Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

متحدہ عرب امارات میں پاسپورٹ اورویزہ سروسز بند،ہزاروں بھارتی رل گئے

ابوظبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھارتی شہریوں کو پاسپورٹ، ویزا، تصدیقِ دستاویزات اور دیگر قونصلر خدمات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔بھارتی سفارت خانے نے عارضی طور پر یہ خدمات براہِ راست اپنے دفاتر سے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس کی بنیادی وجہ بھارت میں جاری ایک قانونی تنازع سامنے آئی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سفارت خانہ ابوظبی اور بھارتی قونصل خانہ دبئی نے اعلان کیا ہے کہ 2 جولائی سے پاسپورٹ، ویزا، اٹیسٹیشن اور دیگر قونصلر خدمات محدود پیمانے پر براہِ راست فراہم کی جائیں گی۔ درخواست گزاروں کو بغیر اپائنٹمنٹ "واک اِن” کی بنیاد پر صبح 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں بھارتی قونصلر خدمات پہلے بی ایل ایس انٹرنیشنل اور ایس جی آئی وی ایس کے ذریعے فراہم کی جا رہی تھیں، تاہم ان کمپنیوں کے معاہدے 30 جون 2026 کو ختم ہو گئے۔نئے ٹینڈر کے تحت الہند ٹورز اینڈ ٹریول کو بھارتی قونصلر درخواست مراکز کا نیا سروس فراہم کنندہ منتخب کیا گیا تھا اور اسے یکم جولائی سے خدمات سنبھالنی تھیں، لیکن یہ منتقلی قانونی کارروائی کے باعث روک دی گئی۔ذرائع کے مطابق بھارت کی دہلی ہائی کورٹ میں دو کمپنیوں نے ٹینڈر کے تکنیکی جائزے اور نمبر دینے کے طریقہ کار کو چیلنج کیا۔ بعد ازاں یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ بھی پہنچ گیا، جہاں عدالت نے موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے حتمی فیصلے تک کسی نئی تبدیلی سے روک دیا۔اسی عدالتی حکم کے باعث نئی کمپنی باضابطہ طور پر خدمات سنبھال نہیں سکی، جبکہ سابقہ کمپنیوں نے بھی اپنے مراکز عوام کے لیے بند کر دیے، جس سے قونصلر خدمات میں عارضی خلل پیدا ہو گیا۔بھارتی سفارتی مشنز نے اس صورتحال کو ’عارضی انتظام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے بعد نئی کمپنی کو خدمات منتقل کرنے سے متعلق مزید اعلان کیا جائے گا۔اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022 سے دسمبر 2024 کے دوران متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفارتی مشنز نے تقریباً 15 لاکھ 80 ہزار قونصلر خدمات فراہم کیں، جن میں صرف 2024 کے دوران 3 لاکھ 64 ہزار سے زائد پاسپورٹ سے متعلق خدمات شامل تھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button