران سے دوچار نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن اس فتح کے اعلان والے آپشن میں نقص یہ ہے کہ لوگ پوچھیں گے کہ یہ کیسی فتح ہے ۔ ایران آبنائے ہرمز پر بھی قابض ہے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر بھی مٹی کے ڈھیر کے نیچے پڑے ہیں۔ ایران جب چاہے انہیں استعمال کر کے ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔اس لیے اس راستے میں بھی کئی مشکلات حائل ہیں۔ دفاعی ماہرین نے ابھی تک کسی چوتھے آپشن کی نشاندہی نہیں کی اس لیے نظر یہی آرہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو بلآخر متذکرہ بالا تین راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑیگا۔ ان تینوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ یہ طاقت کے لامحدود ہونے کے زعم کی نفی کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہو گاکہ طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیںاور اسے ان حدود کے اندر رہ کر ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کیونکہ اس تصور سے نا آشنا ہیں اس لیے انہیںاس حقیقت کے اعتراف میں خاصی مشکل درپیش ہو گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button