خیالِ خاطرِ احباب!

دوست اور دوست،جانے کیوں یہ الفاظ ذہن میں آتے ہیں تو کانوں میں رس ٹپکنے لگتا ہے، یادوں کا ایک تانتا بندھ جاتا ہے،کھٹی میٹھی یادیں، رنگ برنگی، محفلیں یاد آتی ہیں جہاں احباب سے باتیں ہوتی تھیں،لطیفے اور شاعری،او غیبتیں،اب کوئی کچھ بھی کہے محفلوں کا مزہ غیبت کے بغیر ادھورا ہے ،غیبت شروع ہوتی ہے تو پارسائی دھری کی دھری رہ جاتی ہے،پیٹھ پیچھے کسی کو ہدفِ تنقید بنانا ،کچھ ہدف کی حمایت میں کچھ ہدف کی مخالفت میں ،اسی میں کسی کا روٹھ جانا،دوسرے دن اس کو منانے کے لئے کال کر کے منانا، کہنا یار تم برا مان گئے میرا مطلب یہ نہ تھا اچھا چھوڑو،دل صاف کرلو ،اور ہاں کل شام میرے ساتھ چائے پیو، اور اس کو بھی ساتھ لے آنا جس کی تم حمایت کر رہے تھے،یہ باتیں بہت عام سی ہیںاور بہت نارمل،شیخ جی کتنے ہی وعظ کر لیں مگر غیبت اور جھوٹ ہماری زندگی کا حصہ ہیں اس سے مفر نہیں، تھوڑی کشادہ دلی ہو تو احباب کی محفل میں کسی ایسے دوست کے بارے میں گفتگو جس میں دل آزاری نہ ہو جائز ہے ایسا ہو جاتا ہے،خاص طور پر جب کسی نثر، نظم یا کسی شعر پر بات چل پڑے،ہم اپنے کسی بھی دوست کی عدم موجودگی میں اس کے شعر یا نظم پر تبصرہ کر سکتے ہیں یہ غیبت کے زمرے میں نہیں آتا البتہ محفل برخاست ہونے کے بعد لگائی بجھائی کی جائے تو یہ ہرگز مناسب نہیں،اس کا تعلقات پر اثر پڑتا ہے اب ہزار صفائیاں دے لیجیے مگردل میں بال آ ہی جاتا ہے،ایک محفل میں مرزا غالب نے میر امن دہلوی کی چہار درویش کی بہت تعریف کی اور رجب علی سرور کی طلسمِ ہوش ربا کو الفاظ کا بھٹیار خانہ کہا ،محفل ختم ہوئی تو کسی نے غالب کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ آپ نے رجب علی سرور کی بہت توہین کی وہ تو محفل میں موجود تھے مگر انہوں نے ایک لفظ نہ کہا غالب کو بہت قلق ہوا دوسرے دن غالب رجب علی سرور کے گھر پہنچے بہت معذرت کی اور طلسم ہوش ربا کی نثر کی بہت تعریف کی، وہ زمانے اور تھے بڑے لوگ تھے ان کی بڑی باتیں،بڑے دل،اور تعلقات باقی رکھنے کی بے پناہ صلاحیت،خود شناسی کے باوجود انا پرستی سے بہت دور، تنازعے بھی رہے،میر اور سودا کے، ناسخ اور جرات کے، غالب اور ذوق کے،مگر ہم نے جمیل الدین عالی اور انشاء جی کے درمیان بھی ادبی جھونک دیکھی،مگر یہ بھی دیکھا کہ تپاک سے ملتے تھے اختلافات احمد ندیم قاسمی اور وزیر آغا کے بھی تھے مگر ملنا جلنا ایک دوری کے ساتھ رہا، یہ بھی بڑے لوگ تھے مگر زمانہ بدل چکا تھا،مزاج بھی بدل چکے تھے ،ذہنوں میں فراخی پہلے جیسی نہ تھی یا یوں کہیے کہ کم تھی،کچھ علم کا زعم تھا،کچھ شہرت کا نشہ، مگر پھر بھی رکھ رکھاؤ باقی تھا ،اب جو نسل ہمارے سامنے ہے وہ وقار اور شائستگی سے فاصلے پر ہے،شاعرانہ اور ادبی رویئے بھی ناپید،اور سب کو یہ زعم کہ وہ اس وقت کے غالب، فیض اور فراز ہیں،مگر یہ ضرور ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں ،اچھی شاعری بھی