Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

عاشورہ

ویسے تو محرم اسلامی کیلنڈر کا ایک مہینہ ہی ہے،عیسوی کیلنڈر کی طرح اسلامی کیلنڈر میں بھی وقت چلتا رہتا ہے مگر ہن وقت پر کچھ سنگِ میل نصب کر دیتے ہیں ماضی کے کچھ واقعات جن سے ہمارا روحانی،قلبی، اور ذہنی تعلق ہوتا ہےیہ واقعات ہمیں Inspireکرتے رہتے ہیں ہمیں سکون ملتا ہے اور کبھی کبھی ہماری خواہش ہوتی ہے کاش ہم بھی کسی تاریخی واقعہ کا حصہ ہوتے،اس واقعہ کو دیکھتے اس واقعہ کے خساروں اور منافعوں سے ذاتی طور پر واقف ہوتےاور یہ تعین کرتے کہ کون کہاں تھا، کیا کر رہا تھااور کیوں کر رہا تھا اور جو کچھ بھی ہوا اس بارے میں اس وقت کے لوگ کیا سوچتے رہے،یہ ایک انسان کی سوچ ہو سکتی ہے مگر تاریخ موجود ہے اور تاریخ ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے تاریخ واقعات کو بتاتی بھی ہے اور تجزیہ بھی کرتی ہے ،میں جب سکندرِ اعظم کی تاریخ پڑھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ کیسے ایک انسان اپنی فوجیں لے کر یونان سے چلا اور جہلم تک پہنچ گیا،سکندر ایک غیر معمولی انسان تھا اس کے اثرات اب بھی کچھ بالائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں،تاریخ جہاں ایک طرف واقعات کو بیان کرتی ہے وہاںان واقعات کے اسباب و علل کا بھی احاطہ کرتی ہے جہلم کے مقام پر سکندر اعظم زخمی ہوا اور اسے واپس جانا پڑا،مگر ہندوستان پر بہت سے اثرات چھوڑ گیا،مسلمانوں کی تاریخ اگرچہ میرے نزدیک کچھ زیادہ قابلِ فخر نہیں ،مستند تواریخ میں طبری اور ابو اسحاق کا نام آتا ہے،اور مغربی مورخین انہی تواریخ سے استفادہ کرتے ہیں،چند سال پہلے دو کتابیں منظر عام پر آئیں،یہ دونوں کتا بیں Leslie Hazalton کی لکھی ہوئی ہیں The first muslimاور After the prophet،ان دونوں کتابوں میں مصنف نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے طبری اور ابو اسحاق سے استفادہ کیا ہے،دونوں کتابوں کو history criticism کہا جا سکتا ہے جہاں جہاں مصنف تاریخ پر روشنی ڈالتا وہاں وہاں وہ تاریخ پر سوالات بھی اٹھاتا ہے،اور اس طرح تاریخ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے،سن 1300میں ابنِ کثیر نے بھی تاریخ لکھی اور تفسیر بھی ،ابنِ خلدون کی طرح ابنِ کثیر کی تفسیر اس کی تاریخ سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے جبکہ ابنِ خلدون کا مقدمہ اس کی تاریخ پر بھاری ہے،ابنِ کثیر ابنِ تیمیہ سے بہت زیادہ متاثر تھے سو ابنِ کثیر کی تاریخ اور تفسیر rationalismسے دور ہے اور ابن کثیر کی تاریخ و تفسیر پر عقاید کے بھی بہت اثرات ہیں،اس تمام تمہید کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم تک جو بھی بات تاریخ کے حوالے سے پہنچی ہے اور تاریخ اور عقاید کوگڈ مڈ کر دیا گیا ہے،تاریخ کے جو حوالے سنی مسلک کے لوگ دیتے ہیں وہ اہلِ تشیع قبول نہیں کرتے اور جن حوالوں پر اہلِ تشیع کا اجماع ہے وہ سنیوں کو قابلِ قبول نہیں،سنیوں میں کئی گروپ ہیں آج کل وہابی بھی اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں ،ایک زمانے میں کراچی میں وہابی مولویوں نے ایک تنظیم بنا لی تھی اور اپنے آپ کو سوادِ اعظم کہنا شروع کر دیاحالانکہ سنی اپنے آپ کو سوادِ اعظم کہا کرتے تھے یہ وہابی مولویوں کی ایک چال تھی