Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

دھرنوں اور احتجاج سے معیشت کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرے وزیراعظم

اسلام آباد (آصف اقبال) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کو ملکی معیشت اور پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیر چوک انڈر پاس کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم مذاکرات کے دوران طے شدہ مسودے میں بار بار تبدیلی کی گئی، جس سے بات چیت کو کامیاب نہ ہونے دینے کا تاثر ملا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے اڑھائی سال کی اجتماعی محنت سے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، معاشی اور میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا، برآمدات، آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا جبکہ ملکی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے تو دوسری جانب لانگ مارچ، دھرنوں اور احتجاج کی سیاست دوبارہ سامنے آ رہی ہے۔ احتجاج اور دھرنوں سے برآمدات اور صنعتی پیداوار متاثر ہوں گی اور اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کی معیشت اور عوام کو ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ کیا ترقی کے پہیے کو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی نہیں؟ کیا اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچے گا؟ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور احتجاجی سیاست کے ملکی معیشت پر اثرات کا ادراک کرتے ہوئے لانگ مارچ ختم کرے۔محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے اور ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ ملک دیانت اور امانت کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ منصوبہ ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت تین رویہ انڈر پاس تعمیر ہوگا، جس کی تکمیل سے فیض آباد، بہارہ کہو، مری اور آزاد کشمیر کی جانب جانے والی ٹریفک کو بلا رکاوٹ آمدورفت میں سہولت ملے گی۔وزیراعظم نے منصوبے کی بروقت تکمیل کی یقین دہانی پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے، جس سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا سفر بھی تیز ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اسلام آباد کو جدید، خوبصورت اور مثالی شہر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے۔ ایس سی او کانفرنس سے قبل اہم انفراسٹرکچر منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا تاکہ غیر ملکی معزز مہمانوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہو۔محسن نقوی نے کہا کہ کشمیر چوک انڈر پاس سمیت اہم ٹریفک اور انفراسٹرکچر منصوبے ایس سی او کانفرنس سے قبل مکمل کیے جائیں گے۔ انڈر پاس اور ایکسپریس وے کی سروس لینز کی تکمیل سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 16 سے 18 منٹ رہ جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے ایف نائن پارک کو بین الاقوامی معیار کے جدید تفریحی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ دارالحکومت میں ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اسلام آباد کو 31 دسمبر تک مکمل طور پر پلاسٹک فری سٹی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد کو کیش لیس سٹی بنانے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جبکہ دونوں منصوبوں کی نگرانی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کر رہے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم کو کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button