پڑھنے کو مل جاتی ہے،گروپ بندی نے تنقید کو بہت نقصان پہنچایا ہے ترجمے پر کافی کام ہو رہا ہے،اچھا افسانہ لکھا جا رہا ہے ،تعلیمی اداروں میں Thought provoking material پڑھایا نہیں جاتا لہٰذا تخلیق کے معیار پرسوالات ہیں، پچھلے دنوں دو اہم کتابیں مل گئیں ن م دانش سے رابطے کم ہوتے ہیں مگر وہ فیس بک پر متحرک ہیںسو خبریں مل جاتی ہیں پتہ چلا ان کی تنقید کی کتاب چھپ گئی ہے تنقید پڑھنے کو نہیں ملتی سو رال ٹپک پڑی،دانش کو فون کیا اور کتاب کا تقاضا کیاکہنے لگے کسی دوست کے ہاتھ بھیج دونگا،کتاب کو ترستا رہا دوبارہ فون کیا اور خدا خدا کرکے ایک پیکٹ ملا حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ پیکٹ میں ن م دانش کی کتاب جس کا نام ہے ۔’’یعنی اس کا مطلب کیا‘‘۔ملی سو ملی مگر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ پیکٹ میں حمیرا رحمن کا نیا مجموعہ ۔بہت سے کام کرنے ہیں ۔ بھی مل گیا، میں نے شکریہ کا فون کیا ،مگر بات صرف دو چار جملے،البتہ دانش سے تفضیلی بات ہو گئی ،دانش کی کتاب میں آٹھ تنقیدی مضامین ہیں چند مضامین پہلے ہی میری نظر سے گزر چکے تھے کچھ نئے مضامین، دانش کی تنقید پر گہری نظر ہے،اور وہ نثر بہت اچھی لکھتے ہیں ،پہلی فرصت میں کتاب ختم کرلی ،بہت سے سوالات بھی ذہن میں ابھرے،چاہوں گا ان پر تفضیلی بات ہو، حمیرا رحمن کا نیا مجموعہ ایک طویل عرصے کے بعد آیا،شائد بیس سال کے بعد،اس سے پیشتر’’ اندمال‘‘ شائع ہوا تھا ،۔’’بہت سے کام کرنے ہیں‘‘ ایک اچھا مجموعہ ہے ،اس کتاب پر یاسمین حمید،زہرہ نگاہ، اور نجیبہ عارف نے مضامین تحریر کئے ہیں ،فلیپ افتخار عارف اور خورشید رضوی کے ہیں،سب نے ہی بہت محبت سے لکھا ہے، یہ مجموعہ 2024میں اشاعت پذر ہوا تو ظاہر ہے کہ مجھے دیر سے ملا، اس مجموعے کی کچھ غزلیں مختلف مشاعروں میں سن چکے تھے ،کلام میں پختہ کاری ہے نظموں نے کتاب کا وقار بڑھا دیا ہے غزلوں میں سماجی اور سیاسی مسائل پر بات زیادہ ہے فکری اعتبار سے حمیرا رحمن’’ اندمال‘‘ سے آگے نہ جا سکیں،مجھے امید ہے کہ پاکستان میں اس مجموعے کی پذیرائی ضرور وئی ہوگی،موقع ملا تو ایک تجزیہ نذرِ قارئین ضرور کروںگا۔اخلاص کا دوسرا نام الطاف ترمذی ہے،باغ و بہار شخصیت ہے ،ان کا فون آیا حکم تھا ڈنر پر آ جائیں،علالت کی وجہ سے طویل ڈرائیونگ سے گریز کرتا ہوں،الطاف کا گھر بھی ایک گھنٹے کی مسافت پر،اس دن موسم بھی خراب تھا،بارش ہونے والی تھی بارش میں ڈرائیونگ میرے لئے کارِ دارد،میں نے معذرت چاہی،الطاف ترمذی کہاں ہار ماننے والا ،کہنے لگے آپ کے لئے سرپرائز ہے،بریانی کا بھی لالچ دیا، اس زمانے میں پاکستان سے شوکت فہمی آئے ہوئے تھے میں سمجھ گیا کہ سرپرائز کیا ہے،الطاف ترمذی سے تین دہائیوں سے زیادہ تعلقات ہیں،پوری فیملی میں محبتیں گندھی ہوئی ہیں،الطاف ترمذی کے ہاں میں اور میری فیملی بہت comfortableہوتے ہیں سو میں نے جانے کا فیصلہ کرلیا، اظہر ترمذی