مکمل فسطائیت کی طرف تیزگام !

سننے میں مذاق لگتا ہے لیکن حقیقت میں اس تلخ اور بھیانک حقیقت کا اعتراف ہے جس سے عسکری طالع آزما عاصم منیر اور اس کے کٹھ پتلی سیاسی گماشتوں کامقبوضہ پاکستان ایک طویل عرصہ سے دوچار ہے!ہوا یوں کہ پنجاب کی اسمبلی کے اسپیکر، جن کا تعلق اس بڑے صوبے کو یرغمال بنائے ہوئے نواز لیگ سے ہے اور یوں ہے کہ عسکری طالع آزما کی یہی رضا ہے، حیرت میں پڑگئے جب انہیں یہ بتایا گیا کہ ایک نئے قانون کا مسودہ سیلیکٹ کمیٹی کی تائید بھی حاصل کرچکا ہے جبکہ جناب اسپیکر کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑی!اب پتہ نہیں کہ اسپیکر محمد احمد خان کی حیرت اصلی تھی یا بناؤٹی اسلئے کہ ملک پاکستان، جو کوئی چھوٹا موٹا دیس نہیں بلکہ پچیس کروڑ پاکستانیوں کا وطن ہے اور دنیا کی تاحال واحد اسلامی جوہری طاقت بھی ہے، عاصم منیر کی ذاتی جاگیر بنا ہوا ہے اور اسی کا حکم ملک میں حرفِ آخر ہوتا ہے۔ اس کا یا اس کے گماشتے محسن نقوی کا۔یہ دونوں کہاں سےآئے ہیں، کس کیلئے کام کر رہے ہیں، یہ پاکستان میں شاید ہی کسی کے علم میں ہو۔ عمران خان کے دور، حکومت تک شاید ہی کوئی پاکستانی ہو جس نے ان دوپر اسرار شخصیات کا نام بھی سنا ہو لیکن عمران خان کا تختہ الٹنے کے بعد جو قوتیں چوہوں کی مانند اپنے اپنے بلوں سے نکل کر پاکستان کے منظر نامہ پر قابض ہوئیں یہ دو اسی دور کی پیداوار ہیں!
عمران کا تختہ الٹنے کی سازش میں اس دور کا سپہ سالار قمر باجوہ پیش پیش تھا لیکن وہ تو جلد معدوم ہوگیا اور اس کے بعد سے وہ عسکری طالع آزما، قمر باجوہ کا جانشین، عاصم منیر پاکستان کے شب و روز کا مالک بن بیٹھا جس کی زندگی کا واحد مقصد عمران خان کو پاکستان کے قومی منظر نامہ سے قصہء پارینہ بنانا ہے لیکن اس مذموم منصوبہ میں یہ فسطائی اپنی تمام تر فسطائیت اور فسطائی ہتھکنڈوں کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکا۔جتنا جتنا اس نے یہ چاہا کہ عمران پاکستانی عوام کے ذہنوں سے ماؤف ہوجائے اتنا اتنا عمران پاکستانیوں کے دل و دماغ پر چھاتا گیا !آج عمران خان پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین سیاسی رہنما بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عاصم منیر کی فسطائیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی حالت اس کھسیانی بلی کی سی ہے جسے اپنے شکار کو نوچنے کا موقع نہیںمل رہا تو وہ انتہائی مایوسی میں کھمبا نوچ رہی ہے !پنجاب عاصم منیر نے نواز کی دختر اختر، مریم نواز کو مکمل سونپ دیا ہے اور وہ اپنے سرپرست اور مربی سے بھی دو ہاتھ آگے نظر آتی ہیں پنجاب کو اپنی اور اپنے چور خاندان کی جاگیر بنانے میں!شہزادی مریم اپنی ذات کے سحر میں بھی عاصم منیر کے آقا اور سرپرست ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مبتلا ہیں بلکہ اس سے بھی میلوں آگے دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں اپنی تصویرہر جااور بیجا چسپاں کرنے کا تو باقائدہ مرض ہے لیکن فسطائیت کا خمیر بھی ان کی ذات کے سحر کی طرح بہت گاڑھا ہے!وہ مسودہ قانون جس کا علم پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کو بھی نہیں تھا اسی فسطائ سوچ کا شاخسانہ ہے!
