Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

تاریخ تو اپنے آپ کو دہرائے گی !

مرزا غالب کا زمانہ وہ تھا جہاں شرفاء، اصل معنی میں شریف نہ یہ کہ نام نہاد شریف ہوا کرتے تھے اوراپنے کردار کی بنیاد پہ معاشرہ میں معزز گردانے جاتے تھے!تو مرزا جیسے خاندانی لوگوں کو یہ بھی عرفان ہوتا تھا کہ قاصد کے ہاتھ انہوں نے محبوب کو جو پیغام بھجوایا تھا اس کا جواب کیا آئے گا۔ یہ مرزا جیسے صاحبان علم و دانش کا اِدراک تھا کہ بقول شخصے "خط کا مضمون جان لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر۔” عرفان و اِدراک کو اس میں دخل ہوتا تھا، مرزا جیسے صاحبان شرافت و عرفان کوئی ہوا میں تیر نہیں چلاتے تھے کہ تیر نشانہ پہ لگا توتخت ورنہ نہ لگا تو تختہ!
یہی فہم و اِدراک تھا جو مرزا کا اس شعر کا محرک بنا کہ :
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں!
یہ دور جسے پاکستان کے پچیس کڑوڑ عوام جھیلنے پہ مجبور ہیں صرف نام کے شریفوں کا ہے جو پاکستانیوں کے سینے پر دن رات مونگ دل رہے ہیں اور جن کی شہرت پاکستان کی لغت میں اشرافیہ کے عنوان سے ہے!یہ نام نہاد اشرافیہ نہ خاندانی شرفاء کی ہے نہ ان کا تعلق اس طبقہء اشرافیہ سے ہے جو پوتڑوں کے رئیس کہلاتے تھے۔اس نام نہاد اشرافیہ کی اصل حقیقت اس رذیلیہ کی ہے جسے پاکستان کی بدنصیبی سے عسکری طالع آزماؤں نے صرف اور صرف اپنی منفعت اور اپنی ہوسِ اقتدار کے فروغ کیلئے پروان چڑھایا ہے کیونکہ وہ جو کہاوت ہے کہ
کند ہم جنس باہم پرواز
کبوتر با کبوتر باز بہ باز!
تو یہ نام نہاد اشرافیہ بھی معاشرہ کے اس طبقہ سے تعلق رکھتی ہے جو نو دولتیوں، اٹھائی گیروں اور نوسربازوں پر مشتمل ہے۔ ہر عسکری طالع آزماء نے، خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے لیکر موجودہ خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تک، ہر عسکری طالع آزماء نے اپنی آمریت کو جمہوریت کا لبادہ پہنانے کی نیت سے معاشرہ کی تلچھٹ کو، جو نہ خاندانی ہے نہ موروثی امیر، بلکہ نودولتیوں اور نوسربازوں کی نمائندگی کرتی ہے کو، ہوا دی ہے، اس کی سرپرستی کی ہے تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں اور پاکستان کے سادہ لوح یا بے حس عوام کو یہ باور کرواسکیں کہ ملک میں آمریت نہیں بلکہ جمہوریت کا نظام ہے جس میں ان کا کوئی کردار نہیں بلکہ عوام کے نمائندے ان پر حکومت کر رہے ہیں !جبکہ پاکستان کی بدنصیبی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر عسکری طالع آزماء نے ان چھٹ بھیوں کو ریاست کی بساط پر مہروں کی طرح استعمال کیا ہے اور ان نوسربازوں کو اقتدار کی مسند پہ بٹھاکر کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا ہے۔ اصل طاقت اور اقتدار کا منبع جرنیلوں کی کمیں گاہ، یعنی جی ایچ کیو، میں ہوتا ہے لیکن دنیا کو باور کروانے کیلئے ان کٹھ پتلیوں کو نچایا جاتا ہے اور یہ نام نہاد اشرافیہ اپنے آقاؤں کی خدمت یوں کرتے ہیں کہ عوام کو یہ میٹھی گولی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کی، یعنی عوام کی، نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ صرف اور صرف ایوب خان کی، یا یحییٰ کی، یا ضیا الحق کی، یا پرویز مشرف کی یا عاصم منیر کا حقِ نمک ادا کرتے ہیں جنہوں نے ان کٹھ پتلیوں کو پاکستانی عوام کی غفلت اور بے حسی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے سروں پر تھوپا ہے !