کا گھر ایک gated communityمیں ہے خوبصورت مکانات، ہرا بھرا ماحول،ڈسپلن ،بہت پر ورقار ماحول،وقت پر پہنچ گیا تھا،سعید نقوی، شوکت فہمی،فرح کامران،مقسط ندیم،کے علاوہ خودسے بھی ملاقات ہوئی،ایک طویل عرصے کے بعد خوبصورت لوگوں سے ملاقات رہی،ہلکی پھلکی ادبی علمی گفتگو رہی،بہت لذیذ کھانا،متواضع میزبان، پر تکلف ماحول،الطاف ترمذی کی اہلیہ ہمیشہ ہی بہت محبت سے ملتی ہیں بہت شاداب نظر آئیں تو بہت خوشی ہوئی،اظہر کی اہلیہ بھی محبتوں میں رچی بسی،کچھ موسم کا جبر تھا اور کچھ یہ بہانہ کہ اگلے دن جاب پر جانا ہے محفل رات گئے تک نہ جم سکی،محفل جم جاتی تو شائد کچھ سننے سنانے کا موقع مل جاتا،بہر حال اچھی یادیں لے کر لوٹا،واپسی پر بارش نے آ لیا ،ٹریفک کم تھی سو ڈرائیونگ کا مسئلہ نہ تھا ورنہ الطاف ترمذی مری گالیوں کی زد میں ہوتا،فرح کامران کی ہمت کو سلام کہ وہ ایک طویل مسافت طے کرتی ہیں اور تقریبات میں چلی آتی ہیںیہ ان کی ادب دوستی کا ثبوت بھی ہےپچھلے دنوں ہسپتال میں تھا،کوئی ڈھنگ کی نرس نظر نہیں آئی، تھکے ہوئے ڈاکٹر اور بوڑھی نرسیں،بجھا بجھا ماحول،مگر پھربھی رات بھر سونے نہیں دیتے،یہ جملے بہت خوبصورت ہیں رات بھر سونے نہ دے ،رات بھر جگائے، یا رات کو نیند نہ آئے،مگر ہسپتال میں ماحول رومان پرور تو ہوتا نہیں ،خیر ہسپتال کی اذیت سے نجات ملی،گھر پہنچ گیا ای میل میں ایک میسج ملا ایک سروے تھا کہ بتائیے کہ ہسپتال میں آپکا قیام کیسا رہا،اب کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا،وہ کوئی لمحہء بیداد نہ تھا فراغت تھی تو اہلیہ سے گفتگو کرتے ہلکے پھلکے انداز میں کہہ دیا۔ یار اب جانے دو ،سارے کام بحسن و خوبی انجام پا چکے،کوئی کام رہا نہیں ،اہلیہ نے برجستہ کہا بیٹھے رہو جی،یہاں کام نہیں تو وہاں کون سے کام ہونگے،میں توجواب پر پھڑک گیا،بات بڑے پتے کی تھی ،ابھی اسی جملے کے سرور میں تھا کہ عامر بیگ کا فون آگیا اور باتوں باتوں میں وہ جملہ عامر بیگ کو سنا دیا کہ یہاں کام نہیں تو وہاں کیا کام ہونگے،عامر بیگ ہر چند کہ نیو جرسی میں حلقہء ارباب ذوق چلاتے ہیں جی ہاں چلاتے ہیں مگر اندر سے پکے مولوی، ان کے اجلاس میں جانے کا اتفاق ہو تو ماشا اللہ روح پرور ماحول ملتا ہے کبھی کبھی تو ایسا لگا کہ ہم عرس میں آئے ہیں،نگہباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے،عامر بیگ نے میری اہلیہ کے جملے کو نہ جانے سلوک کے کس لمحے میں سنا کہ ایک کالم لکھ مارا اور سائینسی حوالوں سے ثابت کر دیا کہ جنت میں بھی کارِ زندگی سے مفر نہیں،تب سے اپنی بیگم کو سمجھا رہا ہوں کہ جانے دو وہاں بہت سے کام پڑے ہیں،مگر نہ جانے کیوں جب بھی میں بیگم کے سامنے عامر بیگ کا نام لیتا ہوں بیگم قہقہہ ضرور مارتی ہیں،عامر بیگ کی شخصیت ہی کچھ ایسی ہے کہ ان کو یاد کرکے بندہ ہنس پڑے سو اس وقت عامر بیگ یاد آگئے تو مجھے ہنسنا ہی پڑا،خیالِ خاطرِ احباب چاہیئے ہر دم ۔