مسودہ ٔقانون کو عنوان دیا گیا ہے’’عادی سماج دشمن مجرموں پر قابو پانے کا قانون‘‘ اور اس مجوزہ قانون کی نمایاں بات یہ ہے کہ حکومتی کارندوں کو، جن میں سرِ فہرست پولیس اور انٹیلی جنس والے ہیں، یہ استحقاق حاصل ہوگا کہ جو بھی انکی نظر میں، ان کی صوابدید میں، سماج کا دشمن نظر آتا ہے اسے نہ صرف گرفتار کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کی جائیداد پر قبضہ کیا جاسکتا ہے، اس کے بنک اکاؤنٹ کو منجمد اور ضبط کیا جاسکتا ہے اور اسے مکمل طور پہ ایک عضوِ معطل بنایا جاسکتا ہے !یہ وہ مجوزہ قانون ہے جسے عام زبان میں سخت گیر اور جبر کا قانون کہا جاتا ہے، اندھا قانون، کالا قانون!یہ کتنا فسطائی قانون ہے کہ اسمبلی کے اسپیکر کو کہنا پڑا کہ اس کی شقیں تو وہ ہیں جو رسوائے زمانہ غنڈہ ایکٹ میں بھی نہیں ہیں۔ غنڈہ ایکٹ میں غنڈہ گردی کے ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کا حق عدالت کے پاس ہوتا ہے لیکن اس مجوزہ قانون میں یہ اختیار پولیس اور اسی قماش کے اہلکاروں کو دینا مقصود ہے۔اور یہ سب کچھ یونہی نہیں ہورہا بلکہ اس نظامِ جبر کا تسلسل اور ایک طرح سے بھیانک روپ ہے جو ملک پر عسکری طالع آزما کی ہوسِ اقتدار نے گذشتہ چار برس سے مسلط کیا ہوا ہے۔یہ دراصل پاکستان کو ایک پولیس اسٹیٹ، ایک مکمل طور سے فسطائی ریاست میں بدل دینے کا گھناؤنا چہرہ ہے جس کے بدنمااور کریہہ خطوط اب ان کالے قوانین کے روپ میں ظاہر ہورہے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں قانون طاقتور کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور عدالتیں بے ضمیر ادارے میں تبدیل ہوچکی ہوں، اور عوامی حقوق کا علمبردار نیوز میڈیا حکمرانوں کے ہاتھوں کی کٹھ پیلی بن چکا ہو، ایسے سیاہ قوانین سماج کو بدعنوان عناصر سے پاک کرنے کیلئے نہیں استعمال ہوتے بلکہ ذاتی دشمنیاں اور باہمی رقابتیں طے کرنے کیلئے کام میں لائے جاتے ہیں!دورِ فسطائیت کا سب سے نمایاں شکار تو عمران خان ہے جسے عاصم منیر اپنی ذاتی دشمنی کیلئے عقوبت کا نشانہ بنائے ہوئے ہے اور پاکستان کی عدالتیں اس پستی اور گراوٹ کا شکار ہیں کہ وہ اس بیگناہ اور معصوم کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہیں!صاف ظاہر ہے کہ طالع آزما عاصم منیر ایک طرف پاکستانی قوم کی بے حسی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے تودوسری طرف اپنے آقا ڈونالڈ ٹرمپ کی سرپرستی سے استفادہ کر رہا ہے اور ٹرمپ اسے اور پاکستان کو اپنے لئے استعمال کر رہا ہے اور اس کام کیلئے پاکستانی چھٹ بھئیوں نے اسے بلینک چیک دے دیا ہے !پاکستان کو ایران پر امریکی جارحیت سے جو حادثاتی شہرت ملی ہے وہ اپنی جگہ خوب ہے اور یہ شہرت اور مقام پاکستان کے حصہ میں اس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے آئی ہے۔