اقتدار حاصل کرنے کا فارمولا

پاکستان میں ایک مستحکم، عوامی نمائندہ حکومت کی عوامی خواہش ایک بھیانک خواب بن چکی ہے۔ جو سیاستدان بر سر اقتدار آتے ہیں، ان میں سے کم ہی پاکستانیوں کے بھلے کے کام کرتے ہیں۔ زیادہ تر انتخاب میں لگائے ہوئے سرمایہ کی چو گنی واپسی میں مصروف رہتے ہیں۔یہ راز مجھے 1974میں کولمبو میں ایک سرکاری وفد میں آئے ہوے سیاستدان نے بتایا تھا۔چوٹی کے سیاستدانوں کی خواہشات اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ بینظیر کی حکومت آنے سے پہلے ان کے خاوند ، زرداری صاحب مسٹر ٹین پرسنٹ کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ اس کا اشارہ کس طرف تھا؟ موصوف ہر وفاقی منصوبہ کے ٹھیکے سے دس فیصد لیا کرتے تھے۔ ان کی بیگم جب وزیر اعظم بن گئیں تو غالباً یہ ریٹ بڑھ گیا ہو گا۔ اقتدار پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں پنگ پانگ کی گیند کی طرح بدلتا رہا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اصل حکومت تو فوج کرتی تھی ان پارٹیوں کو محض کٹھ پتلیوں کی طرح لایا جاتا تھا۔ ہر تھوڑے عرصہ کے بعد فوج براہ راست اقتدار سنبھال لیتی تھی۔جب 1970میں ذولفقار علی بھٹو نے پی پی پی بنائی تو متوسط اور تعلیم یافتہ طبقہ نے اس کی پذیرائی کی،پاکستان کے لیے ایک نیک شگون سمجھا۔ اس کے نعرے روٹی، کپڑا اور مکان سب کو بھاتے تھے۔ ان کا نعرہ، اسلام ہمارا دین ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اورمساوات ہمارا نظریہ ہے۔بہت پسند کیا گیا۔لیکن بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ پی پی پی نے نہ لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان دیئے، اور سوشلزم کے نام پر جو نجی اداروں کو قومیایا گیا، ان سے پاکستان کی ترقی کئی دہائیاں پیچھے چلی گئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھٹو نے فوج کے ساتھ ملکر مشرقی پاکستان کو علیحدہ کروایا۔اس کی داغ بیل ایوب خان کے زمانے میں ہو چکی تھی۔یہ علیحدگی امریکہ کے ایما پر کی گئی۔بھٹو اور فوج دونوں امریکی غلام تھے۔ فوج اور کئی سیاستدان آج بھی وہی کرتے ہیں جو امریکہ چاہتا ہے۔اگر ہم حقیقت کو سمجھنا چاہیں تو امریکہ کی خواہشات در اصل مشرق وسطیٰ کے ایک ملک سے آتی تھیں جنہیں امریکہ من و عن آگے پہنچا دیتا تھا۔ اس گتھی کو اگر آپ سمجھ لیں تو آپ پر تمام حقیقتیں اظہر من الشمس ہو جائیں گی۔جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو قوم خاموش رہی۔ غالباً اس لیے کہ اس نے وطن سے غداری کی تھی۔فوج نے اس لیے پھانسی دلوائی کہ بھٹو قوم کو آگے جا کر یہ نہ بتا دے کہ مشرقی پاکستان میں جو ہوا اس میں فوج کا کتنا بڑا کردار تھا۔اگرچہ جسٹس حمود الرحمن کی رپورٹ نے سب ثبوت فراہم کر دیئے۔ لیکن بھٹو نے اس رپورٹ کو بھی بر سر عام نہیں دیا۔ کیونکہ اسے اپنی کھال بھی تو بچانی تھی۔پاکستانی قوم صدمات برداشت کرنے میں کوئی مثال نہیں رکھتی، اس سانحۂ عظیم کو بھی برداشت کر لیا۔ یہی نہیں، جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو کچھ عرصہ بعد اسے شہید قرار دے دیا۔ کسی نے اس پر احتجاج نہیں کیا۔ وہ اعزاز آج تک برقرار ہے۔کوئی پوچھے کہ ایک غدار شہید کیسے ہوا؟۔پیپلزپارٹی جو پورے ملک میں مقبول تھی اپنی مقبولیت کھونے لگی۔ آج اس کی مقبولیت اور بنیادی سیاسی طاقت سندھ تک محدود رہ گئی ہے۔زرداری نے، پاکستان کی موروثی سیاست کی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے پہلے اپنی بیوی کو اقتدار دلوایا۔ اس کو جب 2007ء میں مروا دیا گیا تو اپنے نا بالغ بیٹے کو تیار کرنا شروع کر دیا کہ وہ ایک دن ملک کا وزیر اعظم بنے۔