Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

فاتح کون ؟

امریکہ اور ایران نے چند دن پہلے جس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں اس کے توسط سے دونوں ممالک نے کئی پیچیدہ معاملات طے کر لئے ہیں مگر ایران کے جوہری پروگرام کو اگلے ساٹھ دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ایران اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھ سکے گا یا نہیں۔ وہ افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گا یا نہیں‘ یہ معاملات گیارہ برس پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان زیر بحث رہے تھے۔ اسوقت انہیں طے کرنے کے لیے اوباما انتظامیہ کو ڈیڑھ سال تک مذاکرات کرنا پڑے تھے۔ اب وہی گمبھیر مسائل ساٹھ دن میں کیسے طے ہوں گے۔ چودہ جون کو جس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے اسکے چودہ نکات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نے اتنے فوائد حاصل کر لئے ہیں کہ اب وہ کوئی نیا معاہدہ نہ بھی کرے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسکی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہو چکی۔ اب وہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات اسی قیمت پر فروخت کر سکتا ہے جس پر دوسرے ممالک کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کے پہلے پیراگراف میں لبنان میں جنگ بندی کا ذکر تین مرتبہ ہوا ہے۔ اسکی رو سے اسرائیل اگر لبنان پر حملہ کرے گا توایران اس معاہدے کو منسوخ کر سکے گا۔ پاسداران انقلاب یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ لبنان پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیں گے۔ اس معاہدے کے چھٹے پیراگراف کے مطابق امریکہ اور چند خلیجی ممالک ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے تین سو بلین ڈالر کا ایک فنڈ بھی قائم کریں گے۔امریکہ نے ایران کی جغرافیائی حدود کو تسلیم کرنے پر آمادگی کا اظہاربھی کر دیا ہے۔ وہ اپنی افواج کو ایران کے ساحلوں سے تیس میل کے فاصلے پر لے جائیگا۔ ایران کو اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ امریکہ اس پر لگائی ہوئی تمام اقتصادی پابندیاں ختم کر دے گا۔ اس معاہدے کے دسویں پیرا گراف کے مطابق ایران اب اپنا تیل فروخت کرنے کے لیے ڈالر اکائونٹ استعمال کر سکے گا۔ گیارہویں پیرا گراف میں لکھا ہے کہ ا مریکہ ایران کے تمام منجمد اثاثے ایک ایسے اکائونٹ میں منتقل کر دے گا جہاں سے ایران کا سینٹرل بینک انہیں دوسرے ممالک کو ادائیگیوں کے لیے استعمال کر سکے گا۔ لگتا ہے کہ ایران جو رعائیتیں حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں سے بیشتر اسے مل گئی ہیں۔ اب اس نے جو کچھ دینا ہے اس پر بات ہو گی۔ تہران حکومت کچھ دینے کے معاملے میں کتنی سخت گیر ہے اسے امریکہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ نظر یہ آ رہا ہے کہ باقیماندہ معاملات کو طے کرنے کے لیے ساٹھ دنوں کا عرصہ بہت کم ہو گا۔ اس عرصے میں اگر مسائل حل نہیں ہوتے تو صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دوبارہ حملے کا آپشن موجود ہے۔ مگر کیا وہ ایسا کر سکیں گے۔ اسکا جواب نفی میں اس لیے ہے کہ ریپبلیکن پارٹی چار ماہ بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے بہت پہلے جنگ ختم کر کے مہنگائی اور افراط زر میں کمی کرنا چاہتی ہے۔ منگل کے روز سینٹ نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی روکنے کی قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کی۔ سینٹ میں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے ۔ اس لیے اس ایوان میں صدر ٹرمپ کے خلاف قرارداد منظور ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اب انکی گرفت اپنی جماعت پر کمزور ہو گئی ہے۔یہ قرارداد ایوان نمائندگان نے جون کے شروع میں منظور کر لی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اس نئے قانون کو خاطر میں لاتے ہیں یا نہیں۔ وہ اگر ایسا نہیں کرتے تو انہیں اپنی جماعت کی طر ف سے مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ دوسری طرف خلیجی ممالک بھی ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے حملوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ انہیں پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ صدر ٹرمپ پر اس جنگ کو ختم کرنے کا اتنا دبائو ہے کہ وہ اس سمت میں پیشرفت کرنے سے گریز کریں گے۔ وہ اگر ایران پر حملے کا آپشن استعمال نہیں کرتے تو انہیں ایسا معاہدہ کرنا پڑے گا جو انکے عقابی دوستوں کو ناپسند ہو گا۔ کسی ایسے معاہدے پر دائیں اور بائیں بازو کے دانشور ابھی سے اعتراض کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں امکان یہی ہے کہ 60دن کی مدت میں توسیع کر دی جائے گی اور یوں غزہ معاہدے کی طرح ایران جنگ کے قضیے کو بھی قالین کے نیچے سرکا دیا جائے گا۔ امریکہ میں یوں بھی نومبر میںہونے والے وسط مدتی انتخابات کی سرگرمیاںزور پکڑ رہی ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے امیدوار انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں۔یوں بین الاقوامی مسائل رفتہ رفتہ پس منظر میں چلے جائیں گے۔ ایران جنگ اگر امریکی میڈیا کی سکرین سے غائب ہو جاتی ہے تو اسکا فائدہ صدر ٹرمپ اور ایران دونوں کو ہو گا۔ تہران حکومت ہمیشہ کی طرح مذاکرات کو طول دینے کی کوشش کرے گی اور صدر ٹرمپ اس جھمیلے سے بیزار ہو کر اپنی پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں شامل ہو جائیں گے۔ ایران کیونکہ 14جون کے معاہدے میں کافی مراعات حاصل کر چکا ہے اس لیے وہ اس جنگ کا فاتح ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے مگر اسکے داخلی حالات کسی بھی وقت پاسداران انقلاب کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایران کے عوام نے جس صبر اور حوصلے کے ساتھ بے پناہ معاشی مشکلات کا سامنا کیا ہے اسکی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ کیا وہ امن و آشتی کی زندگی نہیں گذارنا چاہتے۔ وہ کب تک اس ناتمام جنگ کی چکی میں پستے رہیں گے۔ یہ سوالات تہران حکومت کے لیے پریشان کن ہوں گے۔ اسے اقتصادی پابندیوں کے ختم ہونے اور منجمند اثاثے حاصل کرنے کا انتظار ہوگا۔ مگر ایک تباہ شدہ ملک کی تعمیر نو کے لیے کیا یہ اثاثے کافی ہوں گے۔ ایران کوحزب اللہ‘ حماس اور حوثیوں کی معاونت کے لیے بھی زر کثیر صرف کرنا پڑے گا۔ ان حالات میں یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کے تمام فریق نہ صرف شکست خوردہ ہیں بلکہ تھک ہار کر سستانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ بے مقصد جنگیں اسی طرح اختتام پذیر ہوتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button