Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

امن معاہدہ، آگ کے بادل: امریکہ ایران کا سانپ سیڑھی کھیل!

دس دن۔ بس دس دن کافی تھے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ کاغذ پر لکھا معاہدہ اور زمین پر بہتا خون دو الگ چیزیں ہیں۔25 جون کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا ڈرون ایور لولی جہاز کی چھت پر گرا۔ 26 جون کو امریکہ نے ایران کے ساحلی ریڈار اور میزائل ذخائر پر حملے کیے۔ 27 جون کو ایران نے قطر کے Al Udeid ایئربیس، کویت کے علی السالم بیس اور بحرین کو نشانہ بنایا۔ اسی روز قطری خام تیل سے بھرا پاناما کا ٹینکر M/T Kiku بھی ضرب کی زد میں آیا۔ 11000 سے زیادہ ملاح آبنائے میں پھنسے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے انہیں نکالنے کا عمل روک دیا ہے۔عسکری اور سفارتی دنیا میں اس عمل کو Escalation Ladder کہتے ہیں، وہ سیڑھی جو ہمیشہ نیچے جاتی ہے۔ ایک فریق کارروائی کرتا ہے، دوسرا جواب دیتا ہے، پھر پہلا مزید قدم اٹھاتا ہے اور یوں کشیدگی بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز اس وقت اسی سیڑھی کے کسی پائیدان پر کھڑی ہے اور سوال یہ ہے کہ یہ کس نقطے پر رک جائے گی۔یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے، پہلے یادداشتِ تفاہم کے ان حصوں کو دیکھنا ضروری ہے جو اختلاف کی بنیاد بنے۔ معاہدے کا پانچواں نکتہ کہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے درمیان طے ہوگا۔ ایران اسے اپنے ساحلی اختیار کا اعتراف سمجھتا ہے۔ امریکہ اسے صرف عارضی مشاورت سمجھتا ہے۔ جب ایور لولی امریکی منظور کردہ راستے سے گزری جو عمان کے ساحل کے قریب تھا اور ایران کے نقشے میں نہیں تھا، تو پاسدارانِ انقلاب نے اسے اپنے اختیار کو چیلنج سمجھا اور جواب دیا۔ ایران کے ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ نے لکھا کہ آبنائے ہرمز ایران کی حکومت میں ہے۔ کے ڈی وینس نے کہا فون اٹھاؤ، مگر تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران کو کیا نتائج ملیں گے تو کہا: آپ کو پتہ چل جائے گا۔تین جملے۔ تین الگ لہجے۔ ایک معاہدہ جو ابھی دس دن پرانا ہے۔مگر آبنائے کا تنازعہ صرف راستوں کا جھگڑا نہیں۔ اس کے پیچھے لبنان کا وہ معاملہ ہے جو اس پورے بحران کا سب سے نازک پہلو بنتا جا رہا ہے۔ معاہدے کا پہلا نکتہ کہتا تھا کہ تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہوگی، اس کے بعد اسرائیلی افواج کے انخلا پر بات ہوگی۔ مگر زمین پر کیا ہوا؟ امریکہ نے لبنانی فوج کو جنوبی لبنان میں تعینات کر کے حزب اللہ کو غیر مسلح کرانے کا منصوبہ بنایا، جبکہ اسرائیلی افواج بھی وہیں موجود رہیں اور اسے حفاظتی زون کا نام دیا گیا۔ نیتن یاہو نے اسے تاریخی کامیابی قرار دیا۔ ناقدین کہتے ہیں اس سے لبنانی فوج اور حزب اللہ کے درمیان خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایران اسے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے اور لبنان ایران کے لیے ایک دو دھاری تلوار ہے، اگر وہ خاموش رہا تو بعد میں یہ مؤقف اختیار کرنا مشکل ہوگا کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتا۔یہاں ایران کے اندر کی کہانی بھی سمجھنا ضروری ہے جو باہر سے نظر نہیں آتی۔ ایران میں پہلے سے ایک مضبوط حلقہ تھا، جس میں اعلیٰ مذہبی قیادت بھی شامل تھی، جو مسلسل کہتی رہی کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ صدر اور وزیر خارجہ نے یہ دلیل دے کر مذاکرات کی راہ اختیار کی کہ سفارت کاری ملک کو بہتر مستقبل دے گی۔ اب اگر لبنان میں اسرائیلی موجودگی جاری رہی، آبنائے پر امریکی دباؤ بڑھتا رہا اور بحرین میں ایران مخالف مشترکہ بیانات آتے رہے، تو سخت گیر عناصر یہی کہیں گے کہ انہوں نے پہلے خبردار کیا تھا۔ اور ایران کے اندر یہ آواز جتنی بلند ہوگی، صدر کے لیے لچک دکھانا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔اسی 25 جون کو، جب دنیا کی نگاہیں آبنائے ہرمز پر تھیں، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے فاکس نیوز پر آئے اور کہا کہ امریکہ نے اٹلی اور رومانیہ کے فوجی اڈوں سے ایران پر سینکڑوں بمبار بھیجے۔ چند گھنٹوں بعد اٹلی کے وزیر خارجہ نے کہا: نہیں۔ ہم نے کبھی اجازت نہیں دی۔ وزیر دفاع نے تصدیق کی۔ ایک ہی اتحاد کے دو سینئر ترین عہدیدار، ایک ہی دن، براہ راست ٹیلی ویژن پر ایک دوسرے کی تردید کر رہے تھے۔اٹلی کو مجبور کیا ایران کی اس قانونی دلیل نے۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 3314 کہتی ہے کہ جو ریاست اپنا علاقہ جارحیت کے لیے دے، وہ خود بھی جارح قرار پاتی ہے۔ اٹلی کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داری سے بچنے کے لیے انکار کرنا پڑا، چاہے اس کا مطلب نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی تردید ہی کیوں نہ ہو۔ رومانیہ ابھی خاموش ہے، اور یہ خاموشی بھی ایک جواب ہے۔ دونوں جانب سے دباؤ کے باعث وہ تاحال یہ طے نہیں کر پا رہا کہ کس صف میں کھڑا ہو۔ ایک سلطنت صرف طاقتور ہونے سے نہیں چلتی، بلکہ طاقتور نظر آنے سے چلتی ہے۔ جب اتحادی علی الاعلان ایک دوسرے کی تردید کرنے لگیں تو اس طاقت کا ہالہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اسی نمائشی اتحاد میں پڑنے والی پہلی نمایاں دراڑ ہے، جو وفاداری پر نہیں بلکہ خوف پر قائم تھی اسی دن خلیج کی چھ ریاستوں نے امریکہ ایران معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ یہ وہی ریاستیں ہیں جنہیں اسرائیل نے چار دہائیاں اپنے کیمپ میں لانے کی کوشش میں لگائیں۔ ایک ہی دن میں اسرائیل نے دونوں چیزیں کھو دیں: یہ وہ خلیج نہیں رہی جو 2020 میں ابراہیم معاہدوں کے وقت تھی، جب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو خطے کا مستقبل سمجھا جا رہا تھا۔ یہ وہ خلیج ہے جو ایران کے میزائلوں کی پہنچ دیکھ چکی ہے، جس نے اپنی توانائی کی تنصیبات اور بحری راستوں کے خطرات کو قریب سے محسوس کیا ہے، اور جس نے یہ بھی جان لیا ہے کہ ہر بحران میں بیرونی سکیورٹی چھتری مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اسی لیے آج خلیجی ریاستیں اپنے مفادات کا حساب پہلے سے کہیں زیادہ خود لگانے پر مجبور ہیںسعودی عرب اور UAE کے راستے الگ ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب ایران سے تعلقات معمول پر لاتے ہوئے پاکستان اور ترکی کو توسیع شدہ کردار دینا چاہتا ہے۔ سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025 کو پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کیا جو قطر پر اسرائیلی حملے کے صرف چند دن بعد تھا۔ UAE کا رویہ زیادہ سخت ہے، وہ ایران کو مشتبہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قطر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے بحرین پر حملے کی مذمت کی مگر پس پردہ ایران کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ خطے میں امریکی موجودگی میں اضافے کے خواہش مند نہیں۔ یہ دوہری سفارت کاری ہے اور تہران ان دونوں پیغامات کو بیک وقت پڑھ رہا ہے۔ایران کی 40 ارب ڈالر سالانہ کی آبنائے فیس کی تجویز نے انہی خلیجی ریاستوں کو ایک ایسی چوراہے پر کھڑا کر دیا ہے جہاں ایک طرف روبیو کا انکار ہے اور دوسری طرف 40 ارب ڈالر میں حصہ ہے۔ عمان کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ بن چکا ہے۔ روبیو نے اسے خطرناک نظیر کہہ کر مسترد کیا، مگر قطر یا کویت کے نقطہ نظر سے حساب کیا ہوگا؟ ایران کو جنگ فوجی طور پر جیتنے کی ضرورت نہیں، اسے صرف معاشی طور پر جیتنا ہے۔یورپ کا کردار بھی واضح ہو رہا ہے۔ اٹلی کے انکار نے ایک نئی سمت دکھائی ہے۔ یورپی ممالک ایران سے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، اسرائیل کی لامحدود فوجی حمایت انہیں قبول نہیں۔ فرانس کے میکرون نے جنگ کے دوران ثالثی کی کوشش کی۔ جرمنی نے ایران کو جنگ بندی کا احترام کرنے کی ہدایت دی مگر یہ بھی کہا کہ آبنائے کھلنی چاہیے۔اور جب سب اس طرف دیکھ رہے تھے تو روس خاموشی سے ماہانہ 2.3 ارب ڈالر اضافی تیل آمدنی کما رہا تھا۔ کازان میں آسیان ممالک کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو رہے تھے۔ ایران کو بشہر جوہری پلانٹ اور راجستھان ریلوے کے ذریعے روسی بنیادی ڈھانچے پر منحصر کیا جا رہا تھا۔ فلپائنی صدر کے ساتھ ملاقات میں 24 قیدی رہا ہو رہے تھے، فلپائن جو امریکہ کا معاہدے کا اتحادی ہے۔ پوتن نے بغیر ایک گولی چلائے جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی اتحادی کے دل تک رسائی حاصل کر لی۔ چین نے تقریباً کچھ نہیں کہا، تقریباً کچھ نہیں خرچ کیا اور اپنا پندرہواں پانچ سالہ توانائی منصوبہ شائع کر دیا، چین مواقع 2.0 متعارف کرایا اور بنگلہ دیش سے تعلقات نئے دور تک بلند کیے۔ امریکہ آخری لڑائی لڑ رہا ہے، چین اگلی معیشت بنا رہا ہے۔ سن ژو نے کہا تھا کہ بغیر لڑے جیتنا سب سے بڑی مہارت ہے۔امریکہ کی اصل تشویش یہ ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں پھنسا رہے یا چین کے ساتھ اصل مقابلے کے لیے وسائل بچائے۔ امریکی محکمہ جنگ نے ابتدائی مرحلے میں 40 ارب ڈالر خرچ کیے اور 87 6.ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ مانگی، یعنی مجموعی طور پر 6.127 ارب ڈالر۔ یہ رقم افغانستان کے پہلے سال سے زیادہ ہے۔ کئی اہم دفاعی نظاموں میں ذخائر معمول سے نمایاں کم ہو چکے ہیں۔ اسٹریٹجک تیل کے ذخائر بھی کم ہیں۔ اور مہنگائی کا خطرہ مڈٹرم سے پہلے سیاسی خودکشی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے امریکہ معاہدہ توڑنے کی پوزیشن میں نہیں، اسلئے وہ معاہدے کو اپنی شرائط پر موڑنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو امریکی وزیر خارجہ روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کے مختلف لہجوں میں نظر آتا ہے، یہ اندرونی ٹکراؤ نہیں، یہ مختلف حلقوں کو ایک ساتھ خوش رکھنے کی حکمتِ عملی ہے۔اب پاکستان پر آتے ہیں۔ برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میری زندگی میں دو بہت اہم لوگ ہیں، ایک بھارتی اور ایک پاکستانی۔ یہ جملہ پاکستان کی چار ماہ کی محنت اور استقامت کا اعتراف تھا۔ پاکستان کی مجبوری واضح تھی: توانائی کا 85 فیصد خلیج سے آتا ہے، جنگ کی وجہ سے حکومت کو چار دن کا ہفتہ اور اسکول بند کرنے پڑے، سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی امداد دی۔ پاکستان کے پاس ثالثی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے وہ خلا پُر کیا جب ٹرمپ انتظامیہ کسی ثالث پر اعتماد نہیں کرتی تھی جبکہ ایران بھی پاکستان کو قابل قبول سمجھتا تھا۔ 22 ایرانی ملاح کراچی میں ایرانی قونصل خانے کو منتقل کیے گئے اور پاکستانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی۔ یہ ایک چھوٹی خبر ہے مگر اس کا مطلب بڑا ہے: پاکستان ابھی بھی دونوں طرف کا قابل اعتماد چینل ہے۔