بینظیر ملک کی پہل خاتون وزیر اعظم تھیں اور کہتے ہیں کہ عوام میں بہت مقبول تھیں۔ اس کے نام پر غریب عوام کے لیے وظیفے جاری کیے گئے۔ اور دیگر مقبول عام اصلاحات۔پیپلز پارٹی کی 2008سے 2013ء کے وقفہ میں حکومت میں سوائے بد عنوانی کے فروغ کے کوئی اچھا کام نہیں ہوا۔ مہنگائی اور معاشی سست روی نے عوام کو مایوس کیا۔کئی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب رہی۔پنجاب میں پیپلزپارٹی اپنی سیاسی حمایت کھو بیٹھی۔ اور نواز شریف کی پارٹی نے اس کی جگہ لے لی جو بعد میں پاکستان تحریک انصاف کو مل گئی۔پیپلز پارٹی ابھی بھی پاکستان کی اہم سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ یہ پارلیمانی جمہوریت اور صوبائی خود مختاری کی حامی رہی ہے۔اس کے پاس ابھی بھی وفاق میں اتنی سیٹیں ہیں کہ اس کی اہمیت رہے۔سندھ میں ، کہتے ہیں، کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ بد عنوانی اور اقربا پروری نے اداروں کو کمزور کیا۔پارٹی نے خاندانی قیادت کو ترجیح دی اور بڑے بڑے قابل قائدین کو پس پشت ڈالا۔نئی نسل کے ووٹرز کے لیے ایک مضبوط قومی وژن پیش کرنے میں ناکام رہی۔اب ہم بلاول بھٹو کی طرف آتے ہیں۔یہ زرداری کے بیٹے 21ستمبر 1988ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انکی ماں کے انتقال کے بعد 19سال کی عمر میں انہیں پی پی پی کا چیرمین بنا دیا گیا جب وہ زیر تعلیم تھے۔گو حقیقی طور پر زرداری ہی اقتدار پر قابض رہے۔بلاول نے انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔2018کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کی۔سن 23۔2022میں پاکستان کا وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔اس دوران کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں کیا گیا۔گو پالیسی کے طور پر تعلیم اورصحت پر زور دیا لیکن اندرون سندھ ان دونوں شعبوں میں حالات ابتر ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بلاول کا قد کاٹھ صرف خاندانی حیثیت سے بڑھا نہ کہ اس کی اپنی اہلیت سے۔اس کو اونچی سطح پر انتظامی کام کرنے کاتجربہ نہیں ہے ۔اس کی قیادت میں آنے سے پی پی پی کو قومی سطح پر واپسی نہیں ملی۔ اب برخود دار کی عمر 37سال کے لگ بھگ ہے۔غیر شادی شدہ ہیں۔ غالباً شادی میں دلچسپی نہیں ہے۔کچھ افواہیں ان کے ہم جنس پرست ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔سندھی اوراُردو میں بھی تقریر کرتے ہیں اگرچہ کچھ اغلاط زبان زد عام ہو گئی ہیں ۔ جیسے کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔راقم کی نظر میں بلاول ایک سیاسی نا بالغ ہے جو اپنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا۔صرف جو اسے قریبی مشیر پڑھا دیتے ہیں وہ طوطےکی طرح پڑھ دیتا ہے۔اس نے آج تک سندھ کے عوام کے مسائل کو نہیں سمجھا اور نہ ان کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی طرح اس کو پاکستان کے اور غریب عوام کے مسائل کا نہ کوئی علم ہے نہ شعور اور نہ ان کو حل کرنے کی اہلیت۔ بلاول کو اس کے باپ نے اپنے نانا کی طرح تقریر کرنا تو سکھا دیا ہے لیکن وہ اپنے نانا کی سیاسی سمجھ بوجھ سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتا۔ ہوشمند پاکستانی موروثی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔ وہ نئے چہرے لانا چاہتے ہیں اور تجربہ کار سیاستدان لانا چاہتے ہیں۔ یا وہ قائد جو ایماندار ہوں اور بد عنوانیت ختم کرنا چاہتے ہوں۔ بلاول کو تو غالباً بد عنوانیت کی الف بے بھی نہیں معلوم۔ جس باپ کے سایہ تلے اس نے آنکھ کھولی جو بد عنوانیت کا بادشاہ تھا۔بیٹا کیا مختلف ہو گا؟بلاول نے ایک محفوظ ماحول میں پرورش پائی۔ اسے ملک کا، اور عوام کے حال کی کیا خبر۔یہ پاکستان کی بڑی بد قسمتی ہو گی کہ بلاول کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیا جائے۔اگر ایسا ہو یا تو مسٹر ٹین پرسنٹ مسٹر سو فیصد ہوجائیں گے۔اور غالباً مقصد بھی یہی ہے۔ ان ارب پتیوں کا نہ پیٹ بھرتا ہے اور نہ حرص۔ ہر وقت دولت کمانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔یہی صورت نون لیگیوں کی ہے۔انہیں بوٹ پالش کرنے میںبھی کوئی اعتراض نہیں۔