کہ عام ان پڑھ سنی مسلمان کو فریب دیا جا سکے ،اس زمانے میں دینی رہنماؤں کی جانب سے جھوٹ اور فریب ایک معمول کی بات ہے،محرم کی دس تاریخ کو یومِ عاشور منایا جاتا ہے یہ دن ساری مسلم دنیا میں اسی روز منایا جاتا ہے، یہ دن ملال کا نشان ہے کہ اس دن حسین کا قتل ہوا،تقسیم سے پہلے بھی یہ دن حزن و ملال لے کر آتا تھا ،سنی اور اہلِ تشیع یہ دن مناتے تھے سنی اہلِ تشیع کی مجالس میں جاتے تھے،جو اہتمام اہلِ تشیع کے ہاں ہوتا سنی گھرانوں میں اس سے جداگانہ
ہر گز نہ تھا محبت اور رواداری کا زمانہ تھا ،سنی اور شیعہ گھرانوں میں رشتے بھی ہوتے تھے،ایک دوسرے کو اپنے مقدس ایام منانے کی آزادی ہوتی تھی ،نہ کوئی رنجش نہ تفرقہ،تقسیم کے بعد بھی یہ فضا برقرار رہی،ماتمی مجالس بڑے ہال میں منعقد ہوتی تھی بالائی منزل خواتین کے لئے مخصوص ہوتی تھی،اور سنی ان مجالس میں شرکت کرتے تھے ،رشید ترابی محرم کی مجالس پڑھا کرتے تھے اور شہر کے ادیب و شاعر ان محفلوں میں شرک ہوتے تھے وہیں بیشتر معروف شعراء سے تعارف ہوا،پھر سارا دن ان تقاریر پر تبصرے ہوتے، نہ لڑائی نہ جھگڑا،رشید ترابی کی شامِ غریباں کی مجلس ریڈیو سے نشر ہوتی تھی اور سنی گھرانوں میں بتیاں گل کرکے یہ مجلس سنی جاتی تھی کراچی یونیورسٹی میں شعبہء اسلامیات کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ایک شیعہ عالم تھے نام بھول رہا ہوں ان کی مجلس میں شہر بھر کے دانشور موجود ہوتے تھے ان کی مجلس بہت عالمانہ ہوتی تھی انہی مجالس سے اندازہ ہوا کہ شیعہ عالم فلسفے اور لاجک کا استعمال خوب کرتے ہیں،اور یہی سبب تھا کہ محرم میں قدم خود بخود ان مجالس کی طرف اٹھ جاتے ،یہ کالج اور یونیورسٹی کا زمانہ تھا،انہی مجالس میں ہمیں لکھنؤکےدو عالم دین کا تعارف ہوا، نبن صاحب اور کبن صاحب ،وہ کیسٹ کا زمانہ تھا، ہمارے کچھ شیعہ دوستوں نے ہمیں ان کی تقاریر کی کیسٹ فراہم کیں،یہ سیکھنے کی عمر تھی اسی عمر میں یہ پتہ چلا کہ علم کہیں سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے انہی مجالس کا فیض تھا کہ تاریخ کا شوق ہوا اور تاریخ طبری اور تاریخ ابو اسحاق پڑھنے کا موقع ملا، ایک دوست نے نہج البلاغہ بھی فراہم کردی،سنی علماء کبھی تاریخ ابنِ کثیر اور ابن تیمیہ سے آگے نہیں بڑھے سنی علماء کے ہاں عقیدہ اتنا شدید تھا کہ وہ کوئی لاجک سننے کے لئے تیار نہ تھے،ایک واقعہ کاذکر میںنے اپنی کتاب لا اکراہ میں کیا ہے،راولپنڈی کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد امام صاحب کے حجرے میں علاقے کے بڑے donors کی تواضع کی جاتی اور ان کو کھلانے پلانے کی ذمہ داری چند لڑکوں کے ذمہ تھی جس میں ہم بھی شامل تھی بات چل نکلی جنید بغدادی کی امام صاحب فرما رہے تھے کہ جنید بغدادی دریا کے کنارے موجود کہ دیکھا کہ ایک بچھو دریا میں گر گیا ہے اور وہ کنارے پر آنے کی شش کر رہا