مگر یہ جیت بے قیمت نہیں آئی۔ UAE نے 15000 سے زیادہ پاکستانی شیعہ مسلمانوں کو ملک بدر کیا۔ اسرائیلی زائینسٹ کی حمایت کرنے والے امریکی سینٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کی ثالثی کو مسئلہ دار قرار دیا۔ اور سب سے بڑا سوال جو الجزیرہ نے اٹھایا: اس ثالثی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ادارہ پاکستانی عوام ہیں یا پاکستانی فوج؟ ممکنات بھی ہیں: IPI پائپ لائن بحال ہوئی تو سستی گیس، ٹرانزٹ فیس اور 18 ارب ڈالر کے جرمانے سے نجات۔ سعودی پاکستان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ستمبر 2025 میں ہو چکا ہے۔ گوادر اور چاہ بہار کے تعاون کے دروازے کھل رہے ہیں۔ مگر یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان محض ماضی کی ثالثی پر فخر کرنے کی بجائے اگلے بحران کی تیاری کرے۔آگے کیا ہوگا؟ تین نشانیاں دیکھیں۔ پہلی رومانیہ ہے۔ اگر رومانیہ نے بھی اٹلی کی طرح انکار کیا تو نیٹو کی اندرونی ساکھ کا مسئلہ سنگین ہو جائے گا۔ دوسری جانب قطر اور کویت کا رویہ ہے۔ اگر انہوں نے مستقبل کے ایران مخالف GCC بیانات پر دستخط کرنے سے گریز کیا یا ایران کے ساتھ کسی بحری معاملے پر بات چیت شروع کی تو سمجھ لیں خلیج کے سفر کی سمت طے ہو رہی ہے۔ تیسری امریکی دس سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار ہے۔ اگر یہ 5.5 فیصد سے اوپر گئی تو امریکہ کو ایران معاہدے کو ہر حال میں کامیاب بنانا پڑے گا کیونکہ تیل مہنگا ہوا تو مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی اسکی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔اور اسرائیل؟ 92 فیصد اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے ان کی جیت سائن کر کے واپس کر دی۔ پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ ایم او یو کے کسی بھی آرٹیکل کی خلاف ورزی کا جواب فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔ یعنی اسرائیل اور ایران دونوں کا اگلا قدم معاہدے کو مزید آزمانا ہے۔آئندہ دو ماہ میں کسی بڑی ہمہ گیر جنگ کا امکان کم ہے۔ البتہ محدود جھڑپیں، وقتی کشیدگی اور وقفے وقفے سے سفارتی بحران آتے رہیں گے جنہیں بعد میں مذاکرات سے قابو میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ نومبر کے بعد حالات ایک نئے موڑ پر آ سکتے ہیں جب امریکی داخلی سیاسی دباؤ مزید بڑھے گا۔ رابرٹ پیپ جیسے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کثیرالقطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، ایران ایک بڑی علاقائی طاقت بنے گا، ترکی زیادہ فعال ہوگا اور اسرائیل کی وہ بالادستی جو ابراہیم معاہدوں سے قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ اور یہ تبدیلی آسان نہیں ہوگی، پرانی طاقتیں اپنی جگہ آسانی سے نہیں چھوڑتیں۔تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی نیا عالمی نظام جنم لیتا ہے تو وہ پرانے نظام سے تصادم کے بغیر وجود میں نہیں آتا۔ موجودہ بحران اسی بڑی تاریخی تبدیلی کا ایک حصہ ہے۔ یہ معاہدہ مکمل نہیں ٹوٹے گا، مگر یہ آہستہ آہستہ جلتا رہے گا۔ ایک ڈرون ایک دن، ایک جوابی حملہ اگلے دن، اور ان دونوں کے درمیان پھنسے 11000 ملاح جن کا انتظار کوئی نہیں جانتا کب ختم ہوگا۔امریکہ سانپ سیڑھی کے کھیل میں ایک سیڑھی چڑھ کر ایسی جگہ آ کھڑا ہوا ہے جہاں آگے سانپ کا منہ کھلا ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ وہ نیچے گرے گا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کتنا نیچے جائے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button