زوال تو کب کا شروع ہوچکا ؟!

نہیں، یہ وطنِ مرحوم پاکستان کے حوالہ سے ذکر نہیں ہے اسلئے کہ وہ ملک جس کا بنانے والا ایک انتہائی روشن ضمیر انسان تھا اپنے آزاد وجود کے پانچ برس کے بعد ہی ان بے ضمیر اور تاریک ذہن کے ملت فروشوں کے ہاتھ چڑھ گیا تھا جنہوں نے اس نوزائیدہ ملک کو ایسے اپنی عفریتی گرفت میں لیا کہ آجتک وہ گرفت ڈھیلی نہیں ہوسکی۔ابتدائی عفریتوں کے مقابلہ پر آج جو عفریت پاکستان پر مسلط ہیں ان کا تو کیا ہی کہنا کہ وہ بے ضمیری میں بھی لاثانی ہیں اور ملت فروشی میں تو وہ اپنے پیشروؤں کو میلوں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ان کی آہنی گرفت میں وطنِ مرحوم کراہ رہا ہے اور وہ تنِ مردہ ہوچکا ہے جس سے روح کب کی نکل چکی ہو اور وہ اب محض ایک جسد خاکی رہ گیا ہو!وطنِ مرحوم کے حق میں اب دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ اس ملک پر رحم کرے جو اس کے نام سے منسوب کیا گیا تھا لیکن جس پر شیاطین کا تسلط ہے کہ ٹوٹنے نہیں پارہا اور جسے عسکری طالع آزما اپنی ہوسِ اقتدار کیلئے قطرہ قطرہ نچوڑرہے ہیں اور کوئی نہیں ہے کہ ان کے ملت فروشی کے کاروبار کو روکنا یا بند کرنا تو درکنار اس کی رفتار مدھم بھی کرسکے !یہ زوال تو اس طاقت سے متعلق ہے جو اپنی طاقت کا لوہا دنیا بھر سے منوانے کے جنون میں کب سے گرفتار ہے۔ امریکہ کے وجود کو مہینہ بھر بعد کچھ نہیں تو ڈھائی سو برس ہوجائینگے لیکن اس عرصہ میں یہ بدمست طاقت دنیا بھر میں جنگ و جدال میں ایسی ہمہ تن مصروف و مشغول رہی ہے کہ کوئی دس برس پہلے امریکہ کے ہی ایک سابق صدر، جمی کارٹر، نے ببانگِ دہل یہ کہا تھا کہ امریکہ نے اپنی 240 سال تاریخ میں محض چودہ برس، جی ہاں آپ نے درست سنا، صرف 14 برس، ایسے گذارے ہیں جب وہ کہیں نہ کہیں، دنیا کے کسی خطہ، کسی سرزمین پر، جنگ و جدال میں شامل نہ رہا ہو!
جمی کارٹر پھر بھی حق گو تھے اور انہوں نے حقیقت، کڑوی اور بدمزہ سہی، پر سے پردہ اٹھانے میں مصلحت کو اپنا شعار نہیں بنایا۔ لیکن امریکہ کے بہت کم رہنماؤں اور لیڈروں سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اتنی سچائی کے ساتھ اپنے ملک کی خونی تاریخ کے حقائق کا اظہار برملا کرینگے۔!جمی کارٹر کے موجودہ جانشین تو ان کا الٹ ہیں!
موصوف میں حق گوئی کے خمیر کی رمق نہیں ملتی بلکہ اس کے برعکس وہ کذب بیانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ کارٹر صاحب تو نرم خو اورمیانہ روی کا مجسم تھے لیکن موجودہ موصوف تو جب دہن کھولتے ہیں اس سے پھول جھڑنے کے بجائے انگارے برستے ہیں۔ موصوف میں دھمکیاں دینے کی بری عادت ہے ویسی ہی جیسی محلہ کے دادا گیر یا چودہری میں ہوتی ہے۔ وہ جب اپنے حریف کا ذکر کرتے ہیں تو اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے دھمکاتے ہیں کہ اگر اس نے انکی بات نہ مانی تو وہ اسے صفحہء ہستی سے مٹادینگے اور اس کا وہ حشر کرینگے کہ دنیا دیکھے !موصوف نے ایران پر اس سال رواں کی 28 فروری کو اس وقت جنگ مسلط کی اور اسے بلا جواز جارحیت کو نشانہ بنایا، اپنے صیہونی حلیف اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے، جب ایران کے ساتھ جوہری مسئلہ پر مذاکرات کا عمل جاری تھا اور عمانی وزیرِ خارجہ کے بقول ایران بہت سی شرائط مان لینے پررضامند اور آمادہ تھا۔ لیکن موصوف کو ایران سے ازلی بیر ہے ورنہ وہ اس معاہدہ سے انحراف نہ کرتے، اور اسے بے رحمی سے یکطرفہ طور پہ منسوخ نہ کرتے جو ان کے پیشرو صدر بارک اوباما نے دو سال کی جد وجہد اور طویل مذاکراتی عمل سے گذرنے کے بعد طے کیا تھا اور جس کے ذریعہ ایران نے خود کو پابند کرلیا تھا ان پابندیوں کا جو امریکہ اور عالمی ایٹمی توانائی کے ادارے نے اس پر لگائی تھیں!لیکن موصوف جب لب کشائی کرتے ہیں، اور بہت زیادہ کرتے ہیں، تو ایران کو نیست و نابود کرنے کی تمہید سے شروع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ایران کو ایسا مٹائینگے کہ کبھی دوبارہ آباد نہ ہوسکے!دراصل سامراجی اور استعماری گرو گھنٹال کو طاقت کا ایسا نشہ ہے جو اترتا ہی نہیں، ٹوٹتا ہی نہیں۔ وہ اپنے آپ کو ارضی خدا منوانے کے جنون میں مبتلا ہیں حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ وہ دروغ گو ہیں اور لفظوں کے تیر برسا رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں!ایران نے ان کے گھمنڈ کو خاک چٹوادی ہے لیکن پھر بھی ان کی دادا گیری کا زہر ایسا ان کی رگوں میں پیوست اور جاگزیں ہے کہ ان سے حقیقت کا اعتراف نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کے اسلحہ کےذخائر کو تہس نہس کردیا ہے۔ اگر کردیا ہے ، حضور، تو پریشانی کیا ہے؟ آپ کو تشویش کیوں لاحق ہے؟ان کے جنگی جنون اور دادا گیری کے جواب میں انہیں اگر کسی نے سبق پڑھایا ہے تو چین نے!چین کی قیادت میں بے انتہا تحمل ہے، بردباری ہے، شرافت ہے اور یہ وہ اوصاف ہیں جو سامراجی گرو گھنٹال میں سرے سے ناپید ہیں!پچھلے دنوں موصوف چین کے دو روزہ دورے پہ تشریف لےگئے تھے جس کی تیاریاں مہینوں سے ہوری تھیں اور دنیا بھر میں اس دورہ کا چرچا تھا، ہاہاکار تھی۔ موصوف کا انداز تو وہی ارضی خدا کا تھا جس کے مقابلہ پر چین کے صدر شی جنپنگ تھے، مسکراتے ہوئے اور صرف اس وقت لب کشائی کرتے ہوئے جب تکلم درکار ہو!صدر شی جنپنگ نےموصوف کے استقبال میں ان کا نشہ اتارنے کا مظاہرہ کیا اور بقول شخصے اس استقبال میں سرد مہری صاف عیاں تھی! کہاوت کے بقول شی جنپنگ نے موصوف کو ٹھنڈے پانی کا غسل دیکر ان کا نشہ اتارنے کی کوشش کی لیکن موصوف اپنے سحر میں ایسے گرفتار ہیں کہ اللہ دے اور بندہ لے!چین نے فقید المثال اقتصادی ترقی کے ذریعہ اپنا لوہا منوایا ہے۔ ایک دنیا چین کی ترقی پر عش عش کر رہی ہے اور کھل کے داد دے رہی ہے سوائے استعماری اور سامراجی مغربی ممالک کے۔ اور یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے اپنے عروج کے دور میں چین کے عوام کو افیون کی لت میں مبتلا کرنے کی مذموم کار روائی کی تھی۔ لیکن چینی افیمی نہیں بنے اور بقول ہمارے حکیم الامت علامہ اقبال کے
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ سے چشمے ابلنے لگے
تو چین نے نہ صرف اپنے وسائل کو اپنی اقتصادی اور معاشی ترقی کیلئے استعمال کیا بلکہ اب وہ اپنے وسائل کو ایشیا اور خاص طور پہ افریقہ کے ترقی پذیر ممالک کی ترقی کیلئے بروئے کار لا رہا ہے!امریکی سامراج نے دنیا بھر میں جنگوں پر اپنے وسائل صرف کئے ہیں، لٹائے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں امریکی عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں جبکہ چین نے تیس برس کی ہوشربا ترقی کے ذریعہ اپنے کڑوڑوں غریب عوام کو غربت سے نکال کر فراغت کی زندگی عطا کردی !
یہ ہے فرق کمال و زوال کا !
وسائل کا درست استعمال کمال کی سمت لیجاتا ہے اور وسائل کا غلط استعمال اور زیاں زوال کی تحریر رقم کرتا ہے۔ اور وہ جو کسی دانشور نے کہا تھا کتنا صحیح تھا کہ
ہر کمال را زوال !
تو اے ہوشمندو تاریخ کا سبق یاد کرو اور اس سے روشنی لو تاکہ زوال سے بچ سکو۔ تاریخ وہ آئینہ ہے جس کی روشنی میں خد و خال نظر آجاتے ہیں اور تاریخ کا آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا!لیکن نادان تاریخ کو بھی جھٹلاتے ہیں اور یوں وہ گڑھا کھودتے ہیں جس میں گر کر باہر نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔ لیکن جس میں بدی کوٹ کوٹ کر بھری ہو وہ گڑھےکے دہانے پر کھڑا ہوکر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاؤں عرش پرہیں۔ ایسے جنونی اور اپنے سحر میں مبتلا انسان کا کیا علاج ہے ؟
عالمی مداری نے ڈنڈا پھر گھمایا ہے
جنگ کے جنوں نے اب گل نیا کھلایا ہے
چاہتا ہے دنیا بھر اس کے حکم کو مانے
امن کا لبادہ پھر ظلم پہ سجایا ہے !



