ٹرمپ کا دورہ اور چین کا سنہری موقع

صدر رچرڈ نکسن نے 1972 میں چین کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ امریکہ اور چین کا سربراہی اجلاس دنیا کو تبدیل کر سکتا ہے۔ اسوقت ایسا ہی ہوا تھا۔ سرد جنگ کے اس دور میں چین اگر روس کا ساتھ دیتا تو دنیا آج یقیناّّ مختلف ہوتی۔ صدر نکسن کے دورے کا مقصد یہ تھا کہ چین کو ہر صورت سوویت یونین کے بلاک میں شامل ہونے سے روکا جائے۔ گزشتہ ہفتے جب صدر ٹرمپ بیجنگ گئے تو عام تاثر یہی تھا کہ دونوں عالمی طاقتوں کے ما بین اعلی سطح کے مذاکرات دنیا میں امن قائم کرنے اور عالمی معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے مگر صدر ٹرمپ کے ناقدین کہہ رہے ہیں کہ وہ بیجنگ کو بہت کچھ دینے کے باوجود قابل ذکر فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ چودہ اور پندرہ مئی کو صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونیوالی ملاقاتوں کا دورانیہ 9 گھنٹے بتایا جا رہا ہے۔ اسکے بعد سے اب تک واشنگٹن سے آمدہ اطلاعات کے مطابق چین امریکہ سے 200بوئنگ جیٹ اور 10 بلین ڈالر کی زراعتی مصنوعات خریدے گا۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے کئی امور پر بات چیت ہو ئی ہے۔ یوں انہوں نے ایک ایسے سوال کو نظر انداز کر دیا جسے امریکہ میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سمٹ میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے کھلنے پر بھی گفتگو ہوئی مگر ابھی تک اسکا بھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ صدر ٹرمپ کو امید تھی کہ چین ایران پر اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اسے امریکہ کی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ کر لے گا لیکن چین نے ایسا کرنے پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ اس بابت چین نے یہ مئوقف اختیار کیا ہے کہ ایران ایک خود مختار ملک ہے اور اسے دوسرے ممالک کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس اعتبار سے اس سمٹ میں بین الاقوامی نوعیت کے کسی بھی اہم مسئلے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اتنی کمزور پوزیشن میں بیجنگ گئے کہ انکا وہاں سے کسی کامیابی کے بغیر واپس آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ وسط مارچ میں ہونے والے اس دورے کو اس لیے مئوخر کیا گیا کہ صدر ٹرمپ ایران کو واضح شکست دینے کے بعد بیجنگ جانا چاہتے تھے۔ اس صورت میں وہ ایک طاقتور ملک کے سربراہ کے طور پر اپنی حریف عالمی طاقت کا دورہ کرتے۔ لیکن ایران جنگ کی طوالت اورجنگ بندی کی غیر یقینی صورتحال نے یہ طے کر دیا ہے کہ امریکہ ایک کمزور ملک کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا۔ داخلی محاذ پر امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے دوسرے ممالک پر ٹیرف لگانے کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دے کر انہیں مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے افراط زر اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے امریکی عوام کو شدید معاشی مشکلات سے در پیش ہیں۔ حال ہی میں Sienna College کے ایک سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت 37% تک آ چکی ہے۔ صدر شی جن پنگ اپنے امریکی ہم منصب کی ان کمزوریوں سے بخوبی آگاہ تھے اس لیے انہوں نے انکا خوب فائدہ اٹھایا۔
امریکہ کے اندراور باہر ایسے خبر رساں اداروں کی کمی نہیں جو صدر ٹرمپ کے اس دورے کو کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ صدر امریکہ کے دورے سے پہلے ہی فاکس نیوز چینل نے اسے تاریخی اہمیت کا حامل قراردے دیا تھا۔ اسوقت سے اب تک اس نیوز چینل کے اینکرز چین میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی تعریف و توصیف کر رہے ہیںمگر حقائق انکے مئوقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات کا انحصار کئی ایسے عوامل پر ہے جو عالمی امن کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں ایران جنگ‘ تائیوان پر دونوں ممالک کا معاندانہ مئوقف‘ عالمی معیشت کے تنازعات‘ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلائو کی روک تھام‘ مصنوعی ذہانت کے مضر اثرات اور کئی دیگر مسائل شامل ہیں۔ سترہ مئی کے نیویارک ٹائمز کے پہلے صفحے کی خبر میں لکھا ہےPresident Trump departed Beijing on Friday with almost nothing concrete to show for his two-day summit. اخبار نے صدر ٹرمپ کی اس تہی دامنی کی یہ وجہ بتائی ہے کہ وہ بغیر کسی تیاری کے اس سمٹ میں گئے تھے اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں انکی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔انکے بر عکس صدر شی جن پنگ نے اپنے مشاہیر سے صلاح مشورے کے بعد طے شدہ ایجنڈے کے مطابق بات چیت کی۔ اسی لیے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے پہلی ملاقات میں انہوں نے سب سے پہلے تائیوان کا ذکر کیا، اس تنازعے پر جچی تلی گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ امریکہ چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ چین کے صدر نے مطالبہ کیا کہ امریکہ تائیوان کو 14بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی ڈیل منسوخ کر دے تو اس سے امریکہ چین تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کو ریپبلیکن پارٹی کے چند با اثر سینیٹروں نے پہلے سے کہہ رکھا ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی لچک نہ دکھائیں۔ صدر امریکہ نے اس دورے کے اختتام پر ائیر فورس ون میں امریکی صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے اس ڈیل کے بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ کے دورے سے پہلے ہی امریکی میڈیا میں یہ خیال آرائی ہو رہی تھی کہ چین تائیوان پر کب قبضہ کرے گا۔ ممتاز امریکی کالم نگار Ross Douthat نے لکھا ہے کہ چین تائیوان پر قبضے کے لیے اس وقت کا انتظار کرے گا جب اسے یقین ہو گا کہ امریکہ اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ وہ تائیوان کا دفاع نہیں کر سکتا۔ کالم نگار کی رائے میں یہ سنہری موقع صدر ٹرمپ کی صدارت کے بعد نہیں آئے گااور چین نے اگر اب پیش قدمی نہ کی تو پھر وہ ہمیشہ انتظار ہی کرتا رہے گا۔