پاکستان کی تاریخ میں ان عسکری طالع آزماؤں کا ہر دور صرف اور صرف معاشرہ میں انحطاط اور زوال کا سبب بنا ہے ! ایوب سے لیکر عاصم منیر تک ہر طالع آزماء نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور دوام بخشنے کی نیت سے سیاسی کلچر کا حلیہ بگاڑا ہے اور عاصم منیر کی چنگیزی میں یہ زوال اور انحطاط اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے !مرزا غالب کے دور کو شرفاء کو اپنے علم و عرفان کی بنا پر علم ہوتا تھا کہ ان کا مقابل ، چاہے وہ ان کا محبوب ہی کیوں نہ ہو، جواب میں کس ردِ عمل کا نقشہ پیش کرے گا !سپاہی ویسے بھی عقل و خرد سے بیگانہ سمجھے جاتے ہیں۔ ہاں ان میں مکاری کا عنصر غالب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ملت فروشی کا خمیر بھی بہت گہرا ہوا کرتا ہے۔تو عقل و دانش کا فقدان انہیں یہ طفل تسلی دیتا رہتا ہے کہ تاریخ کے عمل کا بہتا ہوا دھارا ان کیلئے رک جائے گا، تھم جائے گا لیکن تاریخ کا دھارا کبھی نہیں رکتا۔ کسی صاحبِ عرفان و دانش نے کہا تھا کہ جو قوم یا گروہِ انسانی اپنی تاریخ کو یاد نہیں رکھتی وہ اسے دہرانے پہ مجبور ہوتی ہے!
اور پاکستان کی بدنصیبی یہ ہے کہ ہر طالع آزماء کو اپنی طاقت کا زعم رہا ہے اور اسی گھمنڈ میں اس نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔یحییٰ خان کو زعم یہ تھا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر بنگالیوں کی، جو متحد پاکستان میں غالب اکثریت میں تھے، نسل بدل دے گا لیکن بنگالیوں نے اس کی حماقت اور گھمنڈ کا یہ جواب دیا کہ انہوں نے اپنی مزاحمت سے، اپنی جد و جہد سے یحییٰ کی آمریت سے نجات حاصل کرلیاور آزاد بنگلہ دیش وجود میں آگیا!لیکن یحییٰ اور اس کے جرنیلی ٹولہ کی حماقت اور زعم نے قائد کے پاکستان کو دو لخت کردیا!آمر عاصم منیر کو یحییٰ سے کہیں بڑھ چڑھ کر اپنی طاقت کا زعم ہے۔ یحییٰ میں تو پھر بھی خاندانی شرافت تھی اگرچہ اس کی بادہ نوشی نے اس خاندانی شرافت کو تار تار کرکے رکھ دیا لیکن عاصم منیر جیسا نوسرباز تو خاندانی شرافت سے قطعا” تہی ہے۔ سیر کے برتن میں سوا سیر پڑجانے کی کہاوت اس کم ظرف پہ سو فیصد صادق آتی ہے لیکن ہر کم ظرف کی مانند یہ بھی اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ جو اس کے پیشروؤں کے ساتھ ہوا وہ اس کے ساتھ نہیں ہوگا!قدرت کے قوانین میں بدلاؤ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی جگہ ہر صورت میں اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے قدرت کا منشاء ہوتا ہے۔ اور قدرت کے اصولوں میں ایک نہ بدلنے والا عنصر یہ ہے کہ وہ ہر طالع آزماء کی قبر خود اس کے ہاتھوں سے ہی کھدواتی ہے۔ضیا الحق نے ملک کی عزت و غیرت کا سامراجی طاقت کے ساتھ جو سودا کیا وہ آخیر میں ان کیلئے ہی موت کا پروانہ بن گیا!پرویز مشرف نے پاکستانی شہریوں کو سامراج کے ہاتھوں باقائدہ بیچا اور ان کی عزت کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کی غیرت کا بھی سودا کیا۔ اس گندے کھیل میں بدترین مثال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہے جنہیں پرویز مشرف کی آمریت نے امریکہ کے حوالہ کیا اور وہ شریف خاتون آج بھی امریکی انصاف اور عدل کے تہی دامن ہونے کی بدترین مثال بنی ہوئی امریکہ کی جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے پہ مجبور ہیں لیکن کسی پاکستانی حکومت کو آج تک یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ایک معصوم پاکستانی خاتون اور سائنسدان کی رہائی کیلئے امریکی حکومت سے بات چیت کرے!پرویز مشرف کا جو انجام ہوا اس کا عبرتناک سبق ہر ذی شعور پاکستانی کے سامنے ہے سوائے عاصم منیر کے کہ اسے آج بھی یہ زعم ہے کہ اس کا انجام مشرف سے الگ ہوگا!لیکن اس زعم میں مبتلا وہ ایک اور سبق بھول بیٹھا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ضرور ہے اور اس عمل میں جب پہلی بار وہ اپنے کو دہراتی ہے تو وہ مذاق ہوتا ہے لیکن جب دوبارہ دہراتی ہے تو المیہ ہوتا ہے!عاصم منیر کی ایک بہت بڑی کمزوری اس کا بغضِ عمران خان ہے!ایک فرد کے کم ظرف ہونے کی سب سے بڑی نشانی اس کا منتقم مزاج ہونا ہے!عمران خان نے اپنے دورِ اقتدار میں اس کو کرپشن نہیں کرنے دی تھی اس کا بدلہ یہ نہ صرف عمران خان سے لے رہا ہے بلکہ پوری قوم سے!اس بے ضمیر نے 8 فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر شبخون مار کے پاکستانی جمہور کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا اور ان چھٹ بھئیوں کو، نام نہاد شریف خاندان کے نوسرباز اور ڈکیت آصف زرداری ، قوم پر مسلط کردئیے جنہیں عوام مسترد کرچکے تھے لیکن عاصم منیر اور بدعنوان ملت فروش جرنیلی ٹولہ کو ایسے ہی چور اور ڈکیت بھاتے ہیں جنہیں وہ مہروں کی طرح استعمال کرسکیں اور ریاست ک اسٹیج پر نچاتے رہیں اسلئے کہ ان کی ڈوریاں تو پردے کے پیچھے سے بدعنوان اور کرپٹ جرنیل کھینچ رہے ہوتے ہیں !تو 8 فروری کی سیاہ تاریخ گلگت- بلتستان کے عام انتخابات میں من و عن دہرائے گئی اور عمران خان کی تحریکِ انصاف کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تاکہ عاصم نیر کا سکہ چلتا رہے !نام نہاد آزاد جموں اور کشمیر می افراتفری ہے، بدنظمی اور انتشار ہے، بلوچستان جل رہا ہے اور دہشت گرد اپنے پاکستان دشمن غیر ملکی سرپرستوں کی امداد سے دنداناتے پھر رہے ہیں لیکن جیسے یحییٰ کو زعم تھا کہ وہ بنگالیوں کی نسل بدل دے گا عاصم منیر کا گماشتہ، ملت فروش محسن نقوی، بھی ڈینگ مار رہا ہے کہ بلوچ دہشت گرد تو پولیس کے ایک ایس ایچ او کی مار ہیں !یہ محسن نقوی کہاں سے آیا ہے، کس زمین کی پیداوار ہے یہ کوئی نہیں جانتا لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ ساری دنیا ایک طرف اور جورو کا بھائی ایک طرف تو اسی زعم میں محسن نقوی پاکستان کا سب سے نمایاں ایلچی بن گیا ہے ! وہ ایلچی جسے اتنی بھی تمیز نہیں ہے کہ شرفاء کسی مجلس یا محفل میں آستینیں چڑھاکر نہیں بیٹھتے لیکن یہ ایرانی قائدین کے ساتھ مذاکرات میں بھی آستینیں چڑھا کر بیٹھتا ہے اور اس کے لومڑی جیسے چہرے پر وہ مسکراہٹ ہوتی ہے جیسے کہہ رہا ہو کہ کوئی میرا بگاڑ کیا سکتا ہے!تو عاصم منیر کے مقبوضہ پاکستان میں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ طالع آزماء اپنی جہالت اور گھمنڈ میں اس حقیقت سے بالکل نابلد ہے کہ یہ عمل اس کے اپنے نصیب کیلئے بھی المیہ بن جائے گا اور پاکستان کا جہاں تک سوال ہے تواس کے عوام اپنی بے حسی سے اپنے زوال کا ایک اور باب رقم کر رہے ہیں !۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button