لیکن بجائے اس کے کہ پاکستان کے طالع آزما اس نیک نامی اور شہرت سے پڑوسی ملکوں سے اپنے تعلقات اور معاملات طے کرنے کیلئے استعمال کرتے اسے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے بروئے کار لایا جارہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق، افغانستان کی سرحد پر پاکستانی افواج کے حملہ میں کم از کم 29 افغانی ہلاک کرنے کا دعویٰ ہماری فوج کے مطابق کیا گیا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ ہلاکتیں شرپسندوں اور دہشت گردوں کی ہیں لیکن افغان حکومت یہ واویلا کر رہی ہے کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے !پاکستانی طالع آزماؤں کا رویہ ان بے ضمیر اور حمیت سے عاری چھٹ بھئیوں کا ہے جن سے شہرت یا نیک نامی سہی نہیں جاتی۔با ضمیراور غیرت مند قوم کا روپ دیکھنا ہو تو ایران کو دیکھو جس نے اپنے عزم و استقلال اور قوتِ ایمانی سے استعمار اور سامراج کو اس ہزیمت سے دوچار کیا ہے جس کا اسے تصور بھی نہیں تھا۔امریکہ نے ٹرمپ کی حماقت کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہےاور ابھی اور ادائیگی باقی ہے۔ میرے مولا علی مرتضیٰ کا قولِ صادق ہے کہ عقلمند کی زبان اس کی عقل کے تابع ہوتی ہے لیکن احمق کی عقل اس کی زبان کے نیچے ہوتی ہے۔ ٹرمپ اب بھی اس ایران کو آئے دن دھمکیاں دیتا رہتا ہے جس نے اپنے فہم و فراست سے اس کی ہر دھمکی کا وہ جواب دیا ہے جس کے بعد دانا کو ہوش آجاتا لیکن نادان تو اپنے ہی جنون میں مدہوش ہے !لیکن حقیقت اپنے آپ کو منواہی لیتی ہے۔ تو تازہ ترین اطلاعات کے بموجب، امریکہ خلیج کے عرب ممالک کی سرزمین سے اپنے فوجی اڈے اسرائیل منتقل کرنے کا کام کر رہا ہے اسلئے کہ ایران نے ان اڈوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے اور امریکی اخباری ذرائع کے مطابق، امریکہ کو نہ صر ف ہزیمت اور رسوائی اٹھانا پڑی ہے بلکہ امریکی املاک کے نقصان کا تخمینہ کم از کم پانچ ارب ڈالر بتایا جارہا ہے !ابھی تین دن پہلے ہم نے محرم کا عشرہ منایا ہے اور سید الشہداء کو ان کے استقلال، صبر اور بے مثال قربانی پر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ کربلا ہر دور، ہر عہد کیلئے وہ مینارہء نور ہے جس کی روشنی میں غیرتمند اپنی راہ کا تعین کرسکتا ہے، جیسے ایرانی قیادت نے کیا ، خاص طور پہ یزیدیت اور اس کے ظلم کے نظام کے خلاف اپنے آپ کو کمربستہ کرسکتا ہے !سید الشہداء کا لافانی پیغام پاکستانی قوم کیلئے جتنا آج موزوں ہے اتنا شاید پہلے کبھی نہیں تھا اسلئے کہ پاکستان پر وہ شر کی قوت راج کر رہی ہے جو یزیدیت کی پیداوار ہے۔ اسی تعلق سے آج کا کالم اس قطعہ پر ختم کرتے ہیں:
یزیدیت نے جہاں بھی فروغ پایا ہے
حسینیت نے وہیں اس کا سر کچل ڈالا
مرے وطن پہ بھی قابض یزیدیت کب سے
کہ جس نے ملک کا نقشہ بدل بدل ڈالا !