ہے جنید بغدادی نے ہاتھ پنی میں ڈالا اور بچھو کو ہاتھ پر اٹھا لیابچھو نے ڈنک مارا اور بچھو پھر دریا میں گر گیا جنید بغدای نے پھر اسے ہاتھ پر اٹھانے کی کوشش کی اور اس نے پھر ڈنک مار دیا،مریدین نے کہا کہ بچھو تو ہر بار ڈنک مارے گاتو جنید نے کہا وہ اپنی عادت سے باز نہیں آسکتا میں اپنی عادت سے باز نہیں آسکتا،حاضرین داد کے ڈونگرے برسا رہے تھے ،اس وقت میرے زبان سے نکلا کہ بچھو کو کسی چھڑی کی مدد سے بھی نکالا جا سکتا تھا میرا جملہ ختم ہوا تھا کہ ایک زرودار طمانچہ میرے چہرے پر پڑا اور آنکھ لہو رنگ ہو گئی،یہ وہی جنید بغدادی ہیں جنہوں نے خلیفہ کے دربار میں منصور حلاج کے قتل کا فتوی جاری کیا،کم لوگوں کو جنید بغدادی سے واقفیت ہوگی مگر منصورحق گوئی کا ستعارہ بن گیااس بار محرم شروع ہوا تو سوشل میڈیا پر اہلِ تشیع کے خلاف ایک بھرپور اور منظم مہم شروع ہوگئی،گالم گلوچ اور مغلظات، معاویہ اور یزید کی شان میں قصیدے، لوگ معاویہ کو امیر المومنین کہتے نہ تھے اور یزیدعلیہ السلام بھی کہا گیا، کچھ لوگ لٹھ لے کر نکل آئے کہ صحابہ کی شان میں گستاخی کی تو زبان کھینچ لی جائے گی،پاکستان میں پہلا فرقہ ورانہ فساد مودودی نے کرایا،جنرل ضیا کے دور میں حکومت کی سرپرستی میں سپاہِ صحابہ قائم کی گئی اور مہم چلی کہ اہل تشیع کو کافر قرار دے دیا جائے اس کے مقابلے میں سپاہ محمد بنائی گئی اور پھر لشکر جھنگوی کا ظہور ہوا اور کئی سال تک سعودیہ کی فنڈنگ سے فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے،شاہ بلیغ الدین نے اہلِ تشیع کے خلاف تقاریر شروع کیں اور آگ بھڑکتی گئی اور ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں،سوشل میڈیا پر یہ مہم شروع کرنے والے overseas social media keyboard wrriors تھے،جن کا علم محدود اور زبانیں دراز،میں عصبیت سے بہت دور ہوں امن کا داعی رہا ہوںمجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر ہندو بھی میرا ہمسایہ ہوتا اور وہ ہنومان کی موت کا غم مناتا تو میں اس کے غم میں بھی شریک ہو جاتا خون خرابہ مجھے تکلیف دیتا ہے،ملک سے باہر بیٹھے ہوئے یہ عناصر ملک میں فسادات کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے حکومت کو اس کا علم تھا سو سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کئے گئے اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے بچایا گیا،اور ہم خون خرابے سے بچ گئے ،بہر حال نفرت کا بیج بودیا گیا تھاوہ پھل دے رہا ہے،اور اس زہریلے پھل کو چکھنے سے لوگ نفرت کی آگ میں جلنے کے تیار ہو جاتے ہیں،آپ تاریخ کو بدل نہیں سکتے، یزید کو کسی تاریخ نے ہیرو نہیں بتایا مگر حسین عزم، اولوالعزمی، مکالمے، اور مزاحمت کا استعارہ ہے دنیا کے بیشتر دانشوروں اور مورخین نے حسین کو سلام پیش کیا ہے اور جوش کی یہ بات درست ہے کہ’’ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین‘‘،حسین صرف مسلمانوں کا نہیں حسین اہلِ تشیع کا نہیں ہے حسین ساری دنیا کا ہے حسین کے معاملے میں مذہبی تعصب کام ہی نہیں آتا، حسین سکیولر سوچ کا ہیرو ہے اور حسین تاریخ کا وہ ہیرو ہے جو مزاحمت کا علم بن چکا،حسین تاریخ کا پہلا حریت پرست ہے جس نے اپنے خون سے حریت کی تاریخ رقم کی ہے سوشل میڈیا پر یزید کو علیہ السلام کہہ کر تاریخ سے نہیں جیتا جا سکتا،تاریخ اور لاجک اپنا فیصلہ سنا چکی،سوشل میڈیا پر شور کرنے، گالم گلوچ کرنے سے کربلا پر تبصرے تبدیل نہیں کئے جا سکتے ،عاشور کی اہمیت کو گھٹایا نہیں جا سکتا،معتدل مزاج علماء اس بات پر متفق ہیں،مگر کیا کیجئے کہ بے ایمانی کے مرتکب ایمان کا لیبل ماتھے پر لگائے پھرتے ہیں اور جن کو دین کی ابجد نہیں معلوم وہ دین دار بن گئے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button