Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

تہذیبوں کا تصادم یا مفادات کی جنگ؟دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری اور عسکری حکمتِ عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ تصور پیدا کیا گیا کہ اب دنیا ایک نئے عالمی نظم کے تحت امن، جمہوریت اور معاشی ترقی کی طرف بڑھے گی، مگر عملی طور پر ایسا نہ ہو سکا۔ آج بھی دنیا جنگوں، طاقت کے توازن، معاشی کشمکش، مذہبی انتہا پسندی اور تہذیبی اختلافات کی لپیٹ میں ہے۔اسی تناظر میں امریکی مفکر Samuel P. Huntington کا نظریہ “تہذیبوں کے تصادم” دوبارہ عالمی بحث کا مرکز بنتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنی معروف کتاب The Clash of Civilizations میں ہنٹنگٹن نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مستقبل کی جنگیں نظریات یا جغرافیے کی بنیاد پر نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور مذہبی شناختوں کی بنیاد پر ہوں گی۔اگر موجودہ عالمی حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا واقعی شناخت کی سیاست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور China کے درمیان کشیدگی صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور تہذیبی بالادستی کی جنگ بھی ہے۔مغرب اور زیادہ یورپ میں اسلاموفوبیا، اور مہاجرین کے بحران اور قوم پرستانہ سیاست کا ابھار بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دنیا میں ثقافتی تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے۔تاہم یہ کہنا بھی مکمل درست نہیں ہوگا کہ دنیا صرف تہذیبوں کے تصادم سے چل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں مفادات ہمیشہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ Russia اور Ukraine کی جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ہی تہذیبی دائرے سے تعلق رکھنے والی ریاستیں بھی طاقت، سرحد اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر آمنے سامنے آ سکتی ہیں۔ اسی طرح مسلم دنیا کے اندرونی اختلافات بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مذہبی یا تہذیبی یکسانیت ہمیشہ اتحاد کی ضمانت نہیں ہوتی۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج دنیا ایک نئے عالمی توازن کی تلاش میں ہے۔ طاقت کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے۔ مغرب کی سیاسی و معاشی برتری کو اب چیلنج درپیش ہے، جبکہ ایشیا خصوصاً چین تیزی سے عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہی تبدیلی عالمی کشمکش کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف ہنٹنگٹن ہی نہیں بلکہ تاریخ کے دیگر بڑے مفکرین کو بھی پڑھنا ہوگا۔ چینی فلسفی Sun Tzu کی کتاب The Art of War آج بھی عالمی سیاست اور حکمتِ عملی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ سن زو کہتا ہے کہ “سب سے بڑی فتح وہ ہے جو بغیر جنگ کے حاصل ہو۔” یہی اصول آج سفارت کاری، معاشی پابندیوں، میڈیا بیانیوں اور معلوماتی جنگ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔آج جنگ صرف بارود سے نہیں لڑی جاتی بلکہ اطلاعات، معیشت، ٹیکنالوجی اور بیانیے کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔ جو قوم علم، تحقیق، میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کنٹرول حاصل کر لے، وہی اصل طاقت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت سے زیادہ تعلیم، تحقیق اور مصنوعی ذہانت پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔اطالوی مفکر Niccolò Machiavelli نے اپنی کتاب The Prince میں حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم نکتہ بیان کیا کہ ریاستیں صرف اخلاقی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، بروقت فیصلوں اور سیاسی حقیقت پسندی سے چلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کامیاب ریاستیں قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرتیں بلکہ ہر بحران میں اپنے اداروں اور معیشت کو ترجیح دیتی ہیں۔اسی طرح Carl von Clausewitz نے اپنی کتاب On War میں جنگ کو سیاست کا تسلسل قرار دیا۔ اگر موجودہ عالمی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اب براہِ راست جنگ کے بجائے “ہائبرڈ وار” کے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں میڈیا، سائبر حملے، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے اس تمام صورتحال میں ایک واضح سبق موجود ہے۔ جذباتی نعروں، وقتی سیاست اور اندرونی تقسیم کے ذریعے کوئی قوم عالمی سطح پر باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ اصل طاقت مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، انصاف پر مبنی نظام اور قومی اتحاد میں ہوتی ہے۔بدقسمتی سے ہماری سیاست اکثر ذاتی مفادات، الزام تراشی اور وقتی بیانیوں تک محدود رہتی ہے، جبکہ دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔ آج عالمی طاقتیں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی ٹیکنالوجی اور معلوماتی جنگ کی تیاری کر رہی ہیں، مگر ہم اب بھی داخلی عدم استحکام اور سیاسی کشمکش میں الجھے ہوئے ہیں۔پارلیمانی جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ ریاستی پالیسیوں میں تسلسل ہو، ادارے مضبوط ہوں اور قومی مفادات کو سیاسی اختلافات پر فوقیت دی جائے۔ دنیا میں وہی ریاستیں ترقی کرتی ہیں جہاں پارلیمان محاذ آرائی کے بجائے قومی وژن طے کرے۔ اگر سیاست صرف اقتدار کی جنگ بن جائے تو ریاست کمزور ہوتی ہے، مگر اگر سیاست قومی حکمتِ عملی بن جائے تو قومیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔آج دنیا کو تصادم نہیں بلکہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ تہذیبوں کی جنگ انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مختلف ثقافتوں کے درمیان تعاون، برداشت اور علمی تبادلہ دنیا کو زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جنگیں وقتی فتح دے سکتی ہیں مگر پائیدار استحکام صرف انصاف، علم اور حکمت سے حاصل ہوتا ہے۔ طاقت کا اصل معیار ہتھیار نہیں بلکہ تعلیم، معیشت، تحقیق اور قومی اتحاد ہے۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور آنے والے برسوں میں وہی قومیں کامیاب ہوں گی جو جذبات کے بجائے حکمت، نعروں کے بجائے وژن، اور تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں گی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button