ٹینس، خواتین کھلاڑیوں کے لیے ’جینیاتی جنس‘ کی جانچ کرانا لازمی قرار

ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے خواتین کے پروفیشنل ٹینس مقابلوں میں شرکت کے لیے نئی اہلیت پالیسی متعارف کرا دی ہے۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ٹی اے کی نئی پالیسی کے تحت تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک مرتبہ جینیاتی جنس ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا۔ڈبلیو ٹی اے کے مطابق کھلاڑیوں سے گال کے اندرونی حصے، خون یا لعاب کا نمونہ لیا جائے گا تاکہ ’ایس آر وائی جین‘ کی موجودگی کی جانچ کی جا سکے، جو ’وائی‘ کروموسوم سے منسلک ہوتا ہے اور مردانہ جسمانی خصوصیات کی نشوونما میں کردار ادا کرتا ہے۔صرف وہی کھلاڑی ڈبلیو ٹی اے ٹور میں شرکت کی اہل ہوں گی جن کے ٹیسٹ میں یہ جین موجود نہ ہو، مثبت نتیجہ آنے کی صورت میں مزید طبی معائنہ کیا جائے گا۔نئی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کو ایک دستاویز پر دستخط بھی کرنا ہوں گے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیسٹ سے انکار کرنے پر انضباطی کارروائی کی جا سکتی ہے۔اس سے قبل 2024 کی پالیسی کے تحت ٹرانس جینڈر خواتین مخصوص حد سے کم ٹیسٹواسٹیرون برقرار رکھنے کی شرط پر مقابلوں میں حصہ لے سکتی تھیں۔ڈبلیو ٹی اے کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد خواتین کے مقابلوں میں مساوی مواقع اور منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانا ہے جبکہ تمام کھلاڑیوں کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ پیش آیا جائے گا۔



