Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

یہ عورت!

چلیں پہلے تو مبارک باد قبول کریں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان Memorandum of understanding پر اس جمعہ کو دستخط ہو جائیں گے یہ مفاہمتی یاداشت ہے کوئی Agreement یا معاہدہ نہیں اس دستاویز پر اگلے ساٹھ دن میں مذاکرات ہونے ہیںMemorandum of Understandingکے چودہ نکات سامنے آگئے ہیں جن پر دیسی تجزیہ نگار عقل و دانش کی نہریں ندیاں بہا رہے ہیں ،وہ جو چودہ نکات ہیں ان پر پورا کالم لکھا جا سکتا تھا مگر سوچا اس ہفتے عورت کو موضوع بنا لیا جائے،عورت کی طرح یہ موضوع بھی ہم کالم نگار نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ سب سے زیادہ بکنے والی چیز تو سیاست ہے اور پاکستان میں یار لوگ کہتے ہیں کہ نیوزچینل،ٹاک شوز،مردوں کے لئے entertainmentہے مرد حضرات خبریں سنتے ہیں ٹاک شوز دیکھتے ہیں کھانا کھاتے ہیں دو نفل نماز ادا کرتے ہیں اور سو جاتے ہیںکیا کیا جائے یہی مردوں کے سیاسی رویئے ہیں،سیاسی رویوں پر شکوہ کیوں، سماجی، معاشرتی ،اور مذہبی رویئے بھی زمانے سے نرالے ہیں،پچھلے دنوں کوئٹہ بلوچستان میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا،واقعہ کی تفضیل میں کیوں جاؤں کہ واقعہ کا اہم پارٹ یہی ہے کہ عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا،یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا اس سے پیشتر بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں، ذرا سی ہاؤ ہو اور پھر خاموشی،اربابِ اختیار کی کان پر جوں نہیں رینگتی،اورجوں کیوں رینگے کہ تیزاب پھینکنے والے صاحبانِ اقتدار کے چہیتے ہوتے ہیں،اور کس کی مجال کہ صاحبانِ اقتدار کے چہیتوں پر ہاتھ ڈال سکے،سو تھوڑی سی پولیس کی بھاگ دوڑ اور معاملہ ٹھپ اور فائل دبا دی جاتی ہے پراسیکیوشن خرید لی جاتی ہے ،نور مقدم کیس کا فیصلہ اس لئے بھی ہو گیا کہ نور مقدم کے والد ایک با اثر شخص تھے،مگر موٹر وے کیس کے بارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں،اس کیس میں پولیس کی جانب سے victim blamingکی کوشش بھی کی گئی،پولیس کے ایک ذمہ دار افسر نے ایک سوال کے جواب میں یہ کہا تھا کہ وہ عورت رات کے اس پہر اس موٹر وے پر کیوں آئی،عورت کے معاملے میں یہ ہمارا عمومی رویہ ہے رات کے کسی پہر مرد کہیں بھی جا سکتا ہے مگر عورت نہیں جا سکتی اور اگر وہ گئی تو یہ سوال ضرور پوچھا جائیگاکہ رات کے اس پہر عورت گھر سے کیوں نکلی اور اس سوال کے پیچھے یہ نیت بھی موجود ہے کہ رات کے پہر نکلنے پر عورت کے کردار کی چھان بین بھی کر لی جائے،اور چسکے بھی لئے جائیں ،اس رویئے کے پیچھے تاریخ بھی ایک کہانی سناتی ہےمدر سری نظام دنیا میں موجود تھا جب عورت قبیلے کی حکمران تھی مگر مرد کی طاقت نےمدر سری نظام کو پدر سری نظام میں بدل دیا اور عورت مرد کی باندی بن گئی عورت ناقص العقل کبھی نہ تھی اور نہ ہے مرد کی فوقیت اس کی جسمانی طاقت میں ہے،اور اپنے فیصلے ٹھونسنے کی ضد،یہ سب طاقت کے بل پر کیا گیا کیونکہ عورت جسمانی طور پر کمزور تھی،ایسا ساری دنیا میں ہوا،عورت کو جانوروں کی طرح Treatکیا گیا، Amber Rodriguez نے اپنی کتاب Discrimination in societyمیں لکھا کہ پرانے زمانے میں بیلوں، گائے اور بھینسوں کے گلے میں گھنٹی باندھ دی جاتی تھی تاکہ گھنٹی ان کی موجودگی کا احساس دلا سکے جب تک گھنٹی کی آواز آتی رہتی کسان یکسوئی سے کھیتوں میں اپنا کام کرتا رہتا جب گھنٹی کی آواز بند ہو جاتی تو کسان ان کو تلاش کر لیتا، اور واپس ان کے تھان پر لے آتا اسی طرح پرانے زمانے میں لوہے کے موٹے موٹے کڑے عورت کے پاؤں اور ہاتھوں میں پہنا دئے جاتے ،جب تک ان کی وآواز آتی رہتے یہ یقین کر لیا جاتا کہ عورت موجود ہے،آواز نہ آتی تو تلاش شروع ہوتی اور عورت کو واپس گھر کے صحن میں لایا جاتا اس دوران تشدد بھی روا رکھا جاتا،وقت گزرتا گیا کلچر تبدیل ہوا اور وہی موٹے موٹے کڑے آہستہ آہستہ زیورات میں تبدیل ہوگئے خوبصورت چوڑیوں،کنگن پازیب اور پائل میں تبدیل ہوگئے ،اب یہی زیورات عورت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں،اور عورتیں انہیں بہت چاؤ سے استعمال کرتی ہیں،زیورات چاندیاور سونے سے گزر کر ڈائمنڈ تک پہنچ چکے ہیںزیورات میں اب زمرد یاقوت اور دیگر قیمتی پتھروں کا استعمال کیا جاتا ہے،شکل کیسی بھی تبدیل ہو جائے زیورات کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہو جائیں مگر یہ غلامی کو ہی represent کرتے ہیں ایک خاص ترکیب کے تحت زیورات سے انسیت عورت کے دل و دماغ میں بٹھائی گئی اب کنگن ، انگوٹھی چوڑیاںاور نیکلس مرد کی محبت کو ظاہر کرتے ہیں جب یہ زیورات عورت کو پیش کئے جاتے ہیں تو عورت کے دل و دماغ میں رومانس کی ایک فضا پیدا ہوجاتی ہے،Elizabeth Kahn (اس لفظ کو خان سے خلط ملط نہ کیا جائےجہاں تک میری معلومات ہیں Kahn ایک یہودی قبیلہ کا نام ہے)نے لکھا کہ زمانہء قدیم میں مختلف عورتوں کو یہ بھی سکھایا جاتا تھا کہ وہ مردوں سے محبت کا اظہار کیسے کریں Elizabeth Kahn
کا اشارہ خاص طور پر گریک اور انڈین تہذیبوں کی جانب ہے ،گریک تہذیب نے جلد ہی اس روش کو متروک کر دیا مگر ہندوستان میں محبت کا اظہار عورت کی جانب سے ہی ہوتا رہا، اس نے آہستہ آہستہ گیت کی شکل اختیار کر لی ان گیتوں میں عورت اپنے آپ کو بہت کمتر ثابت کرتی ہے اور مرد کی توجہ کی طالب ہوتی ہے،ایک ہندوستانی گیت جو کسی فلم کا حصہ بھی رہا بہت مقبول ہوااس کے بول کچھ اس طرح ہیں ،۔۔میں تلسی تیرے آنگن کی،ہندوستان کے ایک مشہور شاعر مہدی علی خان نے کچھ گیتوں میں نسائی جذبات کی بہت اچھی ترجمانی کی ہے،میرا جی کے ہاں بھی یہ کیفیت موجود ہے جو کہیں کہیں جنسی کیفیات کو بھی چھو لیتی ہے،ہندوستانی فلموں میں عورت کے جذبات کی ترجمانی مرد گیت نگاروں نے ہی کی ہے ویسی ہی جیسا مرد سننا چاہتا ہے قدیم زمانے سے جس طرح گیت لکھے گئے اور مقبول ہوئے عورت بھی انہی جذبات میں ڈھل گئی،کڑوا چوتھ کا برت، شوہر کے پاؤں دھلانے کی رسم آج بھی بھارت میں موجود ہےگو کہ بہت تبدیلی آگئی مگر مذہب کے ٹھیکیدار اب بھی تبدیلی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیںایک دو دہائی قبل شبانہ اعظمی نے ایک فلم فائیر میں کام کیا تھا فلم کو موضوع LGBTپر تھا Lesbian کی ایک کہانی ،فلم مقبول ہوئی تو بھارت کے بڑے پنڈت شبانہ اعظمی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ یہ کردار ادا کرکے نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہیںمگر یہ کریڈٹ بھارتی فلم انڈسٹری کو جاتا ہے کہ بالی وڈ نے بہت سے سلگتے مسائل پر فلمیں بنائیں جو کہیں نہ کہیں Women Empowerment Women enlightment کا حوالہ رہیں،مسلم معاشرے میں بھی عورت کا کردار چہار دیواری کے اندر کا ہی ہے،اسلام میں عورت مرد کی ملکیت ہی سمجھی جاتی ہے جو والد کی ملکیت سے نکل کر شوہر کی ملکیت میں چلی جاتی ہے،قرآن کی بہت سی آیات میں عورت کے کردار کوواضح کیا گیا ہے، جس کو روشن خیال طبقات میں قبول نہیں کیا جاتا،بات دور تک نہ جائے تو چند باتوں پر ہی بات ختم کرنے کی کوشش کرونگا،ایک تو آدھی گواہی کا مسئلہ ہے، جس کو ترقی پسند مسترد کرتے ہیں،دوسرے زنا کا مسئلہ جس میں شرط عائد کی گئی ہے کہ اس جرم کے شاہد چار متقی پرہیزگار مرد ہوں ،جوش کا حسِ مزاح کمال کا تھا اس مسئلے پر جوش نے کہا کہ سنگسار کی سزا زنا کی نہیں بلکہ لاپرواہی کی سزا ہے بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تحریک APWAاگر کامیاب ہو جاتی تو شائد عورت مارچ کی ضرورت نہ ہوتی مگر ایسا ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے علماء عورت کو حجاب میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں جو تعلیم نسواں کی بات کرے تو اسے ملالہ کی طرح ملک چھوڑنا پڑے گا، ملائیت میں عورت کی آزادی کا کوئی تصور نہیں کہا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہیںمگر اصل بات یہ ہے کہ ملائیت نے عورتوں کے حقوق غصب کئے ہیں ،ڈاکٹر فضل الرحمن کی کتاب Medthodology of Sunna in History دیکھیے ڈاکٹر فضل الرحمن نے ثابت کیا ہے کہ عرب قبائلی نظام کے بہت سے اصول بعینیہ اسلام کے اصول اور قوانین بن گئے ہیں،جس میں چار شادیوں کو اصول بھی ہے عرب کے بدو وحشی تو تھے ہی مگر عورتوں کہ شہوت بھی کم نہ تھی اسی لئے زنا کے ثبوت کو بہت مشکل بنا دیا گیا،پاکستان میں ملائیت عرب کلچر کی نشو و نما کو ہی اسلام مانتی ہے سعودی عرب میں اب جا کر عورت کو کچھ رعائیتیں دی ہیں ،پاکستان کے تین صوبوں میں ایک متوازی عدالتی نظام موجود ہے اور جرگے فیصلے سناتے ہیں اور کارو کاری کے الزام پر جرگے موت کی سزا تجویز کرتے ہیں یہ وبا سندھ، بلوچستان اور پختون خواہ میں عام ہے جہاں پاکستان کی ریاست کی رٹ چیلنج کی جاتی ہے، یہ معاشرے کی منافقت ہے کہ بھٹو کے اگر بلیک کوئین سے تعلقات ہوں تو شادیانے لیکن اگر بے نظیر کا کوئی اسکینڈل سامنے آجاتا تو مولوی قیامت ڈھا دیتے،مگر یہ بھی ہم نے دیکھا کہ بے نظیر کو مولاناسمیع الحق کے قدموں میں بیٹھناپڑا،پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے مگر اب بھی اصلاح کی بہت گنجائش ہے عورت کو اسلام کا نام لے کر چہار دیواری میں قید رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے،ایران میں جب عورتوں نے حجاب کے خلاف احتجاج کیا تو گولی چلی اور چند دن پہلے جب افغانستان میں افغان عورتوں نے حجاب کے خلاف احتجاج کیا تو بھی گولی چلی، مگر مساجد اور مدارس میں مولویوں کو اغلام بازی اور بچیوں کو ریپ کرنے کی آزادی ہے، اور آج تک کسی مولوی کو اس بدکاری کی سزا نہیں ملی،شاید ہم مہذب معاشرے سے بہت دور ہیں اور عورت کو سماجی آزادی کے لئے ایک طویل سفر کرنا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button