پی پی پی در اصل اپنی سیاسی حیثیت کھو بیٹھی ہے، زیادہ تر اس لیے کہ اس نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے۔ بھٹو نے بے سوچے سمجھے نجی اداروں کو قومیایا، جس سے ملک کی ترقی کو صدمہ پہنچا۔ صرف یہی نہیں اس نے مذہبی جماعتوں کو خوش کرنے کے لیے کچھ اقدامات لیے جو اس کے چاہنے والوں کو اچھے نہیں لگے۔ لیکن کافی ترقی پسند اس کے مداح بنے رہے، کیونکہ اس کے پیغام میں ترقی کی کرن تھی۔ اگرچہ وہ ترقی باقی ملک میں تو کیا، لیاری اور اس کے آبائی شہروں گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ وغیرہ تک میں نظر نہیں آئی۔یا یہ پاکستان کی تقدیر ہے کہ اس کو صحیح قائدین ہی نہیں ملے۔ اور جو ملا بھی تو اس کو فوج نے پسند نہیں کیا۔یہ احکامات واشنگٹن سے لے آئے تھے یا کہیں اور سے۔ کیا فرق پڑتا ہے؟کسی بھی سیاسی جماعت کو ، خاص طور پر جس نے کئی سال ملک پر یا اس کے کسی حصہ پر حکومت کی ہو، اپنی برتری جتانے کے لیے بتانا پڑتا ہے کہ ان کی حکومت نے اس صوبہ کی یا علاقہ میں کیا بہتری کی؟ سندھ میں پی پی پی نے کئی سال حکومت کی لیکن کراچی اور حیدرآباد کو چھوڑ کر سندھ کی حالت میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔اے آئی سے پتہ چلتا ہے کہ سماجی اشاریوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔جیسے دیہی سندھ میں غربت کی شرح بلند ہے۔بچوں میں غذائیت کی کمی ملک میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔اسے stunting کہتے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں حاضری اور معیار تعلیم ایک بڑا مسئلہ ہے۔پینے کے صاف پانی اور نکاسیٔ آب کی سہولیات بہت سے علاقوں میں نا کافی ہیں۔جاگیردارانہ نظام اور کمزور بلدیاتی ادارے ترقی کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔بحثیت مجموعی سندھ سماجی ترقی کے لحاظ سے اندرونی عدم مساوات کا شکار ہے۔اگر پیپلز پارٹی کے نعروں میں کوئی صداقت ہوتی اور پارٹی ان پر عمل کرتی تو سندھ پاکستان میں ایک مثالی صورت بن کر دکھاتا۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔جو پارٹی سندھ کی حالت بہتر نہ کر سکی، وہ کسی اور صوبے کی حالت کیا بہتر کرے گی۔یہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، اور بلوچستان کے حالات کیا بہتر کریں گے؟ بلاول جب وہاں انتخاب جیتنے کی تقریریں کرتا ہے تو کیا لوگ اسے پوچھتے ہیں کہ تم نے سندھ میں کیا ایسے گُل کھلائے جو ہمارے علاقوں میں کھلائو گے؟زرداری کی پارٹی انتخابات جیتنے کا گُر جانتی ہے۔ اس کا فارمولا آزمایا ہوا ہے اور اکثر کامیاب ہوتا ہے۔ کہ خوب پیسہ لگائو اور اقتدار حاصل کرو۔ جب اقتدار مل جائے تو خوب پیسہ بنائو۔ اور پھر اسی ترکیب کو دہراتے جائو۔کیونکہ ہر معاشرے میں ایسے کردار ہوتے ہیں جو اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان کے ووٹ بینک ہوتے ہیں۔ ان کو بھاری رقمیں دیکر ووٹ خریدے جاتے یں۔ اور حکومت بن جاتی ہے۔ جس معاشرے میں اکثر عوام نا خواندہ ہوتے ہیں،وہ نہ اپنے ووٹ کی قیمت جانتے ہیں اور نہ انسانی حقوق سے واقفیت رکھتے ہیں، وہاں یہ فارمولا جادو کی طرح کام کرتا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔



