پاکستان کا مستقبل، اے آئی کے مطابق!

اے آئی (AI=articificial Intelligence) کمپیوٹرز کی طرح ایک نئے مشینی دور کی ابتدا ءہے۔اس سے پہلے کمپیوٹرز پر مختلف تلاش کے پروگرام ہوتے تھے جو آپ کے سوال کا جواب میں انہیں جتنے حوالے ملتے تھے، وہ بتا دیتے تھے۔ اکثر وہ حوالے ہزاروں میں چلے جاتے تھے۔لیکن اے آئی آپ کے سوال کا جواب ایک مضمون کی طرح لکھ دیتا ہے اور جس زبان میں چاہیں اس کا ترجمہ بھی سیکنڈز میں لکھ دیتا ہے۔سب سے مشہور پروگرام Chatgpt ہے اس کے علاوہ بھی کئی ہیں۔ کم و بیش اس کے جواب بغیر کسی مبالغہ اور bias کے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بڑی طاقتیں اس پر نظر رکھتی ہیں ان کی مرضی کے بغیر کوئی حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن چونکہ مواد اتنا زیادہ ہوتا ہے اور اتنے زیادہ ذرائع سے کہ زیادہ تر مواد سیدھا سیدھا قاری تک پہنچ جاتا ہے۔ابھی ابتدائی دور میں اے آئی بھی تجرباتی دور سے گذر رہا ہے، بعد میں ہی تعین ہو گا کہ کہ کس قدر قابل اعتبار جوابات ملتے ہیں۔ راقم نے اے آئی سے کچھ سوالات پاکستان کے بارے میں کئے ان سے جومعلومات ملیں وہ پیش خدمت ہیں۔دروغ بر گردن اے آئی۔
جب ہم نے پوچھا کہ پاکستان میں حکمرانی کے مسائل کیا ہیں، (بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟) تو اے آئی نے بتایا کہ حکمرانی کا عمومی مطلب ملکی اداروں کی کارکردگی پر سوال ہوتا ہے۔ اختیارات کیسے استعمال ہوتے ہیں؟اور عوامی وسائل کس حد تک موثر اور شفاف انداز میں استعمال ہوتے ہیں؟پاکستان کی تاریخ میں بار بار یہ صورتحال دیکھی گئی ہے کہ منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری نہیںکرتیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید محاذ آرائی، انتخابات کی شفافیت پر تنازعات، سیاست میں غیر منتخب اداروں کے اثر و رسوخ پر بحث، وغیرہ۔اس کے نتیجہ میںطویل المدتی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔
بہت سے شہری محسوس کرتے ہیں کہ قانون سب پر یکساں لاگو نہیں ہوتا۔بااثر افراد احتساب سے بچ جاتے ہیں۔عدالتوں میں مقدمات برسوں چلتے رہتے ہیں۔ انصاف کے حصول میں تاخیر ایک عام سی بات ہے۔جب قانون کی حکمرانی کمزور ہو تو سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
؎ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے۔باغ تو سارا جانے ہے
کرپشن کے بارے میں عام شکایات میں شامل ہیں: سرکاری دفاتر میں رشوت ستانی، سیاسی سرپرستی کا نظام، عوامی فنڈز کا غلط استعمال، سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت کی کمی، اس سے ریاستی وسائل ضائع ہوتے ہیں اور عوام کا اعتماد کمزور پڑتا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس یا مالیہ وصولی نسبتاً کم ہے۔ٹیکس ادا کرنے والوں کی محدود تعداد ہے۔ٹیکس چوری ، بعض با اثر افراد کو استثنیٰ، غیر دستاویزی معیشت کا بڑا حجم۔ نتیجتاً حکومت کے پاس تعلیم، صحت ، اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل نہیں ہوتے۔کمزور بلدیاتی نظام ہے۔ یعنی اختیارات کا بڑا حصہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کے پاس مرتکزہے۔ جب کہ مضبوط بلدیاتی نظام بہتر انداز میں حل کر سکتا ہے۔جیسے پانی کی فراہمی، صفائی ، ستھرائی، مقامی سڑکیں، کمیونٹی کی خدمات،وغیرہ۔ لیکن پاکستان میں سیاسی اور خودغرضانہ مفادات کی وجہ سے بلدیاتی نظام کو پنپنے نہیں دیا جاتا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ورثہ میں ایک منظم سول سروس ملی تھی لیکن اس میں اب مسائل ہیں۔ غیر ضروری دفتری کاروائیاں، فیصلوں میں تاخیر، افسران کے بار بار تبادلے، انتظامی امور میں سیاسی مداخلت، جن سے ترقیاتی منصوبے اور عوامی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ان کے علاوہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کا ناقص انتظام ہے جیسے اساتذہ کی غیر حاضری، سرکاری سکولوں کا ناقص معیار، نگرانی کا کمزور نظام،صحت کی سہولیات تک غیر معیاری رسائی۔اسی وجہ سے اخراجات کے باوجود نتائج تسلی بخش نہیں ہوتے۔پاکستان میں حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم بحث یہ ہے کہ ریاستی امور میں میں منتخب اور غیر منتخب اداروں کا کیا کردارہونا چاہیے؟
پاکستان میں آبادی کی افزائش سے پیدا ہونے والے حالات میں، رہائش کی قلت، ٹریفک کے مسائل، پانی کی کمی، آلودگی،کچی آبادیوں جیسے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔احتسابی اداروں کی کمزوری جیسے کہ پارلیمان، عدلیہ، آڈٹ ادارے، انتخابی ادارے اور انسداد بد عنوانی کے ادارے ریاستی نگرانی کے لیے موجود ہیں لیکن ناقدین کے مطابق ان کی خود مختاری یقینی نہیں ہوتی۔وسائل محدود ہوتے ہیں اور قوانین کا نفاذ یکساں نہیں ہوتا۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ بہت سے ماہرین کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پالیسی بنانا نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، تعلیمی پالیسیاں موجود ہیں لیکن لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے۔ٹیکس کے قوانین موجود ہیں لیکن وصولی کمزور ہے۔ انسداد بد عنوانی کے قوانین موجود ہیں لیکن نفاذغیر مساوی ہے۔ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں لیکن تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔ہونا کیا چاہیے؟ قانون کی بالا دستی، ٹیکس نظام میں اصلاحات، معیاری تعلیم میں سرمایہ کاری، مضبوط بلدیاتی نظام، ریاستی اداروں کی خود مختاری،سرکاری اخراجات میں کمی اور شفافیت، میرٹ پر مبنی سول سروس اور سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی تسلسل۔
ان مندجہ بالا گذارشات کا ما حصل ہے، کہ پاکستان کے پاس صلاحیت، قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے۔ اصل چیلنج وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ایسے ادارے بنانا ہے جو شفاف، جوابدہ، میرٹ پر مبنی، اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر سکیں۔ اگر ریاست تعلیم، قانون کی حکمرانی، ٹیکس اصلاحات اور موثر ادارہ سازی پر توجہ دے تو پاکستان کی ترقی کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن اے آئی نے جو اگر اس کا استعمال کیا ہے وہیں تو ساری خرابی کی جڑ ہے۔ نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی۔
راقم کو معلوم ہے کہ پاکستان کا ایک عظیم الشان مسئلہ اس کے قرضہ جات ہیں جو پاکستان نے ملکی اور غیر ملکی ذرائع سے لیے ہوئے ہیں۔ اور ان کو اُتارنے کے کوئی اسباب نظر نہیں آ رہے۔ اے آئی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قرضوں کا ،معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے۔ لیکن ناقابل حل نہیں۔چیلنج یہ نہیں کہ قرضوں کا حجم کتنا ہے،جتنا ملکی صلاحیت کا ہے جس سے وہ اپنا مالیہ بڑھا سکے۔اور زر مبادلہ بھی جو قرضے اتارنے کے لیے ضروری ہے۔پاکستان کا ریاستی قرضہ دو طرح کا ہے۔ ایک تو جو ملک کے اندر سے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے لیا ہوا اور دوسرا بیرونی دنیا سے لیا ہوا جسے غیر ملکی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی قرض دینے والوں کو۔جو بڑے بڑے بیرونی قرض دینے والے ہیں، ان میں آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ترقیاتی بینک، چین، گلف کی ریاستیں جیسے سعودی عرب وغیرہ۔
قرضوں کا بوجھ اس لیے مسئلہ بن جاتا ہے کہ حکومت کی آمدنی نسبتاً کم ہوتی ہے،سود کی ادائیگی قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ لے جاتی ہے۔پاکستان اکثر برآ مدات سے کم کماتا ہے اوردرآمدات پر زیادہ خرچ کرتا ہے۔ملک کو اکثر پرانے قرضے اتارنے کے لیے، نئے قرضے لینا پڑتے ہیں۔ اس صورت حال کو انتہائی پیچیدہ کہا جائے گا۔ایک چھوٹی سی تعداد پاکستانیوں کی ٹیکس دیتی ہے، جب کہ بہت سے شعبے بالکل کم ٹیکس دیتے ہیں۔چونکہ مالیہ کم اکٹھا ہوتا ہے حکومت کو قرضے لینے پڑتے ہیں۔برآمدات کسی بھی ملک کے لیے زر مبادلہ کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے جس سے بیرونی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
ان مسائل کے ساتھ ساتھ قومیائے ادارے جیسے پی آئی اے اور کچھ بجلی بنانے کے ادارے تاریخی طور پر حکومت پر بوجھ بنے ہوئے تھے ، جس سے عوامی خزانے پر اثر پڑتا تھا۔ بجلی کے شعبہ میں قومی خزانہ پر ایک مستقل بوجھ رہا ہے۔جس میں بجلی کی ترسیل کے نقصانات،بجلی چوری، اور بلوں میں بے قاعدگی، ادائیگیوں میں دیر کے مسائل ہیں۔ان کے علاوہ، حکومتیں اکثر مسائل کے دیر پا حل کی نسبت فوری حل کو پسند کرتی ہیں ، جس سے بنیادی اصلاحات نہیں ہوتیں۔
اب اگر پاکستان دیوالیہ کی طرف بڑھ رہا ہے، تو کیا پاکستان دیوالیہ کا اعلان کر سکتا ہے؟ ہاں لیکن اس کے اثرات بہت خراب ہوںگے ۔ اس کے کرنے سے بین الاقوامی مالی لین دین رک جائے گا۔سرمایہ کاروں کا اعتمادختم ہو جائے گا۔قرضہ لینے میں مشکلات ہوں گی اور زیادہ سود پر قرضہ ملے گا۔پاکستان کی کرنسی پر بوجھ پڑے گا۔ اسی لیے زیادہ تر ممالک ڈیفالٹ کا راستہ نہیں لیتے۔اب اس کا توڑ کیا ہے؟ یہی کہ ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع تر کیا جائے۔زیادہ معاشی کار کردگی کو قابل گرفت لایا جائے۔ٹیکس کے نظام کو بہتر کیا جائے۔اور چھوٹ اور ٹیکس سے بچنے کے راستے ختم کیے جائیں۔ پاکستان کو زر مبادلہ کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے زیادہ زر مبادلہ کمانا ہو گا۔جن کاموں سے زیادہ زر مبادلہ مل سکتا ہے ان میں شامل ہیں: ان میں کپڑوں کی تجارت، اطلاعات کے شعبہ میں خدمات کا اضافہ،زراعت اور خوراک بنانے میں بہتری، انجنیئرنگ کا مصنوعات، اور دوائیوں کی پیداوار شامل ہیں۔جو ریاستی ادارے کاروبار میں ملوث ہیں ان میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان میں پیشہ ور انتظامیہ لانی چاہیئے۔سرکاری اور نجی شعبوں کے ملاپ سے ادارے چلائیں۔جہاں نج کاری سے فائدہ نظر آتا ہو تو وہاں نج کاری کی جائے۔بہتر سرکاری کار کردگی اور موثر احتساب کی ضرورت ہے۔ طویل مدتی قرضوں سے کام لینا پیداوار پر منحصر ہے۔ملک اکثر اپنے قرضے اقتصادی ترقی سے اتارتے ہیں، اور ایسی ترقی کا راز افرادی قوت کا ہنر مند ہونے میں ہے۔ان کے علاوہ آبادی کی افزائش پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ کم افزائش سے آمدنی میں اضافہ اور عوامی خدمات میں بہتری آتی ہے۔
انتہائی اہم نکتہ: سرمایہ کار اور کاروبار تب ہی زیادہ پیسہ لگائیں گے جب انہیں پتہ ہو کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔
کیا قرضے معاف کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ہنگامی حالات میں تو اس سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے لیکن یہ کم ہی مستقل علاج ہے۔جب تک بنیادی اصلاحات نہیں ہوںگی، یہ ملک ہنگامی امداد ملنے کے بعد اور قرضے چڑھا لیتے ہیں۔ارجینٹیا اور یونان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ان سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ صرف بنیادی اصلاحات ان مسائل کے حل کے لیے کافی نہیںہوتیں، جو مالی مشکلات کی تہ میں ہوتے ہیں۔
پاکستان کی قرضوں کی صورت حال خاص تشویشناک ہے لیکن اسے قابومیں لایا جا سکتا ہے اگر:
ٹیکس سے حاصل کردہ مالیہ میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے۔برآمدات میں درآمدات سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے۔ بجلی کے شعبہ میں نقصانات میں واضح کمی کی جا سکے ۔اور ریاست کی نگرانی میں چلنے والے اداروں میں اصلاحات کی جا سکیں۔اور آخر میں اقتصادی حکمت عملی کئی سال تک مسلسل برقرار رکھی جا سکے۔مصنوعی ذہانت کو بہت کچھ معلوم ہے ، جو اس کونہیں معلوم یا وہ اخلاقی طور پر نہیں بتانا چاہتا، وہ یہ ہے ملک میں ایسے طاقتور عناصر موجود ہیں، جن کو یہ حالات سوٹ کرتے ہیں۔ وہ قانون ساز اسمبلی میں ہیں، انتظامیہ کی بڑی کرسیوں پر بھی ہیں اور وزارتوں میں بھی براجمان ہیں۔ اس لیے حالات نہیں بدلیں گے۔



